• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنوعی ذہانت: خود کو بدلتی دنیا کیلئے تیار کریں، خوف زدہ نہ ہوں

شبانہ اشفاق

مصنوعی ذہانت کا شور ہر طرف ہے ۔ یہ زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہوچکی ہے۔ تعلیم، صحت، کاروبار، صنعت وحرفت، کھیل سمیت شاید ہی کوئی شعبہ ہو جہاں اس کا دخل نہ ہو۔ ماہرین کے مطابق یہ نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ معیشت، تعلیم، معاشرت اور روزگار کے ڈھانچے کو بھی نئے سرے سے تشکیل دے رہی ہے۔ جو نوجوان اس ٹیکنالوجی کو سمجھ کر آگے بڑھیں گے، وہ مستقبل کی کامیاب ترین ورک فورس کا حصہ ہوں گے۔

ایک طرف یہ سہولت، رفتار اور کارکردگی میں اضافہ لا رہی ہے، تو دوسری طرف ایک خوف بھی پیدا ہو رہا ہے کہ،کیا اے آئی سے مستقبل میں انسان بے روزگار ہو جائے گا یا یہ ایک نئی دنیا کی شروعات ہے جہاں مواقع پہلے سے زیادہ ہوں گے؟ یہ سوالات خاص طور پر نوجوانوں کے ذہن میں شدت سے گردش کر رہے ہیں، کیونکہ وہی اس بدلتی دنیا کے اصل کردار ہیں۔

اگر وہ اس کو سمجھ لیں تو کامیابی ان کے قدم چوم سکتی ہے، اور اگر وہ اس سے آنکھیں چرا لیں تو ان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے صرف ایک مشین یا پروگرام نہ سمجھیں، بلکہ ایک ایسے نظام کے طور پر دیکھیں جو انسان کی طرح سوچنے، سیکھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جب ہم نوکریوں پراے آئی کے اثرات کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے وہ شعبے ذہن میں آتے ہیں جہاں کام یک ہی نوعیت کا ہوتا ہے۔ یہ ماننا حقیقت سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہوگا کہ اے آئی نے نوکریوں کو متاثر نہیں کیا۔ دنیا بھر میں کئی شعبوں میں مشینیں انسانوں کی جگہ لے رہی ہیں۔ ان تبدیلیوں نے بہت سے لوگوں کو بے روزگار بھی کیا ہے، مثال کے طور پر ڈیٹا انٹری، کیشیئر، فیکٹری ورکرز، اور بنیادی کسٹمر سروس۔

ان شعبوں میں اے آئی اور آٹومیشن نے بڑی حد تک انسانی کردار کو کم کر دیا ہے۔ مشینیں نہ تھکتی ہیں، نہ غلطیاں کرتی ہیں اور نہ ہی تنخواہ یا چھٹی کا مطالبہ کرتی ہیں۔ یہی خصوصیات انہیں کاروباری اداروں کے لیے پرکشش بنارہی ہیں۔لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے کہ، اے آئی نے صرف نوکریاں ختم نہیں کیں بلکہ بے شمار نئی نوکریاں بھی پیدا کی ہیں۔ ڈیٹا سائنس، مشین لرننگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبے اس کی واضح مثال ہیں۔

ان شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد کی مانگ دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔دراصل اصل مسئلہ اے آئی نہیں بلکہ مہارتوں کا فرق ہے۔ جو لوگ اپنی مہارتوں کو وقت کے ساتھ اپڈیٹ نہیں کرتے، وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اب ڈگری کے ساتھ ہنر اور تخلیقی صلاحیت کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج ایک ہنر مند نوجوان، چاہے اس کے پاس ڈگری نہ بھی ہو، اسے دنیا بھر میں کام مل سکتا ہے۔

نوجوانوں کے لیے یہ وقت خوف کا نہیں بلکہ بیداری کا ہے۔ وہ اے آئی کا صحیح طریقے سے استعمال کرنا سیکھ لیں۔ مثال کے طور پر ایک گرافک ڈیزائنر اس ٹولز کی مدد سے اپنے کام کو زیادہ معیاری بنا سکتا ہے۔ ایک لکھاری آئیڈیاز لے کر اپنی تحریر کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔ ایک پروگرامراس کی مدد سے پیچیدہ کوڈنگ مسائل کو جلد حل کر سکتا ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں اے آئی کا اثر ایک منفرد انداز میں سامنے آ رہا ہے۔ یہاں ایک طرف بے روزگاری کا مسئلہ تو دوسری طرف جدید مہارتوں کی کمی بھی ایک بڑا چیلنج ہے، اگر نوجوان جدید مہارتیں سیکھ لیں، آن لائن پلیٹ فارمز سے جڑ جائیں، اور عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا لیں، تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ ملک کی معیشت کو بھی مضبوط بنا سکتے ہیں۔

اے آئی کے بارے میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ یہ انسانوں کو مکمل طور پر بے کار کر دے گی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ یہ انسان کے کام کو آسان بناتی، اس کی رفتار بڑھاتی اسے زیادہ مؤثر بناتی ہے، مگر یہ انسان کی جگہ نہیں لے سکتی، خاص طور پر وہاں جہاں جذبات، اخلاقیات اور تخلیقی سوچ کی ضرورت ہو۔

انسان اور مشین کے درمیان سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ انسان محسوس کرتا ، سوچتا اور تخلیق کرتا ہے۔ اے آئی صرف وہی کر سکتی ہے جو اسے سکھایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مستقبل میں کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے اوراس کو اپنے کام کا حصہ بنائیں گے۔

نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو اس بدلتی دنیا کے لیے تیار کریں۔ نئی مہارتیں سیکھیں، خاص طور پر کوڈنگ، ڈیٹا اینالیسس، اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں، جو اس وقت بہت اہم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیونیکیشن، ٹیم ورک، اور قیادت بھی ضروری ہیں۔

تعلیمی نظام کو بھی اس تبدیلی کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ صرف کتابی علم اب کافی نہیں رہا۔ طلبہ کو عملی مہارتیں سکھانا، تحقیق کی طرف راغب کرنا، اور انہیں مسائل حل کرنے کی صلاحیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر تعلیمی ادارے اس سمت میں کام کریں تو نوجوان زیادہ بہتر طریقے سے مستقبل سنوار سکتے ہیں۔لیکن پرائیویسی کا مسئلہ، ڈیٹا کا غلط استعمال، اور مشینوں پر بڑھتا ہوا انحصار جیسےمسائل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس لیے ضروری ہے کہ اس کے استعمال کے لیے واضح اصول اور قوانین بنائے جائیں۔ یہ نہ تو مکمل طور پر خطرہ ہے اور نہ ہی نعمت۔ یہ ایک تبدیلی ہے، اور ایک موقع ہے۔ اس کا فائدہ اٹھانا یا اس سے متاثر ہونا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ جو لوگ سیکھنے، بدلنے اور آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں، ان کے لیے یہ ایک سنہری دور ہے۔

نوجوانوں کے لیے پیغام واضح ہے کہ، وقت بدل رہا ہے، اس کے ساتھ خود کو بدلنا ہی کامیابی ہے۔ اے آئی سے ڈرنے کے بجائے اسے سمجھیں، اپنائیں، اور اپنی طاقت بنائیں۔ مستقبل ان ہی کا ہے جو تبدیلی کو قبول کریں اور اسے اپنی ترقی کا ذریعہ بنائیں گے۔