• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معاشرہ صرف اینٹ، پتھر اور سڑکوں سے نہیں بنتا بلکہ انسانوں کی ذہنی، اخلاقی اور روحانی تربیت سے تشکیل پاتا ہے۔ جب تربیت کی بنیادیں مضبوط ہوں تو نسلیں سنورتی ہیں، اور جب یہ بنیادیں کمزور پڑ جائیں تو سماج میں ایسے اندھیرے جنم لیتے ہیں، جنہیں ختم کرنا آسان نہیں رہتا۔ آج کا ایک بڑا المیہ یہی ہے کہ ایک طرف ڈرگز مافیا اپنے لمبے ہاتھوں کے ساتھ نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، تو دوسری طرف تربیت کی مرمری ڈوریاں خاموشی سے ٹوٹتی جا رہی ہیں۔

ڈرگز مافیا کسی ایک فرد یا چند لوگوں کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا منظم جال ہے جو معاشرے کی کمزور رگوں کو پہچان کر انہیں استعمال کرتا ہے۔ یہ مافیا جانتا ہے کہ کس ذہن میں تنہائی ہے، کون سا نوجوان احساسِ محرومی کا شکار ہے، کس گھر میں والدین کے درمیان فاصلے ہیں، اور کس طالب علم کے دل میں ناکامی کا خوف پل رہا ہے۔ یہی وہ دراڑیں ہیں جن میں نشہ اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔

آج کا نوجوان بظاہر پہلے سے زیادہ باشعور اور تعلیم یافتہ دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے وہ شدید ذہنی دباؤ، مقابلے کی دوڑ، جذباتی تنہائی اور شناخت کے بحران کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا نے اسے دنیا سے جوڑا ضرور ہے مگر اپنے ہی گھر سے کاٹ دیا ہے۔ ماں باپ کے پاس وقت نہیں، استاد کے پاس تربیت کا جذبہ نہیں اور معاشرہ کامیابی کو صرف دولت اور نمود و نمائش سے ناپنے لگا ہے۔

ایسے میں جب کسی نوجوان کو محبت، توجہ اور رہنمائی نہیں ملتی تو وہ وقتی سکون کی تلاش میں غلط راستوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈرگز مافیا اپنے ’’لمبے ہاتھ‘‘ استعمال کرتا ہے۔ یہ ہاتھ صرف گلیوں اور اڈوں تک محدود نہیں رہے بلکہ تعلیمی اداروں، پوش علاقوں، پارٹی کلچر، حتیٰ کہ آن لائن دنیا تک پھیل چکے ہیں۔ پہلے نشہ صرف جرائم پیشہ طبقے سے جوڑا جاتا تھا مگر اب یہ مہنگے کیفوں، یونیورسٹیوں اور نوجوانوں کی نجی محفلوں تک پہنچ چکا ہے۔

خوفناک بات یہ ہے کہ اب نشے کو “فیشن”، “اسٹیٹس” اور “ذہنی سکون” کے خوبصورت ناموں میں پیش کیا جاتا ہے۔ ڈرگز مافیا کبھی کسی نوجوان کے ہاتھ میں پہلی بار نشہ مفت رکھتا ہے، کبھی دوستی کے نام پر، کبھی محبت کے بہانے اور کبھی ذہنی دباؤ کم کرنے کے دعوے کے ساتھ۔ ابتدا میں یہ صرف “تجربہ” محسوس ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ انسان اپنی آزادی، شعور، صحت اور کردار سب کچھ کھو دیتا ہے۔

نشہ صرف جسم کو نہیں کھاتا بلکہ روح کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر تربیت کی مرمری ڈوریاں کیوں ٹوٹ رہی ہیں؟اس کی ایک بڑی وجہ گھریلو نظام کی کمزوریاں ہیں۔ پہلے گھروں میں بزرگوں کی موجودگی صرف رشتوں کی خوبصورتی نہیں بلکہ کردار سازی کا ذریعہ بھی تھی۔ بچے کہانیوں، نصیحتوں، محبت اور نگرانی کے ماحول میں بڑے ہوتے تھے۔ آج گھروں میں سہولتیں تو بڑھ گئی ہیں مگر تعلقات کی حرارت کم ہو گئی ہے۔

والدین بچوں کی ضروریات پوری کرنے کو تربیت سمجھ بیٹھے ہیں جبکہ بچوں کو سب سے زیادہ ضرورت توجہ، گفتگو اور اعتماد کی ہوتی ہے۔ تعلیمی ادارے بھی اس بحران سے مکمل طور پر بری الذمہ نہیں۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری دینا نہیں بلکہ انسان بنانا بھی ہوتا ہے۔ جب نصاب سے اخلاقیات، برداشت، روحانیت اور سماجی ذمہ داری جیسے عناصر کمزور پڑ جائیں تو ذہین مگر کھوکھلی نسل پروان چڑھتی ہے۔ ایسی نسل زندگی کے دباؤ سے لڑنے کے بجائے فرار تلاش کرتی ہے۔معاشرے کا عمومی رویہ بھی قابلِ غور ہے۔

