• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بے حساب خواہشات، مگر انہیں پورا کرنے کے لیے محدود وسائل میں گھرے ہوئے انسان کی کوششوں کے مطالعہ کو ”معاشیات“ کہتے ہیں۔ انسان معاشی جدوجہد کرنے کے لیے اس لیے مجبور ہے کہ اس کی معاشی ضروریات تو بے شمار ہیں مگر ان کو پورا کرنے کے ذرائع بہت محدود ہیں۔ معاشیات کا علم انسان کی اس سلسلے میں مدد کرتا ہے کہ وہ اپنے محدود وسائل کو کام میں لا کر اپنی لا محدود ضروریات کو پورا کر ے۔ ایڈم اسمتھ نے جسے معاشیات کا حقیقی بانی مانا جاتا ہے، 1776ءمیں معاشیات کے بارے میں سب سے پہلے ایک باقاعدہ کتاب لکھی اور اس کا نام ”اقوام کی دولت کی نوعیت اور وجوہات کی تحقیق“ رکھا۔ ایڈم اسمتھ نے اپنی اس کتاب میں اُن عوامل کی وضاحت کی جو کسی قوم کی دولت اور خوشحالی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ اس نے پیدائشِ دولت، صرف دولت، تبادلہ دولت اور تقسیمِ دولت سے متعلق سرگرمیوں کو معاشیات کا نفسِ مضمون قرار دیا۔نیو کلاسیکل معیشت دانوں میں پروفیسر الفریڈ مار شل وہ پہلے معیشت دان ہیں، جنہوں نے معاشیات کی از سرِ نو تعریف بیان کر کے اسے معاشرتی علوم میں ایک قابلِ عزت مقام دلایا اور اس کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کیا۔پاکستان کا قیام جس خطے پر عمل میں آیا، آزادی سے پہلے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی تھی۔ مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کے باعث انگریزوں نے یہاں کوئی صنعت نہیں لگائی تھی۔ جو چند ایک کار خانے تھے، ہندو جاتے وقت اس کی مشینری تک لے گئے تھے۔ بنیادی طور پر یہ علاقہ زرعی تھا، لیکن آزادی کے فوراً بعد حکومتِ بھارت نے اس کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے نہری پانی بند کر دیا۔ چنانچہ حکومتِ پاکستان نے زراعت کو تباہی سے بچانے کے لیے قیمتاً بھارت سے نہری پانی حاصل کیا۔ ان تمام دشواریوں کے باوجود قائد اعظمؒ نے 11دسمبر 1948ءکو پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”اگر ہماری آرزو ہے کہ پاکستان کی عظیم مملکت کو مطمئن اور خوشحال بنا دیں تو ہمیں دل و جان سے قوم خصوصاً عوام اور غریبوں کی بہبود کو اپنی تمام تر توجہات کا مرکز بنانا چاہیے۔“ پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔

عوام کو بنیادی ضروریاتِ زندگی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلہ میں کم درجہ میں میسر ہیں، جس کی درج ذیل وجوہات ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں فی کس سالانہ اوسط آمدنی 16 ہزار ڈالر سالانہ سے زیادہ ہے، جبکہ پاکستان اور دیگر ایشیائی ممالک میں یہ آمدنی 400ڈالر سے بھی کم ہے۔ فی کس آمدنی میں اضافہ اسی وقت ممکن ہے، جب بحیثیت مجموعی پاکستان کے تمام شعبوں میں سائنسی بنیادوں پر تبدیلیاں لائی جائیں۔حکومتِ پاکستان اس سلسلہ میں اپنی مقدور بھر کوشش کر رہی ہے۔ وہ پیداواری شعبوں میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کروا رہی ہے۔ امید ہے اس سے فی کس آمدنی میں اضافہ ہو گا۔ہر ملک کی معیشت میں قدرتی وسائل کے ساتھ آبادی کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ جب تک افراد اُن وسائل سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے طریقوں سے واقف اور ان سے مستفید ہونے کی صلاحیت کے حامل نہ ہوں، تب تک کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ پاکستان کی آبادی 1998ءمیں تقریباً 14کروڑ تھی۔ 1998ءسےاب تک پاکستان کی شرحِ افزائش میں اڑھائی فیصد کے حساب سے اضافہ ہو ا ہے۔ پاکستان کی اس آبادی میں 39فیصد افراد بے روز گار ہیں۔ اس طرح خود کفیل آبادی پر زیرِ کفالت افراد کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ماہرین کے نزدیک یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ غریب ممالک میں ترقیاتی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ اس کے باعث معاشی اصلاح کی تمام تر کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔ اس لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی معیشت پر آبادی کا جو دبائوبڑھتا جا رہا ہے، اسے کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ تب ہی قدرتی وسائل سے بھر پور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ماہرینِ معاشیات اس مسئلہ کا حل اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ”زمین کی زرخیزی کو بڑھائواور نوعِ انسانی کی زرخیزی کو گھٹائو“ پاکستان کو قدرت نے بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے، لیکن سرمایہ اور ماہرین کی قلت، نیز سائنس اور ٹیکنالوجی کی کمی کے باعث اُن سے خاطر خواہ استفادہ نہیں کیا گیا۔ پاکستان میں بہت سی زمینیں قابلِ کاشت ہونےکے باوجود پانی کی کمی کے باعث بیکار پڑی ہیں۔ کو ہستانی علاقے معدنیات سے مالا مال ہیں، بہت سا خام مال محض سہولیات کی کمی کی وجہ سے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔ حکومتِ پاکستان قدرتی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے جد و جہد کر رہی ہے۔۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی افرادی قوت کو بہتر بنایا جائے اور ٹیکنالوجی کو جدید سے جدید تر کیا جائے۔ اس وقت پاکستانی معیشت کی ترقی کے امکانات اور زیادہ روشن ہو سکتے ہیں۔پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ ابتدائی سالوں میں اس کی حیثیت صرف زرعی ملک کی تھی۔ اسے مشینری، صنعتی خام مال، فاضل پُرزے، اشیائے صارفین، عسکری اور ترقیاتی سازوسامان باہر ممالک سے منگوانا پڑتا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستانیوں کی تعلیم و تربیت پر کافی رقم خرچ ہوتی رہی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کی برآمدات کم رہی ہیں، ان میں اکثریت خام مال اور زرعی اجناس کی ہے جن کی بہت کم قیمت وصول ہوتی ہے۔ملکوں کے عروج وزوال کا بنیادی تعلق معیشت سے ہے۔ اگر پاکستان کو فوجی لحاظ سے برتری کے ساتھ معاشی لحاظ سے بھی مضبوط بنایا جائے تو ان شاءاللہ! یہ ملک اپنے پائوں پر کھڑے ہو کر ہر فرد کو بہترین نظامِ زندگی دینے پر قادر ہوگا اور پاکستان عالمِ اسلام کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں آ کھڑا ہوگا۔

تازہ ترین