• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیکنالوجی نے سیکھنے، سمجھنے کے دورازے کھول دیئے لیکن۔۔۔

انیلہ افضال ایڈوکیٹ

دنیا ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکی ہے جہاں علم کی رفتارکافی تیز محسوس ہوتی ہے۔ کبھی علم کی تلاش میں نوجوان لائبریریوں کے چکر لگانے پڑتے، کتابوں کے صفحات پلٹنے اور استاد کے سامنے بیٹھ کر سوال کرنے کا انتظار کرنا پڑتا تھا، مگر آج علم کسی لائبریری یا کلاس روم تک محدود نہیں رہا۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے سیکھنے کے دروازے ہر شخص پر کھول دیے ہیں ، ایک اسمارٹ فون کی اسکرین پر پوری دنیا سمٹ آئی ہے۔ 

یہ تبدیلی صرف سہولت تک محدود نہیں بلکہ اس نے نوجوانوں کی سوچ، سیکھنے کے انداز اور نصابی تعلیم کے مفہوم کو بھی یکسر بدل کر رکھ دیا۔ ایسے میں یہ سوال بے حد اہم ہو جاتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں نوجوانوں کی نصابی تعلیم کس طرف جا رہی ہے، اس کے ثمرات کیا ہیں اور اس کے اثرات ہماری اجتماعی زندگی پر کیسے مرتب ہو رہے ہیں۔

ایک وقت تھا جب نصابی تعلیم کسی بھی قوم کی فکری بنیاد سمجھی جاتی تھی۔ مستقبل کی راہیں متعین کرنے میں مددگار ثابت ہوتی تھی، افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام جدید تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی کی برق رفتار ی زندگی کے ہر شعبے کو بدل رہی ہے اور دوسری طرف ہمارا روایتی نظامِ تعلیم اب بھی ماضی کی گرد میں اٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ آج بھی نمبروں، رٹّے اور امتحانی کامیابی کو اصل کامیابی سمجھا جاتاہے۔ 

طلبہ کو سوچنے، سوال کرنے اور تخلیقی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے بجائے مخصوص جوابات یاد کروائے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوانوں کے ہاتھ میں ڈگری تو ہوتی ہے، مگر ان کی ذہنی صلاحیت جدید دور کی مناسبت سے نہیں ہو پاتی۔

ڈگری مکمل کرنے کے بعد اُنہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ جو کچھ انہوں نے پڑھا، وہ عملی زندگی میں کام نہیں آئے گا، تب وہ معاشی مضبوطی کے لئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہنر حاصل کرتے ہیں، اگر یہی ہنر تعلیمی ادارے سکھا دیتے تو نوجوان کا قیمتی وقت اور توانائی ضائع نہ ہوتیں۔

آج نوجوان کے سامنے علم کے بے شمار غیر رسمی ذرائع موجو ہیں، یوٹیوب سے لے کر مصنوعی ذہانت تک، نسل، نو یہ محسوس کرنے لگی ہے کہ نصابی کتابوں میں لکھی باتیں شاید عملی دنیا سےمطابقت نہیں رکھتیں، جبکہ اسکرین پر موجود دنیا انہیں زیادہ حقیقی محسوس ہوتی ہے۔

ٹیکنالوجی نے تعلیم کو صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہنے دیا۔ آن لائن کلاسز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ورچوئل یونیورسٹیز نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے، جہاں سیکھنے کی کوئی حد نہیں۔ آج ایک نوجوان کسی دور دراز گاؤں میں بیٹھ کر دنیا کی بہترین جامعات کے لیکچرز سن سکتا ہے، جدید تحقیق تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتاہے کہ کیا یہ وسعت گہرائی کے ساتھ آ رہی ہے یا صرف معلومات کے انبار تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

نصابی تعلیم کا اصل مقصد صرف ڈگری کا حصول ہی نہیں بلکہ سوچنے ،تجزیہ کرنے کی صلاحیت بھی دینی چاہیے، تاکہ نوجوان اپنی زندگی کے راستے متعین کرسکیں۔

ٹیکنالوجی نے تعلیم کے دروازے ان نوجوانوں کے لیے بھی کھول دیے ہیں جو تعلیمی سہولیات سے محروم تھے۔ آن لائن کورسز اور ڈیجیٹل لائبریریوں نے علم کو ایک حد تک مساوی بنا دیا ہے۔ اب مالی کمزوری یا جغرافیائی دوری تعلیم کی راہ میں اتنی بڑی رکاوٹ نہیں رہی جتنی پہلے ہوا کرتی تھی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں معلومات کی فراوانی سوچ کی کمی کا سبب بن رہی ہے۔ 

ہر سوال کا فوری جواب دستیاب ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کے اندر جستجو اور تحقیق کا جذبہ کمزور پڑنے لگاہے۔ پڑھنے کے بجائے وہ تلاش کرنے پر اکتفا کررہے ہیں۔ آج کے نوجوان کا ذہن ملٹی ٹاسکنگ کا عادی ہو چکا ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں پڑھ، سن اور سوشل میڈیا پر موجود ہوتا ہے۔ اس طرزِ زندگی نے توجہ کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ طویل مطالعہ، گہری سوچ اور مسلسل محنت انہیں مشکل محسوس ہونے لگی ہے۔