ہم اکثر نشے کے عادی فرد کو مجرم سمجھ کر دھتکار دیتے ہیں جبکہ کئی بار وہ خود بھی کسی ظلم، محرومی یا ذہنی اذیت کا شکار ہوتا ہے۔ اگر نوجوانوں کو ہر وقت ایسی زندگی دکھائی جائے جس میں عیاشی، بے مقصد آزادی اور وقتی لطف کو کامیابی بنا کر پیش کیا جائے تو کمزور ذہن آسانی سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تو نوجوانوں کو زندگی کا بامقصد راستہ مل سکتا ہے۔

یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کوئی بھی نوجوان پیدائشی مجرم یا نشئی نہیں ہوتا۔ اسے حالات، ماحول، غفلت اور غلط صحبت اس مقام تک لے جاتی ہے۔ اگر گھر محبت دے، استاد رہنمائی کرے، معاشرہ عزت اور ریاست تحفظ دے تو ڈرگز مافیا کے لمبے ہاتھ کمزور پڑ سکتے ہیں۔ آج ضرورت صرف قانون سخت کرنے کی نہیں بلکہ تربیت کی ان مرمری ڈوریوں کو دوبارہ مضبوط کرنے کی ہے جو انسان کو انسان سے جوڑتی ہیں۔

ماں کی دعا، باپ کی نگرانی، استاد کی شفقت، کتاب کی روشنی، اور معاشرے کی اخلاقی فضا ، یہی وہ قوتیں ہیں جو نشے کے اندھیروں کو شکست دے سکتی ہیں۔اگر ہم نے نئی نسل کو صرف سہولتیں دیں مگر اقدار نہ دیں، آزادی دی مگر شعور نہ دیا، تو ڈرگز مافیا کے ہاتھ مزید لمبے ہوتے جائیں گے۔ لیکن اگر تربیت، محبت اور اخلاق کی بنیادیں پھر سے استوار کر لیں تو یہی نوجوان معاشرے کی سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔

ایسے حالات میں ایک ادیب کی ذمہ داری بھی محض کہانیاں لکھنے یا الفاظ سجانے تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ معاشرے کے ضمیر کی آواز بن جاتا ہے۔ جب ڈرگز مافیا نوجوان نسل کی سوچ، خواب اور مستقبل کو نگل رہا ہو اور تربیت کی ڈوریاں ٹوٹ رہی ہوں، تو ادیب کا قلم صرف فن نہیں رہتا، ایک اخلاقی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ ادیب کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حقیقت کو بے نقاب کرے۔ وہ ان اندھیروں پر روشنی ڈالے جنہیں معاشرہ اکثر نظر انداز کر دیتا ہے۔

وہ دکھائے کہ نشہ صرف ایک فرد کی تباہی نہیں بلکہ پورے خاندان، رشتوں اور سماجی اقدار کا زوال ہے۔ مگر یہ کام محض وعظ یا نعرے سے نہیں ہوتا، بلکہ ایسے کردار تخلیق کر کے ہوتا ہے جن کے درد میں قاری اپنا عکس دیکھ سکے۔ایک سچا ادیب سماج کے زخموں پر انگلی رکھتا ہے۔ وہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آخر نوجوان کیوں ٹوٹ رہا ہے؟ کیوں ایک نوجوان محبت کے بجائے نشے میں سکون ڈھونڈنے لگا ہے؟ کیوں جدید زندگی کے شور میں وہ اندر سے خالی ہو گیا ہے؟

ادیب ان سوالوں کو زندہ رکھتا ہے تاکہ معاشرہ اپنی بے حسی سے بیدار ہو۔ادیب کی دوسری بڑی ذمہ داری امید کو زندہ رکھنا ہے۔ اگر وہ صرف تاریکی لکھے اور روشنی کا کوئی در نہ کھولے تو قاری مایوسی میں ڈوب سکتا ہے۔ اس لیے ادب کو انسان کے اندر چھپی ہوئی قوت، توبہ، واپسی، حوصلے اور محبت کی صلاحیت کو بھی سامنے لانا چاہیے۔کوئی بامعنی شعر، ایک اچھا افسانہ یا پراثر افسانچہ کبھی کبھی وہ کام کر جاتا ہے جو لمبی تقاریر نہیں کر سکتیں۔

ادب نوجوانوں کے لیے متبادل دنیا بھی تخلیق کرتا ہے۔ اگر معاشرہ انہیں صرف بے مقصد تفریح دے رہا ہو تو ادیب انہیں خواب، شعور، فکر اور احساس دے سکتا ہے۔ وہ کتاب کو نشے کے مقابل ایک روحانی اور ذہنی پناہ گاہ بنا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں میں ادب زندہ رہا وہاں انسان مکمل تباہ نہیں ہوا۔ ایک ادیب کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ محض سنسنی یا تلخی بیچنا کافی نہیں۔ اگر وہ صرف جرائم، تاریکی اور بے راہ روی کو دلکش انداز میں پیش کرے گا تو انجانے میں وہ اسی زہر کو خوبصورت بنا دے گا جس کے خلاف لکھ رہا

ہے۔ اس لیےاُس کے قلم میں توازن، بصیرت اور اخلاقی شعور ضروری ہے۔ ایسے دور میں ادیب گویا ایک چراغ بردار ہوتا ہے۔ شاید وہ پورے شہر کا اندھیرا ختم نہ کر سکے، مگر کم از کم چند ذہنوں میں روشنی ضرور جگا سکتا ہے۔ اور بعض اوقات ایک تحریر انسان کی زندگی بدلنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