• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک نوجوان ایک کہانی: ابو! میں آپ جیسا نہیں بن سکتا

والدین اور بچوں کا تعلق ہر معاشرے میں سب سے حساس اور نازک رشتہ مانا جاتا ہے۔ یہ رشتہ محبت، اعتماد، رہنمائی اور تحفظ پر مبنی ہوتا ہے، مگر کبھی کبھی والدین کی نادانستہ عادات یا تربیتی انداز اولاد پر منفی اثر ڈال دیتے ہیں، خصوصاً طعنے دینا، جھڑکنا یا ہر چھوٹی غلطی پر سخت ردعمل ظاہر کرنا یہ رویہ اولاد کی شخصیت، خوداعتمادی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، اگرچہ والدین کا مقصد بچوں کو صحیح راستے پر لانا ہوتا ہے، مگر انداز اور الفاظ کی حساسیت کا فقدان ان میں نفسیاتی دباؤ پیدا کردیتا ہے اور تعلق کو کمزور بھی کر دیتا ہے۔

ہر بچہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد ایک ایسے مرحلے سے گزرتا ہے جو خود شناسی، جذباتی نشوونما اور معاشرتی تجربات کا وقت ہوتا ہے۔ اس وقت وہ اپنے فیصلے خود کرنے کی کوشش کرتا ہے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کی تگ ودو اُنہیں نت نئے تجربوں سے دوچار کرتی ہے، جب ہزار کوششوں کے باوجود بھی ملازمت نہیں ملتی تو ڈیپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ والدین خصوصاََ باپ سمجھتے ہیں کہ بیٹا ملازمت کے لیے تگ و دو نہیں کر رہا۔

زیرِ نظر کہانی بھی ایک ایسے نوجوان کی ہے، جس کے احساسات اس کا باپ نہ سمجھ سکا، جب اندازہ ہوا تو بیٹا زندگی کی بازی ہار چکا ہوتا ہے۔ اپنے کیے پر باپ کو پچھتاوا ہوا لیکن اب پچھتا ئے کیا ہوت جب چڑیاں چک گیئں کھیت۔ 

ہوسکتا ہے کہ کوئی باپ یا ماں کا اپنے بے روزگار بچوں کے ساتھ ایسا ہی رویہ ہو، جیسے اس باپ کا، جس کے بچے نے اپنی جان دے دی۔ پہلے ملاحظہ کریں ایک باپ کی زبانی، بے روزگار بیٹے کی بابت، پھر غور کریں ایسا کیوں ہوا؟

ایک دن میں نے اپنے بیٹے سے جو ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا تھا ، غصّے سے کہا تھا’’مرد بنو، بہانے چھوڑو۔‘‘مجھے لگتا کہ اُس پر میری باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

’’ میرا بیٹا تیئیس سال کا تھا۔ میری نظر میں وہ ایک ناکام نوجوان تھا۔ اس کی عمر میں میں محنت کرتا تھا۔ چوبیس سال کا تھا، جب اپنا پہلا گھر خریدا تھا۔ ایک پرانا، ٹرک چلاتا تھا جو خراب ہوجائے تو خود ہی ٹھیک کرلیتا تھا۔ جب بیٹے کو فارغ دیکھتا تو مجھے اُس میں کام کی کوئی لگن نظر نہیں آتی تھی، صرف سستی نظر آتی تھی۔ اس کے پاس ڈگری تھی جو الماری میں پڑی دھول میں اَٹ رہی تھی۔

وہ دن بھر موبائل سے چپکا رہتا، کسی ایپ کے لیے کھانا ڈیلیور کرتا، اور دوپہر تک سوتا رہتا۔ ہر وقت اس کی آنکھوں میں ایسی اداسی ہوتی جسے میں بےزاری یا بوریت سمجھتا تھا، میں اُس سے کہتا،’’دنیا تمہیں کچھ دینے کی پابند نہیں، کوئی نوکری ڈھونڈو‘‘

دوسرے دن میں ورکشاپ سے گھر آیا، میرے ہاتھوں پر گریس لگی ہوئی تھی، تھکن محسوس ہورہی تھی۔ بیٹا کچن میں سیریل کے پیالے کو ہاتھ میں لیے کھڑا تھا، شام چھ بجے کا وقت تھا۔"اب جاگے ہو؟" میں نے جھنجھلا کر پوچھا۔

’’نہیں ابو، ابھی ڈیلیوریز کر کے آیا ہوں۔‘‘

"ڈیلیوریز؟" میں نے طنز کیا۔"یہ کوئی کیریئر نہیں، یہ تو تمھارا شوق ہے۔ تمھیں معلوم ہے تمہاری عمر میں میرے پاس گھر تھا، جبکہ تمھارے پاس اس عمر میں پیٹرول کے پیسے بھی نہیں ہوتے۔‘‘

