امریکا و اسرائیل کی ایران پر خونی یلغار اور پھر ایران کےجوابی وار سے مشرق ِوسطی اور جنوبی ایشیاکا مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہوگیاہے۔ اس جنگ کے نتائج سوچ کر ہی خوف آنے لگتا ہے۔اگر اس جنگ کو نہ روکا گیا اور مذاکرات کی راہ نہ اپنائی گئی تو خاکم بدہن یہ تیسری عالمی جنگ پیش خیمہ بن سکتی ہے۔قارئین! اس پر تبصرے وتجزئیے سے قبل ایران کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالتے ہیں۔ ایران کی تاریخ بھی قدیم ایشیائی سلطنتوں کی طرح طویل ہے۔ تین ہزار سال قبل مسیح میں یہاں آریہ قوم آوارد ہوئی۔ بعد ازاں یہ میڈیا اور پارس دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی۔ پھر 550 ق م میں متحد ہوگئی اور سلطنت فارس کی بنیاد ڈالی جس کے پہلے حکمران ”سائرس اعظم“ تھے۔ سائرس اعظم کی سلطنت بحیرہ روم کے مشرقی ساحل سے افغانستان کی مشرقی سرحد تک پھیلی ہوئی تھی جس میں ایشیائے کوچک کی یونانی ریاستیں، باختر، افغانستان، مکران کے علاقوں کے علاوہ بابل کی مشہور دی اشوری سلطنت بھی شامل کرلی گئی تھی۔ 330ق م میں یونانی فاتح سکندر اعظم نے بادشاہ داریوس سوئم کو شکست دی۔ اس کے جانشینوں کی حکومت کا سلسلہ 185 ق م تک جاری رہا۔ 224ءسے 652ءتک ایران پر ساسانی حکمران رہے۔ ساسانی خاندان کے تین بادشاہوں کا لقب ”یزدگرد“ تھا۔ 628ءمیں حضور ﷺنے ایران کے بادشاہ نوشیرواںکے پوتے ”خسرو پرویز“ کو اسلام کی دعوت کا نامہ مبارک بھیجا لیکن اس نے گستاخی کا ارتکاب کرتے ہوئے اسے پھاڑ ڈالا۔ اس کا دور حکومت 590ءسے628 ءتک رہا۔ حضرت عمر فاروق کے عہد میں خسرو پرویز کے پوتے ”یزدگرد سوئم“ کو اسلام کی دعوت دوبارہ دی گئی مگر اس نے انکار کرتے ہوئے سفیروں کو دربار سے نکال دیا۔ چنانچہ قادسیہ کی جنگ میں ایرانیوں کو شکست فاش ہوئی۔ ایران کا تاریخی پرچم درفش کاویانی عربوں کے ہاتھ آگیا۔ دوسرے سال دارالحکومت طیسفون پر بھی مسلمان قابض ہوگئے۔ یزدگرد کی فوجوں سے مجاہدین اسلام کا آخری معرکہ 642ءمیں نہاوند میں ہوا۔ فتح کے بعد ایران خلافت راشدہ کاحصہ رہا۔ خلافت راشدہ کے بعد بھی یہ بنوامیہ اور بنوعباس کی خلافت کا حصہ رہا۔ عربوں کے بعد 1037ءمیں ترکوں اورپھر 1387ءمیںمنگولوں نے ایران پر تصرف حاصل کرلیا۔ صفوی خاندان نے 1499ءمیں اقتدار لیا۔ 1736ءمیں نادرشاہ نے ایرانی تخت پر قبضہ کرنےکیلئے حملہ کردیا۔ 1794ءمیں قاچار قبیلے کے ایک سردار آغا محمد نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ 1901ءمیں ایران کی سرزمین پر تیل دریافت ہوا چنانچہ روس اور برطانیہ نے 1907ءمیں ایک معاہدہ کیا جس کی بدولت ایران کو اپنے اپنے حلقہ اثر میں تقسیم کرلیا۔ 1921ءمیں ایک جرنیل رضا خان نے بادشاہ کا تخت اُلٹ کر پہلوی خاندان کے اقتدار کی بنیاد رکھی۔ 1941ءمیں روسی وبرطانوی فوجوں نے ایران پر قبضہ کرلیا۔ 1946ءمیں روسی افواج واپس چلی گئیں۔ 17 جنوری 1979ءکو شاہ ایران مسلح بغاوت کی وجہ سے ملک سے فرار ہوگئے۔ فروری 1979ءکو جلاوطن رہنما روح اللہ موسوی خمینی نے فرانس سے تہران پہنچ کر زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لی۔ ستمبر 1980ءسے اگست 1988ءتک ایران عراق جنگ ہوئی۔ جون 1989ءمیں روح اللہ موسوی خمینی کا انتقال ہوگیا۔ اسکے بعد ”آیت اﷲ خامنہ ای“ ایران کے روحانی و مذہبی رہنما بنے ۔28فروری 2026ء کوامریکی و اسرائیلی حملوں میں آیت اﷲ خامنہ ای شہید ہوگئے۔اسکے بعد سے شدت سے جنگ جاری ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے پوری دنیا کا معاشی، سیاسی، مواصلاتی ہر قسم کا نظام شدید متاثر ہے۔ اگلے لمحے کیا ہوگا؟ کسی کو کچھ خبر نہیں۔ایک طرف استعماری طاقتیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں میں تیزی سے اضافہ کررہی ہیں۔ سامراجی ممالک پہلے آپس میں معاہدے کرتے ہیں۔ پھر اسلحہ کو فروخت کرنے کیلئے چھوٹے خصوصاً مسلم ممالک میں شورشیں بھی خود ہی بپا کرتے ہیں۔ دوسری طرف مسلم ممالک پر مختلف حیلے بہانوں سے ان کے بے پناہ وسائل لوٹنے کیلئے خونیں یلغار کرتے ہیں۔ عالمی طاقتوں کو اسرائیل اور بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں سے کوئی خطرہ نہیں۔ اگر دنیا کے امن کو خطرہ ہے تو صرف پاکستان اور ایران کے ایٹمی پروگرام ہی سے ہے۔ کیا اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں اور اسرائیل وبھارت عالمی طاقتوں کے ہمنوا ہیں۔ عالمی طاقتوں نے تیسری دنیا خصوصاً عالمِ اسلام کیلئے ٹوٹریک پالیسیاں بنارکھی ہیں جس کی وجہ سے جنگ،لڑائی جھگڑا ،دہشت گردی، بدامنی، بے چینی، انارکی، غربت، خون خرابے، ظلم وفساد میں اضافہ ہورہا ہے۔ اگر عالمی طاقتوں نے اپنے رویوں میں تبدیلی نہ کی اور اگر اس جنگ کو نہ روکا گیا اور مذاکرات کی راہ نہ اپنائی گئی تو خاکم بدہن یہ تیسری عالمی جنگ پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اب اگریہ تیسری عالمی جنگ ہوئی یا تہذیبوں کا تصادم ہوا تو اس کااصل ذمہ دار امریکا ہی ہوگا۔ 1945ءمیں جاپان کے دو شہروں ”ہیروشیما اور ناگاساکی“ پر امریکا نے ہی انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایٹم بم گرائےاور چشم زدن میں دو لاکھ افراد پانی کے بلبلے کی طرح پگھل کر رہ گئے۔ امریکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے 29 آزاد ملکوں پر جارحیت کا ارتکاب کرچکا ہے۔جزوی طورپر تو درجنوں ممالک پر شب خون مارچکا ہے۔ امریکا کے ذمہ اب تک 171.7 ملین افراد کا قتل بلاشک وشبہ ثابت ہے۔ ریڈ انڈینز 100 ملین، افریقی 60 ملین ،ویت نامی 10 ملین،عراقی 1.2 ملین، افغان نصف ملین، کل فردِ جرم 171.7 ملین۔ اب آپ ہی بتایے 171 ملین سے زیادہ کی رگ جان سے خون پینے والے امریکا کو ”انسانیت کے قاتل“ کے علاوہ اور کیا نام دیا جاسکتا ہے تاحال اس کی خون آشامی کا سلسلہ جاری ہے۔1991ءمیں روس کی شکست کے بعد امریکا کے مرتب کردہ ”نیو ورلڈ آرڈر“ میں کہا گیا کہ پوری دنیا پر بلاشرکت غیرے امریکا کی حکمرانی ہوگی۔ جہاں کہیں بھی امریکی مفادات کو خطرات لاحق ہوں گے وہاں وہ کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ نیو ورلڈ آرڈر کے ذریعے اصل میں امریکا ”عالمی تھانے داری“ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ جو دعویٰ آج کا سپر پاور کرتا ہے کبھی قیصر وکسریٰ بھی یہی کہتے تھے لیکن آج ان کا نام ونشان نہیں۔