• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روشن کل کی تعمیر: فوڈ سائنس کے شعبے میں نوجوان نئی راہیں تلاش کریں

’’فوڈ سائنس ‘‘ ایسا شعبہ ہے جو خوراک کی پیداوار سے لے کر اس کی پروسیسنگ، حفاظت، معیار اور غذائیت تک ہر مرحلے کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ آج کی دنیا میں خوراک صرف ضرورت نہیں بلکہ صحت، معیشت اور ماحول سے جڑی ہوئی ایک حقیقت ہے۔

پاکستان جیسے زرعی ملک میں غذائی قلت، خوراک میں ملاوٹ، فوڈ سیفٹی کے مسائل اور غیر معیاری خوراک کی دستیابی ایسے چیلنجز ہیں جو نہ صرف صحت کو بلکہ قومی ترقی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ آج کے دور میں جب دنیا آبادی کے دباؤ، غذائی قلت، اور صحت کے مسائل کا سامنا کر رہی ہے، تو فوڈ سائنس کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔

ایک نوجوان جب اس شعبے میں قدم رکھتا ہے تو وہ صرف خوراک بنانے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس بات پر بھی غور کرتا ہے کہ اسے کیسے محفوظ، غذائیت سے بھرپور، اور تادیر تک قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر، انجینئر یا سرکاری ملازمت کے علاوہ بھی بے شمارشعبے ہیں، جن میں’’ فوڈ سائنس‘‘ کا شعبہ نہ صرف جدید ہے بلکہ اس میں ترقی کے مواقع بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں ۔ نوجوان اگر اس میدان میں قدم رکھیں تو وہ ایک مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

مختلف پہلوؤں پر کام کر سکتے ہیں، جن میں نئی مصنوعات کی تیاری، خوراک کو محفوظ رکھنے کے جدید طریقے، اور اس کی شیلف لائف بڑھانے کے طریقے شامل ہیں جب کہ، نیوٹریشن میں انسانی صحت کے لیے متوازن غذا کی اہمیت کو سمجھا جاتا اور فوڈ سیفٹی میں خوراک کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے اصول سکھائے جاتے ہیں۔

عالمی سطح پر فوڈ سائنس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ رہی ہےکہ اس ہوئی آبادی کے لیے محفوظ، معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ فوڈ سائنس اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے نئی راہیں متعین کر رہی ہے، جیسے متبادل پروٹین، ماحول دوست فوڈ سسٹمز، اور جدید فوڈ پروسیسنگ ٹیکنالوجیز۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس میں جدت اور پائیداری لائی جا رہی ہے۔

ایسے میں نوجوان اس سے منسلک ہوکر اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ وہ ایسی غذائیں تیار کر سکتے ہیں جو بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ، بچوں کی نشوونما کے لیے فائدہ مند، اور بزرگوں کے لیےزود ہضم ہوں۔ اس طرح وہ معاشرے میں صحت اور خوشحالی کو فروغ دے سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی، اور ڈیٹا سائنس سے بھی فوڈ سائنس میں استفادہ کیا جا رہا ہے۔ نوجوان اگر ان جدید علوم کو فوڈ سائنس کے ساتھ جوڑیں تو وہ دنیا میں نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ ایسی خوراک تیار کر سکتے ہیں جو کم قیمت مگر غذائیت سے بھرپور ہو یا ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کر سکتے ہیں جو خوراک کے معیار کو فوری طور پر جانچ سکے۔

یہ شعبہ صرف کتابی علم تک محدود نہیں بلکہ عملی مہارتوں کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ فیکٹریوں میں فوڈ کوالٹی کنٹرولر، ریسرچ لیبارٹریز میں فوڈ ٹیکنالوجسٹ، فوڈ انسپکٹر، نیوٹریشن ایکسپرٹ اور پروڈکٹ ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ جیسے کئی عہدے دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی بڑی فوڈ کمپنیز مسلسل نئے پروڈکٹس مارکیٹ میں لانے کے لیے ماہرین کی تلاش میں رہتی ہیں تاکہ وہ صارفین کی ضرورت اور صحت دونوں کو مدنظر رکھ سکیں۔

ہمارے معاشرے میں ابھی تک اس شعبے کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو اسے ملنی چاہیے۔ آج بھی اکثر نوجوان روایتی شعبوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس شعبے کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے، تاکہ نوجوان اس کی اہمیت کو سمجھ سکیں، اسےاپنے کیرئیر کے لیے منتخب کر سکیں اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور طریقے سے استعمال کرسکیں۔