کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب ہےجہاں روزمرہ شہری مسائل میں اندھا دھند اضافہ ہو رہا ہے، جیسے ٹریفک، صفائی ستھرائی، پانی کی فراہمی، سیوریج، سڑکوں، پلوں فلائی اوورز کی تعمیرو ترقی، ماحولیاتی آلودگی وغیرہ، جو انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ شہری امور کے ساتھ ان مسائل کے حل میں نہ صرف نوجوان اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں بلکہ وہ بلدیاتی ادارے جو ان مسائل کے حل کے ذمہ دار ہیں ان میں شامل ہوکر کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
آج کے نوجوانوں کی سوچ اور فکر عالمی سطح کو چھو رہی ہے، شوشل میڈیا کے استعمال سے دنیا کے مختلف شہروں کے اُمور، انتظام انصرام پر بھی ان کی گہری نظر ہے، ترقی یافتہ ملکوں کے شہروں کی مؤثر کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اُن میں نوجوانوں کی شمولیت کو بھی ہمارے نوجوان جانتے ہیں، اس لئیے منی پاکستان کے شہری امور میں ان کی بڑے پیمانے پرشمولیت خوش آئند ہوسکتی ہے۔
اس سے انکار ممکن نہیں کہ، کراچی جیسے بڑے شہر میں شہری امور کی پیچیدگی بہت زیادہ ہے۔ تیزی سے بڑھتی آبادی، غیر منظم شہری پھیلاؤ اور وسائل کی کمی نے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔
بلدیاتی ادارے جیسے میونسپل کارپوریشنز، ٹاؤنز اور یونین کونسلز، سندھ سالیڈ ویسٹ مینجمنٹ، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن، سندھ بلڈنگ کنڑول اتھارٹی، ادارہ ترقیات کراچی، ملیر اور لیاری ڈاولیپ اتھارٹی کے علاوہ دیگر شہری اداروں پران مسائل کے حل کے ذمے داری عائد ہوتی ہے ، مگر افرادی قوت، جدید ٹیکنالوجی، نئی سوچ اور عوامی شمولیت کی کمی ان اداروں کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔
نوجوان کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں، ان میں توانائی، تخلیقی صلاحیت اور نئی سوچ ہوتی ہے، جو شہری مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں کی طرح کراچی میں بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے، جو اگر منظم طریقے سے شہری اُمور میں دلچسپی لیں تو شہر کی بہتری ممکن ہے، علاوہ ازیں نوجوان سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی شہری مسائل کے بارے میں آگاہی پھیلا سکتے ہیں، جیسے صفائی ستھرائی کی مہمات، کچرے کو مخصوص مقامات پر ڈالنا ٹریفک قوانین کی پابندی، پانی کے ضیاع کو روکنا، ٹریفک کے قوانین اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام وغیرہ،نیز نوجوان مختلف سماجی تنظیموں کے ذریعے بھی رضا کارانہ خدمات جیسے شہر کو صاف ستھرا رکھنا، شجرکاری مہم چلانا، فلاحی، تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنا شامل ہیں۔
تعلیم یافتہ نوجوان بلدیاتی سطح پر پالیسی سازی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے، جدید آئیڈیاز اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے بہتر منصوبہ بندی میں مدد دے سکتے ہیں، ڈیجیٹل حل بھی بتاسکتے ہیں، کیوں کہ آج کے دور میں ٹیکنالوجی کا استعمال نہایت اہم ہے، نوجوان ایپس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے شہری مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے مؤثر نظام بنا سکتے ہیں، نوجوان بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے کر شہری قیادت کی باگ ڈور سنبھال سکتے ہیں، جس سے ایک نئی اور صلاحیتوں سے مالا مال قیادت سامنے آسکتی ہے۔
گرچہ یہ حقیقت ہے کہ نوجوانوں کو مواقع کی کمی کا سامنا ہے، سیاسی عدم استحکام تربیت اور رہنمائی کی کمی ہے، لیکن اسے اپنی مدد آپ کے تحت دور کیا جاسکتا ہے، جیسے مختلف ادارے شہری امور میں نوجوانوں کے لیئے خصوصی تربیتی پروگرامز شروع کیے جا سکتے ہیں، بلدیاتی اداروں میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کر کے نوجوانوں کی تربیت، تعلیمی اداروں اور بلدیاتی اداروں کے درمیان روابط، شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام کا قیام عمل میں لا یا جاسکتا ہے۔
