مُسب جمال
آج کا تقریبا ہر نوجوان پیسے کے پیچھے بھاگتا نظر آرہا ہے۔ اس کی دُھن میں وہ ادھر اُدھر دیکھنےکی زحمت بھی نہیں کر تے، یہاں تک کہ وہ معاشرے میں ر ہنے والوں سے تو کیا اپنے بغل میں رہنے والے ہمسایوں سے بھی بے گانہ رہتے ہیں، اپنے علاوہ کسی اور کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر تے، یہاں تک کہ، پیسا کمانے کی تگ و دو میں اپنےآپ سےبھی غافل نظر آتے ہیں لیکن کیسے کمانا ہے، اس سے لا علم ہوتے ہیں، سمجھتے ہیں تعلیم اسی لیےتو حاصل کی ہے۔
غالبا ان کی تعلیم کا آغاز ہی اس اُمید پر ہوتا ہے کہ ایک دن وہ کسی بڑی کمپنی کے ایئر کنڈیشنڈ دفتر میں بیٹھ کر آرام دہ زندگی گزاریں گے، خوب پیسا کمائیں گے۔لیکن جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے ان کے قدموں کے نیچے سے خوابوں کا قالین کھینچ لیا ہو۔
ایک اعلی تعلیم یافتہ نوجوان، جواپنی زندگی کے کئی سال تعلیم کے حصول میں گزارکر نوکری کے لئے دربدرمارا مارا پھرے، پھر بھی کچھ ہاتھ نہ آئے تو وہ کس کو دوش دے گا، والدین کو، جنہوں نے اُسے مستقبل کے سہانے خواب دکھائے تھے یا اساتذہ کو، جنہوں نے اس کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے ضمانت دی تھی کہ تعلیم مکمل کرتے ہی تمہیں بہترین ادارے میں ملازمت مل جائے گی، اعلی عہدے پر جلد فائز ہو جاؤ گے، لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب وہ ملا زمت کی تلاش میں نکلا تو پتا چلا، اس کی ڈگری اور قابلیت محض کاغذ کا ٹکڑا ہے۔ وہ تو سمجھا تھا پڑھ لکھ کر عیش ہی عیش ہوں گے، پیسا میری جیب میں ہی نہیں ہوگا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل بھی ہوگا ،مگر واہ ری قسمت، سارے خواب زمیں بوس ہوگئے۔
والدین، اساتذہ حیران ،وہ خود خاموش۔ اب اس کے من میں جنگ شروع ہوگئی۔ پہلا سوال اس کے ذہن میں آیا، ایسا کیا کروں کہ دولت میرے گھر کا راستہ دیکھ لے، میرے ساتھی مجھ پر رشک کریں۔ اس ہی سوچ نے اُسے ناجائز ذرائع سے پیسا کمانے پر مجبور کر دیا۔ بظاہر وہ لاکھوں میں کھیلنے لگا لیکن زندگی سے سکون ختم ہوگیا۔
ہمارے اردگرد ایسے ہزاروں نوجوان ہیں، جن کی قابلیت پر اساتذہ رشک کرتے، والدین فخر کرتے اُن کے گُن گاتے تھکتے نہیں، جب وہ ڈگری ہاتھوں میں لیے حسب خواہش کسی کمپنی یا ادارے میں جاتے تو اُنہیں صد فی صد یقین ہوتا کہ ،ہمارا تعلیمی ریکارڈ دیکھتے ہی فورا ملازمت مل جائے گی، لیکن جب انکار میں جواب ملتا تو یقین نہیں آتا، مگر یہ سوچ کر کہ، شاید میرے تعلیمی ریکارڈ سے ڈر گئے کہ کہیں یہ نوجوان ہمارے لئے مسائل نہ پیدا کر دے، جب پے در پے انکار سننا پڑا تودل برداشتہ ہونا فطری امر ہے۔
ایسے نوجوانوں کی اُمیدیں مایوسی میں بدل جاتی ہیں۔ اُس سمے والدین اور اساتذہ سوچتے ہیں ہمیں بچوں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہیں، نہ اُن سے کہنا چاہیں تعلیم مکمل ہوتے ہی ملازمت مل جائے گی، دراصل بچے ان باتوں سے متاثر ہو کر جھونپڑوں میں رہتے ہوئے محلوں کے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسے بے شمار نوجوان ہیں جنہیں اُن کی قابلیت اور صلاحیتوں کے مطابق کام نہیں ملتا، مجبورا وہ ایسے کام کرنے لگتے ہیں جو ان کے ہنر اور تعلیم سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ یہ منظر نامہ ہمارے نظام اور معاشرتی سوچ پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ آخر ہم نوجوانوں کو ایسےخواب کیوں دکھاتے ہیں کہ وہ پھر خوابوں کی راکھ سمیٹنے کے بھی قابل نہیں رہتے۔
