• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اوسلو: امریکی سفارتخانے کے قریب دھماکا، کیا ایران ملوث ہے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں واقع امریکی سفارت خانے کے قریب دھماکے کے بعد ایران کے ممکنہ کردار کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اتوار 8 مارچ کو ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں سفارت خانے کی عمارت کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

ناروے کی وزیرِ انصاف و عوامی تحفظ نے واقعے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور پولیس بڑی تعداد میں وسائل استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفارتی مشنز کی سیکیورٹی ناروے کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس واقعے کی تحقیقات پولیس کر رہی ہے۔

دھماکے کے چند گھنٹوں بعد پولیس نے سفارت خانے کے اطراف کے علاقے کو محفوظ قرار دے دیا اور شہریوں کے لیے خطرے کی کوئی فوری علامت ظاہر نہیں ہوئی۔

تاہم اوسلو پولیس کے کمانڈر نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جس سے اس دھماکے کو مشرقِ وسطیٰ کی جاری کشیدگی یا ایران سے جوڑا جا سکے۔

ان کے مطابق ابھی اس واقعے کو تنازع سے جوڑنا بہت قبل از وقت ہے، تحقیقات جاری ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کی سیکیورٹی پہلے ہی ہائی الرٹ پر ہے۔

خلیجی ممالک میں کئی امریکی سفارتی عمارتیں ایرانی جوابی کارروائیوں کا نشانہ بھی بن چکی ہیں، جس کے باعث اس دھماکے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید