پاکستان میں زراعت کا شعبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا آیا ہے لیکن پانی کی کمی، بڑھتی لاگت، موسمیاتی تبدیلی اور پرانے زرعی طریقوں کے باعث اس شعبے کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ معیشت کا 20 فیصد سے زائد حصہ اسی شعبے پر منحصر ہے، جبکہ 40 فیصد سے زیادہ افرادی قوت کھیتوں میں کام کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی فی ایکڑ پیداوار دنیا کے کئی ممالک سے کم ہے، ایسے میں یہ خوش آئند بات ہے کہ چین سے تربیت حاصل کر کے آنے والے پاکستان کے زرعی گریجویٹس جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر کم پانی کم لاگت اور زیادہ پیداوار کے لیے ٹیکنالوجی، معیاری بیج اور ڈیجیٹل نظم و نسق کو ایک ساتھ جوڑنے کے جدید تقاضوں سے ہم آنگ کر رہے ہیں، تاکہ پاکستان کی زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے2024میں پاکستان سے سرکاری خرچ پر ایک ہزار طلبہ کو زراعت کی جدید تربیت کے لئے یانگلنگ ایگریکلچرل ڈیمانسٹریشن بیس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تین ماہ کا تربیتی پروگرام تھا۔ اب تک طلبہ چین سے تربیت حاصل کر کے وطن واپس آ چکے ہیں۔
تربیتی پروگرام میں طلباء کو اسمارٹ فارمنگ’ کا عملی ماڈل پڑھا یا گیا جس میں سینسرز، ڈرونز، کمپیوٹر وژن اور سیٹلائٹ/آئی او ٹی ڈیٹا سے فصل کی صحت، نمی اور غذائی ضروریات، بیجوں کی بہتری، ہائبرڈ نسلیں اور بیماریوں کے خلاف مضبوط اقسام کی تیاری شامل تھی، اس سے ملک میں زرعی پیداوار بڑھانے اور ویلیو ایڈڈ میں مدد ملے گی۔
شعبہ آبپاشی اور پانی بچت کی تکنیکیں، گرین ہاؤس/لو ٹنل کاشت، ڈرِپ اور سپرنکلر سسٹمز، پلاسٹک ملچنگ اور دقیق کھاد و آب (فَرٹیگیشن) کے طریقوں کے بارے بتایا گیا، جن کی وجہ سے زیادہ پیداوار ممکن ہوتی ہے۔ کسان کھاد اور پانی کی مقدار کنٹرول کر سکیں گے۔
چین نے بڑے پیمانے پر کاٹن، مکئی، سبزیوں کی میکانائزڈ کاشت، کمبائن ہارویسٹرز، سیڈرز اور ٹرانسپلانٹرز کی آپٹیمائزڈ سیٹنگز، اور سرد سلسلہ (کولڈ چین) و گریڈنگ، پیکنگ کے جدید معیارات میں پاکستانی گروپس کو تربیت دی، تاکہ پاکستان میں پیداوار کے ساتھ مارکیٹ میں بہترین معیار اور قیمت کےحامل ہو سکے۔
یہ مہارتیں پاکستان کے زرعی شعبے میں پیداوار بڑھانے اور اسے موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابل زیادہ مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ منصوبے کا مقصد زراعت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور پاکستان کی زرعی استعداد کو بڑھانا ہے۔ یہ تربیت پاکستانی طلباء کو چین اور پاکستان کے درمیان زرعی شعبے میں ایک پل کا کردار ادا کرنے میں مدد دے گی۔
آج ہمارے نوجوانوں اور زرعی کاشتکاروں کے لیے ’’چین‘‘ ایک نئی درسگاہ بن چکی ہے، جن کی مدد سے زرعی انقلاب آسکتا ہے۔ یہ جوان اپنے کھیتوں کے کو ہی نہیں سنواریں گے بلکہ اپنی قوم کے مستقبل کو بھی زرخیز بنائیں گے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے زراعت صرف خوراک ہی نہیں بلکہ روزگار، برآمدات اور دیہی ترقی کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔
چین نے گزشتہ چند دہائیوں میں زراعت کے میدان میں حیران کن ترقی کی ہے۔ محدود زمین، بڑھتی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باوجود جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور منظم زرعی پالیسیوں کے ذریعے اپنی غذائی ضروریات پوری کیں اور زرعی برآمدات میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔
چین میں ڈرِپ اریگیشن، اسمارٹ اریگیشن سسٹم، سینسر بیسڈ آبپاشی، ڈرون کے ذریعے فصلوں کی نگرانی، مصنوعی ذہانت کے استعمال سے زمین کی زرخیزی کا تجزیہ اور فصلوں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص جیسے طریقے عام ہیں۔
جو مقامی کسانوں کو روایتی طریقوں سے نکال کر جدید زرعی نظام سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ زرعی تحقیق اور ڈیٹا بیسڈ فارمنگ کا فروغ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ چین میں زراعت اندازوں پر نہیں بلکہ ڈیٹا پر چلتی ہے۔ مٹی کی قسم، نمی، درجہ حرارت، بارش، کھاد کی مقدار اور فصل کی نشوونما ہر چیز کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔
چین سے تربیت یافتہ نوجوان جب پاکستان میں اس سوچ کو فروغ دیں گے تو زراعت محض تجربے سے نکل کر سائنسی بنیادوں پر استوار ہونےلگے گی۔ اس کا براہِ راست فائدہ یہ ہے کہ پیداوار میں اضافہ، لاگت میں کمی اور وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوسکے گا۔ تربیت یافتہ نوجوان مقامی سطح پر سستی مشینری کے استعمال، اسمبلنگ اور حتیٰ کہ مقامی تیاری کے منصوبے بھی شروع کر سکتے ہیں، جس سے نہ صرف زراعت مضبوط ہوگی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