اس میں دو رائے نہیں کہ آج کے نوجوانوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے روزگار کو صرف ایک ذریعہ آمدنی سمجھ لیا ہے، اُنہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نوکری صرف پیسا کمانے کاذریعہ نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار، اور ترقی کا ایک راستہ بھی ہے۔ لیکن جب والدین کا دباؤ ،اساتذہ کا یقین اور اُمیدوں کا بوجھ نوجوانوں پر ڈال دیا جاتا ہے تو ان کی صلاحیتیں اور ان کے خواب دب جاتے ہیں۔
ملازمت نہ ملنے کی صورت میں وہ ایسے کام کرنے لگتے ہیں جس سے پیسا تو کما لیتے ہیں لیکن عزت نہیں ملتی، ایک مسلہ یہ بھی ہے کہ، ہمارے یہاں”اچھا کام‘‘ اس نوکری کو کہا جاتا ہے جس میں پیسے زیادہ ملیں، چاہے اس میں بندہ اپنی ذات سے دور کیوں نہ ہو جائے۔ ناکامی کی صورت میں اُنہیں اس کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ، ہمارے معاشرے میں قابلیت کی بجائےتعلقات یا سفارشات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ جن کے پاس سفارش ہو، ان کے لئے دروازے کھلے ہیں، قابل باہر ہی کھڑے رہ جاتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب وہ ”روزگار” کے حصول کے لیے ادھر اُدھر جاتے ہیں،ایک کمپنی سے دوسری کمپنی، ایک شہر سے دوسرے شہرکا رُخ کرتے ہیں تو ہر قدم پر مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں ملازمت ملنے کے امکاں ہوتے ہیں، وہاں بات بنتے بنتےصرف تن خواہ کم ملنے پر ختم ہو جاتی ہے۔
قابل نوجوان پُر کشش تن خواہ کے ساتھ سہولتیں بھی چاہتے ہیں، نہ ملنے کی صورت میں دوسری، تیسری کمپنی یا ادارے میں قدم بڑ ھاتے ہیں، مگر کم تنخواہ اُنہیں قبول نہیں ہوتی، یوں وہ دھکے کھاتے کھاتے ناجائز ذرائع سے پیسا کمانے لگتے ہیں، اور الزام والدین، اساتذہ کو دیتے ہیں کہ اُنہوں نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ تعلیم مکمل ہوتے ہی ملازمت مل جائے گی،خوب پیسا کماؤ گے۔
سوال یہ ہے کہ، کیا صرف پیسا کمانا ہی زندگی کا مقصد ہونا چاہئے یا ایسی نوکری کی تلاش، جس میں اُن کی صلاحیتوں کو جلاملے، آگے بڑھنے کے راستے ہموار ہوں، سنیرز کے تجربوں سے سیکھیں، اس کے بعد خود کچھ کر کے دکھایئں گے توقدر بھی ہوگی اور ترقی بھی، پھر اس پوزیشن میں ہوں گے کہ اپنے مطالبات منوا سکیں۔
عملی زندگی میں تجربہ ضروری ہوتا ہے، جس کے لئے ابتدا ناتجربہ کاری سے ہوتی ہے تو کیسے سوچا جا سکتا ہے کہ پہلی ہی ملازمت آپ کی منشا کے مطابق ہو۔ دراصل آج کے بیش ترنوجوان ایک ایسے دائرے میں قید ہیں جس سے باہر نکلنا ان کے لئے ناممکن ہو گیا ہے۔ روزگار کا حصول ضروری ہے، مگر اُنہیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ روزگار زندگی کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔
صلاحیتوں کا صحیح استعمال ہی اصل کامیابی ہوتی ہے۔ والدین کے دباؤ ،اساتذہ کے یقین اور اُن کے خواب، جو پیسے کے گرد گھومتے ہیں، چکنا چور ہونے کی صورت میں ان کی صلاحیتیں ہی نہیں خواب بھی راکھ ہو جاتے ہیں۔ اب یہ فیصلہ نوجوان کریں کہ پڑھ لکھ کر اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھانا ہے یا پیسہ کمانا ہے، جس کے لئے اچھے بُرے کی تمیز بھی ختم کردیں۔