اُس نے سیریل کا پیالہ رکھ دیا۔ اُس کی رنگت پیلی ہورہی تھی، پہلے سے زیادہ دُبلا لگ رہا تھا لیکن میں نے غصّے میں اُسے نظر انداز کردیا۔

اُس نے دھیمے لہجے میں کہا، ابو، مارکیٹ بہت مشکل ہے۔ انٹری لیول پر ہر کوئی تین سال کا تجربہ مانگتے ہیں، تجربہ کیسے کروں ایک چھوٹا سے کیبن تک کا کرایہ ہزاروں روپوں کاہوتا ہے۔ ہمارا سسٹم بہت عجیب ہے۔‘‘

’’سسٹم’ کو الزام دینا چھوڑو۔ بات ہمت کی ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو نوّے کی دہائی میں میرے لیے کام کرنا آسان تھا؟ لیکن کچھ نہ کچھ کرتا رہتا تھا۔‘‘

بیٹے نے میری طرف دیکھا، اس کی آنکھیں بھاری تھیں۔ اُس نے مدھم آواز میں کہا’’ کوشش کر رہا ہوں ابو، واقعی کر رہا ہوں۔ لیکن میں بہت تھک گیا ہوں۔‘‘

میں نے آنکھیں گھما کر کہا،’’تھک گئے ہو، کس بات سے، گاڑی چلانے سے یا فون پر باتیں کرنے سے۔میں دس دس گھنٹے کھڑا رہتا تھا، میں تو نہیں تھکتا تھا۔ تم بس سست ہو۔ تمہیں سب کچھ مفت ملا ہوا ہے بجلی، کھانا، چھت اور پھر بھی ایسے چلتے ہو جیسے دنیا کا بوجھ تم پر ہو۔‘‘

کچن میں خاموشی چھا گئی۔ ٹی وی کی ہلکی سی آواز آ رہی تھی۔ پس منظر میں خبریں چل رہی تھیں، مہنگائی کی بات ہو رہی تھی، مگر میں سن نہیں رہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ وہ مجھ سے بحث کرے، جواب دے، کچھ جوش دکھائے۔ لیکن اس نے صرف سر ہلا تے ہوئے کہا،

’’آپ ٹھیک کہتے ہیں، مجھے افسوس ہے کہ میں آپ جیسا نہیں ہوں، جیسا آپ میری عمر میں تھے۔ یہ کہہ کر وہ میری طرف آیا، اور وہ کام کیا جو اس نے دس برس کی عمر کے بعد نہیں کیا تھا۔ اس نے مجھے گلے لگا لیا۔ یہ مضبوط گلے لگانا نہیں تھا؛ ایسا لگا تھا جیسے میرا کندھا سہارا بنا کر ٹوٹ کر گر جانا ہو۔

’’میں مزید بوجھ نہیں بنوں گا ابو، وعدہ کرتا ہوں آپ سو جائیں۔‘‘

میں وہیں کھڑا رہا، خود کو حق بجانب محسوس کرتے ہوئے۔ میں نے سوچا،آخرکار اُس کو سمجھ آ گیا۔ سختی ہی اس نسل کو سیدھا کرتی ہے۔

میں مطمئن ہو کر سو گیا۔ اگلی صبح گھر میں حد سے زیادہ خاموشی تھی،میں صبح ساڑھے چھ بجے اٹھا، اسے جلدی جگانے کے لیے کہ آج میں خود اسے انڈسٹریل ایریا لے جانے والا تھا۔

’’اٹھو! میں نےکمرے کے دروازے پر زور سے دستک دی، کوئی جواب نہیں آیا تو میں نے دروازہ کھولا۔ کمرہ صاف تھا،چادر قرینے سے بچھی ہوئی، تکیے پر اس کا فون اور ایک خط رکھا تھا۔ میرے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔ میں نے فوراََخط پڑھا لکھا تھا، ابو میں جانتا ہوں آپ مجھے کمزور سمجھتے ہیں۔ میں واقعی آپ جیسا بننا چاہتا تھا، مگر جس پہاڑ پر آپ چڑھے تھے، اس پر اب راستہ ہی نہیں رہا۔

میں نے چار سو نوکریوں کے لیے اپلائی کیا لیکن آپ کو اس لیے نہیں بتایا کیونکہ مجھے شرم آتی تھی۔ میں اس ڈیلیوری ایپ پر دن کے چودہ گھنٹے گاڑی چلاتا تھا، صرف اپنے اسٹوڈنٹ لون کا سود ادا کرنے کے لیے، اصل رقم تو چھو بھی نہیں سکا۔میں آپ سے دوبارہ پیسے مانگنا نہیں چاہتا تھا۔