اساتذہ کا کردار بھی اس بدلتے ہوئے ماحول میں یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ پہلے استاد علم کا واحد ذریعہ ہوا کرتے تھے، ان کی ذمہ داری یہ نہیں رہی کہ وہ صرف سبق پڑھائیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ نوجوان کو یہ سکھائیں کہ صحیح معلومات کو کیسے پہچانا جائے، غلط اور گمراہ کن مواد سے کیسے بچا جائے اور علم کو کس طرح مثبت مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ کردار نہایت نازک اور اہم ہے، کیونکہ اگر نوجوانوں کو درست رہنمائی نہ ملے تو ٹیکنالوجی کی وسعت انہیں بھٹکا بھی سکتی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال نے نوجوانوں کی سماجی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ حقیقی مسائل کے بجائے ڈیجیٹل دنیا کے مباحث میں الجھے رہنا، ان کی شخصیت کو ایک نئے سانچے میں ڈھال رہاہے۔ اخلاقی تربیت ہمیشہ نصابی تعلیم کا ایک اہم حصہ رہی ہے، مگر ٹیکنالوجی کے دور میں یہ ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔

جب نوجوان ہر طرح کے نظریات، خیالات اور مواد تک رسائی رکھتا ہو تو اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سی بات درست ہے اور کون سی غلط۔ اس مرحلے پراساتذہ کا فرض ہے کہ وہ سبق نہ رٹوائیں بلکہ اقدار بھی سکھائیں، انہیں یہ احساس دلائیں کہ علم کا مقصد صرف ذاتی فائدہ نہیں بلکہ معاشرے کی بہتری بھی ہے۔

والدین کا کردار بھی اس پورے عمل میں نہایت اہم ہے۔ اگر نوجوان کو گھر میں مطالعے کا ماحول نہ ملے، اگر والدین خود ٹیکنالوجی کے استعمال میں توازن نہ رکھیں، تو نوجوان سے یہ توقع رکھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ اس میدان میں اعتدال اختیار کرے گا۔ نصابی تعلیم اور خاندانی تربیت جب ایک دوسرے کا ساتھ دیں تو ہی ایک متوازن اور باشعور نسل کی تشکیل ممکن ہو پائے گی۔

مستقبل کی دنیا مزید ڈیجیٹل، مزید تیز رفتار اور مقابلے کی حامل ہوگی، ایسے میں نوجوانوں کی نصابی تعلیم کو صرف ماضی کی روایات کے سہارے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اسے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا، مگر اس طرح کہ اس کی روح برقرار رہے۔ تعلیم کا مقصد محض مشینوں کے لیے انسان تیار کرنا نہیں بلکہ ایسے انسان تیار کرنا ہے جو مشینوں کو انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کر سکیں۔

یہ توازن قائم کرنا شاید سب سے بڑا امتحان ہے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی کی دوڑ ہے، نئی ایجادات ہیں، نئے مواقع ہیں، اور دوسری طرف انسان کی اپنی اقدار ہیں، اس کی شناخت ہے، اس کا اخلاقی وجود ہے۔ نصابی تعلیم کو اس پل کی حیثیت حاصل ہے جو ان دونوں کناروں کو ملاتی ہے۔ 

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کا نظامِ تعلیم اپنی بنیادوں پر نظرِ ثانی کرے۔ عملی مہارتوں کو تعلیم کا لازمی حصہ بنایا جائے اور اساتذہ کو بھی مسلسل تربیت دی جائے، تاکہ وہ بدلتے ہوئے دور کو سمجھ سکیں۔ طلبہ کو صرف امتحان پاس کرنے کے بجائے مسئلہ حل کرنے، تنقیدی سوچ اپنانے اور تخلیقی انداز میں سیکھنے کی ترغیب دی جائے۔

نوجوانوں کے لیے یہ دور بے پناہ امکانات کا دور ہے۔ وہ چاہیں تو ٹیکنالوجی کو اپنی طاقت بنا سکتے ہیں اور نصابی تعلیم کو اپنی بنیاد۔ وہ علم کو صرف کتابوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کریں۔ وہ سوال کریں، تحقیق کریں، تجربہ کریں اور اپنی غلطیوں سے سیکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو انہیں نہ صرف کامیاب بنائے گا بلکہ باکردار بھی بنائے گا۔

پاکستان کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، سوچ کی فرسودگی ہے۔ ٹیکنالوجی مستقبل کی زبان ہے اور ہمارا تعلیمی نظام ماضی کی لغت میں الجھا ہوا ہے۔ جب تک یہ فاصلہ کم نہیں ہوتا، تب تک ہمارا پڑھا لکھا نوجوان خود کو بے سمت اورمحرومی کے دائرے میں گھومتا ہوا پائے گا۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو الزام دیتے ہیں یا اسے راستہ بنا کر آگے بڑھتے ہیں۔

نوجوان سے مزید