چین میں زرعی یونیورسٹیاں عملی تربیت پر خاص زور دیتی ہیں۔ لیبارٹری، فیلڈ ورک اور انڈسٹری سے براہِ راست رابطہ تعلیم کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ جب یہ نوجوان پاکستان میں تدریسی شعبے سے وابستہ یا تربیتی پروگرامز کا حصہ بنیں گے تو وہ زرعی تعلیم کو کتابی علم سے نکال کر عملی میدان سے جوڑنے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح زرعی شعبے کے طلباء میں تحقیق، جدت اور خود اعتمادی پیدا ہوگی۔
چین سے تربیت لے کر آنے والے نوجوان جدید زرعی طریقوں اور ٹیکنالوجی کو پاکستان میں متعارف کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کسانوں کو رہنمائی دے رہے ہیں۔ جدید آبپاشی نظام، بہتر بیج اور فصلوں کی بیماریوں سے بچاؤ کے طریقے متعارف کرا رہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں جا کر کسانوں کو یہ سکھا رہے ہیں کہ کم خرچ میں زیادہ پیداوار کیسے حاصل ہو سکتی ہے۔
وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، خشک سالی، سیلاب، شدید موسم اور زمین کی کمی جیسے مسائل کا سامنا، نمکین زمین کی بحالی، کم پانی میں اگنے والی فصلیں، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ بیج وغیرہ کو مقامی حالات کے مطابق ڈھال کر قابلِ عمل حل پیش کر رہے ہیں، جدید آبپاشی متعارف اورمٹی کے ٹیسٹ اور فصلوں کی بیماریوں پر کام کر رہے ہیں۔
ہیومن کیپسٹی کے تحت تربیت لینے والےگریجویٹس کو کاٹن/گندم بیلٹس اور زرعی جامعات میں جگہ دے کر ہزاروں کسانوں تک علم منتقل کرنے کا پروگرام مرتب کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ نئی بایوہیلتھی ایگریکلچر لیب اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیمونسٹریشن پارک جیسے منصوبوں پر چین اور پاکستان نے اتفاق کیا ہے، تاکہ بیجوں کی کوالٹی، زرعی ادویات کے محفوظ متبادلات اور آب و ہوا سے ہم آہنگ کاشت کے حل پاکستان میں ہی تیار اور آزمائے جائیں۔ یہ پارک/لیب ماڈل مقامی ا سٹارٹ اپس اور نجی شعبے کو بھی شامل کرے گا ،تاکہ درآمدی انحصار کم ہو اور مقامی جدت کی رفتار بڑھے۔ پاکستان کی ترقی کا راستہ زراعت سے ہو کر گزرتا ہے۔
چین میں صرف فصل اگانے پر توجہ نہیں دی جاتی بلکہ اس کی پروسیسنگ، پیکنگ، اسٹوریج، ٹرانسپورٹ اور مارکیٹنگ پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔ پاکستان میں اکثر کسان فصل اگانے کے بعد مناسب قیمت حاصل نہیں کر پاتے۔ چین سے تعلیم یافتہ نوجوان ایگرو بزنس ماڈلز، کوآپریٹو فارمنگ اور براہِ راست مارکیٹ تک رسائی کے طریقے متعارف کروا کر کسان کی آمدن میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
چین میں زرعی اسٹارٹ اپ کلچر بہت مضبوط ہے، جہاں نوجوان نئی ٹیکنالوجی، ایپس، آن لائن پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل مارکیٹس کے ذریعے زراعت کو منافع بخش بنا رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر یہ نوجوان اسی جذبے کے ساتھ ایگرو ٹیک اسٹارٹ اپس شروع کریں تو نہ صرف زرعی مسائل حل ہو سکتے ہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں،اس کے علاوہ جدید سائنسی طریقے اپنانے سے خوراک کے بحران پر قابو پانے کے ساتھ برآمدات بھی بڑھا سکیں گے۔
چین میں دیہی علاقوں کی ترقی کو قومی ترقی کا بنیادی ستون سمجھا تا ہے۔ تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کو زراعت کے ساتھ جوڑ کر دیہات کو خود کفیل بنایا گیا۔ پاکستان میں دیہی پسماندگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تربیت یافتہ نوجوان پاکستان میں قابلِ عمل منصوبے متعارف کروا سکتے ہیں، تاہم انہیں کئی چیلنجز کا سامنا بھی ہے، جن میں تحقیق کے لیے محدود فنڈز، بیوروکریسی، مقامی کسانوں کی مزاحمت اور جدید ٹیکنالوجی کی لاگت وغیرہ شامل ہیں۔
حکومتِ پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ چین سے تعلیم یافتہ زرعی نوجوانوں کے لیے خصوصی پروگرامز، ریسرچ گرانٹس، فیلڈ پروجیکٹس اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ متعارف کروائے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت زرعی تعاون کو مزید مضبوط بنا کر ان نوجوانوں کو عملی میدان میں آگے لائے، کیوں کہ وہ زرعی مستقبل کی امید ہیں۔ اگر ان کی صلاحیتوں کو درست سمت، وسائل اور اعتماد فراہم کیا جائے تو یہ پاکستان کو زرعی خود کفالت، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