یہ بات ہمیں سمجھ لینی چاہیے کہ شہری مسائل کے حل کے لیے نوجوانوں کی شمولیت ناگزیر ہے۔ اگر بلدیاتی ادارے نوجوانوں کو مناسب مواقع اور پلیٹ فارم فراہم کریں گےتو وہ نہ صرف مسائل کی نشاندہی بلکہ ان کے پائیدار حل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک متحرک، باشعور اور فعال نوجوان ہی ایک بہتر اور ترقی یافتہ کراچی کی ضمانت بن سکتا ہے۔
شہری امور میں بلدیاتی اداروں کے ذریعے نوجوانوں کی شمولیت سب سے موثر ثابت ہوسکتی ہے، وجہ یہ ہےکہ، ان اداروں کے پاس بڑے پیمانے پر وسائل، فنڈز اور اختیارات ہوتے ہیں۔ کراچی کے بلدیاتی اداروں میں اس وقت جو نظام قائم ہے، اس نظام کے تحت نوجوانوں کو کیا مواقع فراہم ہیں، اسے بھی جاننا ضروری ہے۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل میں مخصوص نشستوں کی تعداد 121ہے، ان میں سے 12نشستں نوجوان کے لیے مختص ہیں یعنی صرف 5 فیصد نوجوانوں کی نمائندگی ہے۔ 25 ٹاؤنز میں بھی نوجوانوں کے لیے 5فیصد نشستیں مختص ہیں، گو کہ ہر ٹاؤن میں نشستوں کی تعداد مختلف ہے لیکن منتخب ہونے کا ایک ہی اُصول ہے۔ یونین کیمٹی کی سطح پر ایک نشست ہر یونین کیمٹی میں نوجوانوں کے لیے مختص کی گئی ہے لیکن اگر نوجوان براہ راست بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینا چاہیں تو ان پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔
کراچی کے بلدیاتی نظام میں نوجوان ان نشستوں پر کیسے آتے اور ان کا اثر کتنا ہوتا ہے، اس سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ، ان نشستوں پر انتخاب کا طریقہ کیا ہے۔ نوجوانوں کا بلدیاتی اداروں کے لیئے براہِ راست انتخاب نہیں ہوتا، زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان خود عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔
ان کا انتخاب براہِ راست الیکشن سے نہیں بلکہ بالواسطہ انتخابات کے ذریعے ہوتا ہے، ہر سیاسی جماعت کو اس کی جیتی ہوئی جنرل نشستوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملتی ہیں، پھر وہ جماعت خود اپنے اُمیدوار نامزد کرتی ہے یعنی پارٹی ٹکٹ ہی کامیابی کا اصل ذریعہ ہے،عوام کا براہِ راست ووٹ نہیں ہوتا۔
یونین کمیٹی (UC) کی سطح پر نوجوان رکن عام طور پر منتخب پینل کا حصہ ہوتے ہیں ۔یعنی چیئرمین، وائس چیئرمین کے ساتھ ایک ٹیم کی صورت میں منتخب ہوتے ہیں۔ نوجوان نمائندے اگر متحرک ہوں گے تو سوشل میڈیا کے ذریعے مسائل اُجاگر کرسکتے ہیں، مقامی سطح پر بھی صفائی، پانیاور دیگر مسائل پر آواز بلند کر کے کسی حد تک مسائل ختم نہیں تو کم ضرور ہو سکتے ہیں اور ہونے بھی چاہیں۔
نئی سوچ اور توانائی کے ساتھ کام کریں گے، شہریوں خصوصاً نوجوان ووٹرز سے بہتر رابطہ رکھے گے تو یقیننا بہتری ہو گی لیکن حقیقت یہ بھی ہے ان کا اثر اکثر محدود رہتا ہے، کیونکہ اختیارات کم ہوتے ہیں، اصل فیصلے چیئرمین، میئر یا پارٹی قیادت کرتی ہے، پھر سیاسی پارٹی پر انحصار ہوتا ہے، اپنی رائے کے بجائے پارٹی لائن فالو کرنا پڑتی ہے، ایسا اس لیے بھی کرنا پڑتا ہے کہ، بہت سے نوجوان پہلی بار سیاست میں آتے ہیں، انہیں سیاست کی الف بے کا علم ہوتا ہے نہ سیاسی نظام کی پیچیدگی، بیوروکریسی اور فنڈز تک رسائی کا، جو آسان نہیں ہوتی گو کہ نوجوان ہیں، نشستیں بھی ہیں لیکن اختیار اور خودمختاری محدود ہے۔
اگر حکام شہری اُمور میں بہتری کے لئے واقعی نوجوانوں کے مؤثرکردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں تواُنہیں براہِ راست انتخاب سے لا نا بہترہوگا، انہیں کمیٹیوں اور فیصلوں میں واضح کردار دینا پڑے گا، ٹریننگ اور لیڈرشپ پروگرامز شروع کر نا ہوں گے، فنڈز اور اختیارات میں حصہ دینا ہوگا، تاکہ وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔
نوجوان بلدیاتی نظام کا حصہ تو ہیں مگر فی الحال زیادہ تر علامتی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر انہیں اختیارات اور آزادانہ کام کرنے کے مواقع دئیےجائیں گے تو وہ کراچی کے مسائل کے حل اور شہری اُمور کی بہتری میں گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