مومنہ حنیف
آج نسلِ نو کا المیہ یہ ہے کہ وہ اکثر نصیحت قبول نہیں کرتے۔ یہ رویہ محض ضد یا نافرمانی کا نہیں بلکہ سماجی، نفسیاتی، تعلیمی اور تکنیکی عوامل کا مجموعہ ہے۔ کسی نوجوان کو سمجھائیں، نصیحت کریں تو جواب ملتا ہے’’بس کریں، لیکچر نہ دیں‘‘۔ سوال یہ ہے کہ جس نسل کو سب سے زیادہ رہنمائی چاہیے، وہی نصیحت سے سب سے زیادہ بھاگتی کیوں ہے؟ یہ صرف ایک گھر کا نہیں، ہر دوسرے گھر کا یہی حال ہے۔ نوجوان اور بڑوں کے بیچ نصیحت کا پُل ٹوٹ چکا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو اکثر نصیحت حکم کے انداز میں دی جاتی ہے۔ والدین یا اساتذہ اپنے تجربے کی بنیاد پر بات کرتے ہیں، مگر ان کا لہجہ سخت یا حکم دینے والا ہوتا ہے۔ نوجوان اس انداز کو قبول نہیں کرتے۔ دراصل بڑے نصیحت کے ساتھ فیصلہ سناتے ہیں۔’’تم ناکام ہو جاؤ گے‘‘، ’’تم بگڑی نسل ہو‘‘۔’’ہم اپنے زمانے میں پانچ کلومیٹر پیدل اسکول جاتے تھے‘‘وغیرہ وغیرہ، تمایسا کیوں نہیں کرتے۔ اب زمانہ بدل گیا۔ پرانے زمانے کے حل نئے زمانے کے مسئلوں پر فٹ نہیں ہوتے۔ نوجوان کہتے ہیں،’’آپ کو ہماری دنیا کا پتہ ہی نہیں‘‘۔
اگر سمجھانے کے انداز میں نرمی، محبت اور احترام نہ ہو تو وہ دل تک نہیں پہنچتی۔ نصیحت شروع ہی الزام سے ہوگی تواثر کہاں ہوگا۔ آج کے نوجوان ذہنی دباؤ، معاشرتی توقعات، تعلیمی چیلنجز، اور جدید ٹیکنالوجی میں گھرے ہوئے ہیں، جن کی وجہ سے ان کے فیصلے، رویے اور ردعمل مختلف ہو تے جارہے ہیں۔
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ہر روز نئی ایجادات، رجحانات اور نظریات سامنے آ رہے ہیں۔ اس تیز رفتار دنیا میں نوجوان خود کو ایک آزاد اور خودمختار فرد کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔ ان کے پاس انٹرنیٹ ہے، معلومات ہیں، اور دنیا ان کی انگلیوں پر ہے۔
لیکن کیا معلومات ہی کافی ہیں؟ کیا صرف جان لینا ہی سیکھنا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ معلومات اور حکمت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ معلومات راستہ دکھاتی ہے، مگر حکمت سکھاتی ہے کہ اس راستے پر کیسے چلنا ہے۔ نصیحت دراصل اسی حکمت کا نام ہے، جو تجربات کی بھٹی میں پکتی ہے۔
نوجوان جب نصیحت سسنا نہیں چاہتے ہے تو دراصل وہ اس حکمت سے دور ہو رہےہوتے ہیں جو ان کی زندگی کو سنوار سکتی ہے۔ ماضی میں خاندان ایک مضبوط اکائی ہوا کرتا تھا۔ بزرگوں کی باتوں کو نہ صرف سنا جاتا بلکہ عملی زندگی میں رہنمائی کا ذریعہ بھی بنایا جاتا تھا۔
پہلے بزرگ دانائی کا واحدذریعہ تھے۔ اب دس سیکنڈ میں دس موٹیویشنل اسپیکریو ٹیوب پر سن لینا آسان لگتا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کو ایک ایسی دنیا فراہم کر دی ہے جہاں وہ ہر سوال کا جواب چند سیکنڈ میں حاصل کر سکتے ہیں۔ اس فوری رسائی نے انہیں خود مختار بنا دیا ہے، اس لیے کسی کی بات سننے کی ضرورت محسوس نہیں۔
اگر کوئی اسے نصیحت کرے تو وہ اسے اپنی آزادی پر حملہ سمجھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نسلوں کے درمیان فکری فرق بھی اہم عنصر ہے۔ بزرگوں کی سوچ روایتی اقدار پر مبنی ہوتی ہے، جبکہ نوجوان جدید نظریات سے متاثر ہوتے ہیں۔ جب دونوں کے خیالات میں ہم آہنگی نہیں ہوگی ہو تو ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔۔ یہی تضاد فاصلے کو بڑھا دیتا ہے۔
پھر والدین اور بچوں کے درمیان مکالمے کی کمی ہے۔ بہت سے گھروں میں نوجوان کو اپنی بات کھل کر کہنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ جب وہ اپنے خیالات یا مسائل بیان کرتا ہے تو اسے فوراً نصیحت یا تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس رویے کی وجہ سے وہ آہستہ آہستہ اپنے دل کی بات کہنا چھوڑ دیتا ہے اور باہر کے ذرائع سے رہنمائی حاصل کرنے لگتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے کئی ایسے پہلو ہوتے ہیں جو صرف تجربے سے سیکھے جا سکتے ہیں، اور تجربےبزرگوں کے پاس ہوتے ہیں۔ ان کی نصیحت محض الفاظ نہیں بلکہ ایک مکمل زندگی کا نچوڑ ہوتی ہے۔ اگر نوجوان ان کی باتوں کو نظر انداز کرکے ایک قیمتی سرمایہ کھو دیتے ہیں۔ اپنی زندگی کے اہم فیصلے بغیر سوچے سمجھے کرتے ہیں۔ وہ تجربے سے سیکھنے کے بجائے غلطیاں کرتے ہیں، جو بعض اوقات ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔
دوسری طرف بڑوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ آج کا نوجوان مختلف حالات میں پروان چڑھ رہا ہے۔ ان کی مشکلات، چیلنجز اورسوچ ماضی سے مختلف ہے۔ اس مسئلے کا حل مؤثر مکالمہ ہے، گھر میں ایسا ماحول ہو جہاں نوجوان بلا جھجھک اپنی بات کہہ سکے اور بزرگ بھی تحمل سے سن کر، نصیحت بجائے رہنمائی کریں، انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ ان کی بات کی بھی اہمیت ہے، اس میں وزن ہے، اس طرح کا رویہ اُمید افزا ہوگا۔ اس کے علاوہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نہ صرفپڑھائیں لکھائیں بلکہ کردار سازی پر بھی توجہ دیں۔ اس طرح وہ اپنے اور نوجوانوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نوجوانوں کو بھی اپنی ذمہ داریکا احساس ہانا چاہیےگر وہ ہرکام خود کرنے کی کوشش کریں گے اور تجربہ کار لوگوں کو نظر انداز کریں گے تو وہ غلطیوں سے نہیں بچ سکیں گے۔ دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے، برداشت کرنے اور ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو تجربے کی قدر کرنی ہوگی اور بزرگوں کو نئے دور کی حقیقتوں کو قبول کرنا ہوگا۔