• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیو تو کیسے؟ تنقید کی نہیں، تھپکی کی، موازنے کی نہیں، محبت اور یقین کی ضرورت ہے

محمد عمار

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں انسان کو اس کی ہمت سے نہیں بلکہ اس کی رفتار سے دیکھا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ "ہر نئی نسل نے پچھلی سے بہتر پرفارم کیا اور یہ والی نسل محض ریت کا ڈھیر نکلی"۔ اس میں کتنی صداقت ہے اس بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن آج کی نسل، جسے جنریشن زی کہتے ہیں، اس پر جتنا پریشر ہے، اس کا اندازہ وہ لوگ شاید کبھی نہ کر پائیں، جنہوں نے خط لکھ کر مہینوں جواب کا انتظار کیا تھا۔

تب دنیا محدود تھی، اس لیے سکون میسر تھا۔ آج ایکسپوژر کا یہ عالم ہے کہ ایک اٹھارہ سالہ بچہ جب اپنی ا سکرین کھولتا ہے، تو اسے دنیا کے کسی دوسرے کونے میں اپنے ہم عمر کسی انفلوئنسر کی کامیابی، اس کی چمکتی گاڑی اور اس کا عالیشان طرز زندگی ایک طعنے کی طرح چبھتا ہے۔ اسے سمجھ ہی نہیں آتی کہ جس سفر کا آغاز اسے ابھی کرنا ہے، وہاں لوگ پہلے سے منزلیں سر کیے بیٹھے ہیں۔

یہ ایکسپوژر نہیں، یہ ذہنی انتشار کا وہ طوفان ہے جس نے اس نسل سے ان کا بچپن اورسکون چھین لیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان سے جتنی توقعات وابستہ کر لی گئی ہیں، ان کا پورا کر نا کسی معجزے سے کم نہیں۔ وہ ابھی اپنی تلاش ہی کر رہا ہوتا ہے کہ معاشرہ اس کے ہاتھ میں کامیابی کی لمبی فہرست تھما دیتا ہے۔

گھر والے چاہتے ہیں کہ وہ خاندان کا سہارا بنے، استاد چاہتے ہیں کہ وہ ہر میدان میں نمایاں ہو، سوشل میڈیا اسے ہر لمحہ دوسروں سے موازنہ کرنا سکھاتا ہےاور معاشرہ اسے یہ یقین دلاتا رہتا ہے کہ اگر وہ تیزی سے کامیاب نہ ہوا تو وہ ناکام ہے۔

ٹیکنالوجی میں ماہر بھی ہو، اخلاقیات کا پیکر بھی ہواور معاشی طور پر مستحکم بھی، پرفیکٹ بھی نظر آئے۔ ان کا مقابلہ کسی ایک فرد سے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے فلٹر شدہ مواد سے ہے۔ جب ایک نوجوان کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ سفر شروع کہاں سے کرنا ہے، تو وہ سست نہیں بلکہ وہ منجمد ہو جاتا ہے، پھر اسے نااہلی کا نام دے دیاجاتا ہے، یہی وجہ ہے نوجوان باہر سے مسکراتا ہے مگر اندر سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔دراصل یہ اس کا خوف ہوتا ہے کہ اگر میں پہلے قدم پر ہی سب سے آگے نہ ہوا تو کیا ہوگا؟

اس خوف نےاُن سے سیکھنے کی خوشی چھین لی ہے۔ لگتا ہے، اب تعلیم علم حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ صرف مقابلہ جیتنے کے لیے رہ گئی ہے۔ ہر نوجوان ایک ایسی ریس میں دوڑ رہا ہے جس کا اختتام بھی غیر یقینی ہے۔ اسی دباؤ کی وجہ سے کئی نوجوان ذہنی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔

گرچہ بظاہر وہ پہلے سے زیادہ سہولتوں، معلومات اور مواقع کے درمیان کھڑا ہے، مگر اس کے باطن میں ایک عجیب تھکن، بے چینی اور دباؤ پل رہا ہے۔وہ صرف اپنی زندگی نہیں گزار رہا بلکہ دوسروں کی خواہشات، امیدوں اور توقعات کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہے۔

اس کا حل کیا ہے؟یہ بڑا سادہ مگر صبر آزما ہے۔ انہیں یہ بتانا ہوگا کہ تمہارا اصل مقابلہ کسی ایکس وائی زیڈ سے نہیں، بلکہ تمہارے اپنے گزرے ہوئے کل سے ہے۔ انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ اپنا راستہ خود چننا ہی اصل بہادری ہے، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔

دوسروں کی جیت پر خود کو شکست خوردہ سمجھنا چھوڑ دیں اور خود کو جیتنے کی اس راہ پر لگائیں جہاں منزل سے زیادہ تمہارا اپنا ارتقا اہم ہو۔ نسل نااہل نہیں ہے، بس اسے تنقید کی نہیں، تھپکی کی ضرورت ہے، موازنے کی نہیں، محبت کی ضرورت ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، اسے اس یقین کی ضرورت ہے کہ وہ جیسے بھی ہیں، جہاں بھی ہیں، کافی ہیں۔