فقیر کالونی، کراچی کے عبدالولی کے بارے میں پڑھ کرشاید ہمارے نوجوان بھی وہ کچھ کرنے کا سوچیں جو عبدالولی نے کیا، جسے شاذونادر ہی کوئی کر سکتا ہے۔اسے وژن، ذمہ داری، خود اعتمادی، اور مسلسل سیکھنا کہتے ہیں ۔ عبدالولی فقیر کالونی، کراچی میں رہتا تھا۔
اُس نے7 سال کی عمر میں چائلڈ لیبر سے کام کا آغاز کیا، وہ پڑھنا چاہتا تھا لیکن وسائل نہ تھے، باتیں کرنا چاہتا تھا لیکن دوست تھے نہ بہن بھائی اور نہ ہی ماں باپ، کھیلنے کو جی چاہتا تھا لیکن کھلونے نہیں تھے، گزر بسر کے لیےکچھ تو کرنا تھا، سو ہاتھ پھیلانے کے بجائے کام کرنے لگا۔ ابتدا میں14 سال تک، ویٹر، سیلز مین، پھل فروش، بس کنڈکٹر، اور سڑک کنارے بریانی بیچنے کا کام کیا۔
یہ اس کی زندگی کا پہلا مرحلہ تھا. رہنمائی، آزمائش اور غلطی کے بغیر زندہ رہنا، غربت کے چکر میں پھنس جانا لیکن کام کرتے رہنا۔
پھر دوسرا مرحلہ آیا ہاتھ میں کچھ پیسے آے تو سوچ کا دائرہ وسیع ہوا۔2008 میں ایک اہم فیصلہ کیا۔ انگریزی زبان سیکھنے کے ساتھ کمپیوٹر کورسز میں داخلہ لینے کا۔
2010 میں اس نے انٹرنیٹ کی افادیت کو سمجھااور وقت ضائع کرنے کے بجائے، خود سے پوچھا: "میں اس سے زندگی کی تعمیر کیسے کر سکتا ہوں؟" پھر فیصلہ کیا کہ جو کچھ میں نے سیکھا، پڑھا، وہ دوسروں کو بھی سکھاؤں۔
ایک دن اُس نے آن لائن پڑھانے کا آغاز کیا، ساتھ ایک ایسا پلیٹ فارم منتخب کیا جو لاکھوں لوگوں کو بلاگنگ، ویب ڈویلپمنٹ، اور ڈیجیٹل مہارتیں سکھاتا ہے، اُسے سمجھا، Udemyپر کورسز بنائے جو 197 ممالک میں تقریباً 1 ملین طلباء تک پہنچے۔ ذرا سوچیئے، غور کیجیے کہ یہ وہی چائلڈ لیبر ہے جوبچپن میں لفظ انگلش نہیں پڑھ سکتا تھا اب عالمی اسٹیج پر انگریزی میں پڑھا رہا ہے۔
اور لوگ اب بھی اسے "قسمت" کہتے ہیں۔ لیکن اگر قسمت کا مطلب ہے "صحیح علم کے تحت محنت،" تو ہاں، وہ خوش قسمت ہے، کیونکہ ہم سب محنت کرتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے زیادہ تر آنکھیں بند کر کے محنت کرتے ہیں، بغیر کسی سرپرست کے، بغیر ملکیت کے- عبدالولی نے مقصد کے ساتھ محنت کی۔
اس نے وقت کا ہر لمحہ اور توانائی کو مسلسل سیکھنے میں لگا دیا،کوئی بہانہ نہیں کیا،کسی پر الزام تراشی نہیں کی،صرف مسلسل محنت، کام کام اور بس کام- نتیجہ یہ نکلا کہ15 سالوں میں اُس کی زندگی بدل گئی۔
یہ ایک تلخ سچائی ہے، جسے زیادہ تر لوگ قبول نہیں کرتے وہ یہ کہ، آپ کا پس منظر آپ کا مستقبل نہیں لکھتا۔ آپ کی ذہنیت، آپ کا نقطہ نظر، اور آپ کے روزمرہ کے انتخاب اسے لکھتے ہیں۔
تو آج اپنے آپ سے پوچھیں،کیا آپ پہلے مرحلے میں پھنس گئے ہیں؟ زندگی کے دھارے میں بہہ رہے ہیں ، دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، الزام تراشی کر رہے ہیں، صرف زندہ رہنا مقصد ہے یا دوسرے مرحلے میں قدم رکھنے کے لیے تیار ہیں؟
پوری ذمہ داری لینا، سیکھنا، تعمیر کرنا، اور ایسی زندگی بنانا جس پر آپ کو افسوس نہیں ہوگا، کیونکہ آپ کی زندگی بدل سکتی ہے۔ لیکن صرف اس وقت جب آپ اسے سمجھتے ہیں، بہتر انداز میں گزارنےکا فیصلہ کرتے ہیں۔ زندگی مختصر ہے، اور ایک دن یہ ختم ہو جائے گی اس سے پہلے کہ آپ کو اسےضائع کرنے کا احساس ہو۔ عبدالولی کی طرح سوچیئے اور تلخ ماضی کو اپنا مستقبل وضع کرنے کی اجازت نہ دیں، اس کا تصور کریں، اسے بنائیں اور اس کا احساس کریں۔
(رضا کاظمی نے انگریزی سے اردو ترجمہ کیا)