آپ ٹھیک کہتے ہیں ابو، دنیا مضبوط لوگوں کے لیے ہے اور میرے پاس اب لڑنے کی طاقت نہیں رہی۔ میں پرانا ٹرک لے کر پل پرجا رہا ہوں، اب آپ کو میرے بل نہیں بھرنے پڑیں گے۔

آپ کا بیٹا

میرے حلق سے چیخ نکلی اورفوراََ911 ملایا، پل کی طرف دوڑا۔ اتنی تیزی سے گاڑی چلائی کہ دنیا سرمئی لکیروں میں بدل گئی۔ میں نے دریا سے پہلے چمکتی ہوئی بتیاں دیکھیں پھر ٹرک دیکھا، جسے ٹھیک کرنے پر میں فخر کرتا تھا،وہ کیچڑ اور گھاس ٹپکاتا ہوا پانی سے نکالا جا رہا تھا۔

میں سڑک پر ڈھیر ہو گیا۔ میرے بیٹے کو دنیا سے گئےچھ ماہ ہو گئے ہیں۔ اب میرا کسی کام میں دل نہیں لگتا، گھنٹوں بیٹھا اُسے یاد کرتا رہتا ہوں۔ سوچتا ہوں ، اُس کے ساتھ زیادتی کردی۔ ماں اُسے بچپن میں چھوڑ کر دنیا سے چلی گئی تھی۔ میں نے اس کی کامیابی کو 1990 کے پیمانے سے ناپا، اور جب وہ اس میں پورا نہ اترا تو میں نے اسے طعنے دے دے کے مار دیا۔

اُسے لیکچر کی نہیں ایک ایسے باپ کی ضرورت تھی جو یہ سمجھے کہ ، بیٹا تھکا ہوا ہے، اس کا مطلب ہوتا ہے، میرے پاس جینے کی وجوہات ختم ہو رہی ہیں۔ بعد میں میں نے اس کے فون کے ریکارڈ دیکھے، وہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا۔ اس نے واقعی ملازمت کے لیے سیکڑوں درخواستیں دی تھیں، وہ اس وقت کام کر رہا ہوتا تھا جب میں سو رہا ہوتا تھا۔

وہ ایک ایسی جنگ لڑ رہا تھا، جسے میں نے دیکھنے سے انکار کر دیا۔ ہم اپنے بچوں سے کہتے ہیں، تمہاری عمر میں میرے پاس گھر اور گاڑی تھی۔ ہم یہ کہنا بھول جاتے ہیں کہ اُس وقت گھر کی قیمت دو سال کی تنخواہ تھی، بیس سال کی نہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارے پاس پنشن تھی، ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارے پاس امید تھی۔

ہمارے ارد گرد آج ایسے کئی نوجوان ہیں جو باپ سے کہیں زیادہ محنت کر رہے ہیں، ایک ٹوٹی ہوئی معیشت اور ایسی ڈیجیٹل تنہائی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں جسے ہم سمجھ ہی نہیں سکتے۔

والدین سے گزارش ہے کہ، اپنی بے روزگار اولاد کو کبھی یہ نہ کہیں کہ مرد بنو،بلکہ یہ کہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ان کی خاموشی کو سنیں ، اس سے پہلے کہ وہ ہمیشہ کے لیے دور ہو جائیں۔ آج میں اپنی ہر چیزاپنا گھر، اپنی پنشن، اپنا غرور قربان کر دینا چاہتا ہوں، بس ایک بار اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے۔ لیکن اب میرے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں۔

یاد رکھیں، جب والدین جوان بچوں کی ہر غلطی پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہیں، تو بچے اُُنہیں کچھ بتانے سے گریز کرتے ہیں، یوں والدین اور بچوں میں دوریاںبڑھ جاتی ہیں، وہ غلطیوں کو چھپانے لگتے ہیں۔ یہ سمجھنا کہ، سختی اور تنقید سے بچے سنجیدہ اور ذمہ دار بن جائیں گے، ایسا نہیں ہوتا۔ جو نوجوان والدین کی رہنمائی، صبر اور محبت کے زیرِ اثر بڑے ہوتے ہیں، وہ مستقبل میں زیادہ خوداعتماد، ذمہ دار اور معاشرتی طور پر فعال ہوتے ہیں۔

آج کے حالات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کتنے نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن مارکیٹ میں ملازمتیں ہی نہیں ہیں، ہر نوجوان پریشان ہے۔ یہ وقت ہے بچوں کا حوصلہ بڑھانے کا، اُن کی پریشانیاں دور کرنے کا، بے روزگاری کے طعنے نہ دیں، سست، کاہل، آرام طلب نہ کہیں، اُن سے باتیں کریں، اُن کے مسائل پوچھیں اور اُنہیں حل کرنے کی کوشش کریں، ورنہ پریشان باپ کی کہانی پھر کسی گھر میں دہرائی جاسکتی ہے۔

نوجوان سے مزید