تہران /دبئی /واشنگٹن(اے ایف پی /نیوز ڈیسک)امریکا اور اسرائیل کی ایران وقطرکی مشترکہ پارس گیس فیلڈپر بمباری ‘میزائل سائٹس پر 5ہزارپاؤنڈوزنی بنکربسٹربموں سے حملہ ‘قطر اور امارات کی گیس فیلڈپر حملوں کی مذمت ‘برہمی کا اظہار ‘تہران کے تل ابیب‘ حیفا‘ بئر السبع کے علاوہ بحرین‘ عراق‘ اردن‘ کویت‘ سعودی عرب اورعرب امارات میں امریکی اڈوں پرڈرونزاور میزائلوں سے جوابی وار‘ ریاض میں زور دار دھماکے‘4افراد زخمی ‘تل ابیب میں 2افراد ہلاک ‘ اسرائیل میں 192زخمی ‘ بن گوریان ایئر پورٹ پر تین نجی طیاروں کو شدید نقصان ‘بغداد میں امریکی سفارت خانے کے کمپاؤنڈ پر پھر حملہ ‘ پاسداران انقلاب کا خلیج میں تیل اور گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان ‘قطر میں میزائل حملے ‘گیس پلانٹس کو شدیدنقصان ‘اسرائیلی حملے میں ایران کے انٹیلی جنس چیف اسماعیل خطیب بھی شہید‘صدرمسعود پزشکیان کی تصدیق ‘ تہران میں سویڈن کے شہری کو اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں پھانسی ‘ترکیہ میں پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم نصب ‘ تہران میں علی لاریجانی‘بسیج کے کمانڈر میجر جنرل غلام رضا سلیمانی اور بحریہ کے درجنوں اہلکاروں کی نمازجنازہ ادا‘ لوگوں کی بڑی تعداد شریک ‘امریکی انٹیلی جنس چیف تلسی گیبارڈنے کانگریس کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران ایٹمی افزودگی کی صلاحیت دوبارہ بحال نہیں کر رہا تھا‘ایران کی قیادت اب بھی برقرار ہے ‘ فوری خطرےکا تعین کرنا انٹیلی جنس کمیونٹی کا کام نہیں ہے۔ڈائریکٹرنیشنل انٹیلی جنس نے ایران کے ساتھ ساتھ روس‘ چین‘ شمالی کوریا اور پاکستان کو بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا جو نت نئے‘جدید یا روایتی میزائل ڈیلیوری سسٹمز کی تحقیق اور ترقی میں مصروف ہیں جن میں جوہری اور روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت موجود ہے اور جو امریکا کو اپنی حدِ مار (رینج) میں لاتے ہیں۔ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے علی لاریجانی کی شہادت کے بعد فیصلہ کن جوابی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہاہے کہ شہداءکی موت کا ہر قیمت پر بدلہ لیاجائےگاجبکہ رہبراعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نےمتنبہ کیاہے کہ لاریجانی کے قاتلوں کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے خبر دارکیاہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پوری دنیا محسوس کریگی ‘ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکے مطابق ہم نے ایران کے دواہم رہنماؤں کو نشانہ بنایاہے ‘ایرانی قوم جشن منائے ‘ہم اوپر سے دیکھ رہے ہیںجبکہ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اعلیٰ ایرانی حکام کو نشانہ بنانے کی مہم جاری رہے گی ‘صدر مسعودپزشکیان نے توانائی ڈھانچے پر حملوں کے نتیجے میں "ناقابلِ کنٹرول نتائج" کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ یہ اقدام صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا جس کے ایسے ناقابلِ کنٹرول نتائج نکل سکتے ہیں جن کا دائرہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے بعد اب "خون کا بدلہ خون" (آنکھ کے بدلے آنکھ) کا اصول نافذ العمل ہے اور محاذ آرائی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہےجبکہ قطر نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنانا اس کی قومی سلامتی کے لئے براہ راست خطرہ ہے ۔ تفصیلات کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران اورقطر کی دنیا میں سب سے بڑی پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایاہے جس کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور قطر میں موجود تیل گیس تنصیبات کے قریب رہائش پذیرشہریوں‘ ملازمین اور دیگر افراد کو علاقے سے نکل جانے کی وارننگ جاری کر دی ہےاورکہاہے کہ یہ تمام مراکز اب جائز ہدف بن گئے ہیں اور آئندہ چند گھنٹوں میں انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔عرب امارات کاکہنا ہے کہ پارس گیس فلڈ کو نشانہ بناناعالمی توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے جبکہ ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں تل ابیب کے قریب واقع بین گوریان ایئرپورٹ پر کھڑے تین نجی طیاروں کوشدید نقصان پہنچا ہے‘ اسرائیلی وزیردفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک حملہ میں ایرانی انٹیلی جنس کے وزیر اسماعیل خطیب مارے ہو گئے ہیں۔ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے اسماعیل خطیب کی شہادت کی تصدیق کردی ہے ۔ حزب اللہ سے منسلک المنار ٹی وی کے ڈائریکٹر محمد شرعی اور ان کی اہلیہ بیروت میں ایک اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ تل ابیب پر ایرانی میزائل حملے کے بعد دو افراد ہلاک ہو گئے ہیںجبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل میں 192افراد زخمی ہوئے ہیں‘خبر رساں اداروں کی جانب سے بغداد میں امریکی سفارت خانے کے کمپاؤنڈ پر نئے حملوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں ۔ تسنیم نیوزایجنسی کے مطابق جنوبی پارس گیس فیلڈ میں ایران کے پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر فضائی حملے ہوئے ہیںجس سے گیس فیلڈ میں آگ لگ گئی ۔جنوبی پارس دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ ہے جہاں قطر اور ایران دونوں کے مراکز موجود ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علی لاریجانی کی شہادت پر اپنے ردعمل میں کہا ہے ایران کا ایک مضبوط سیاسی ڈھانچہ ہے اور کسی فرد کی موجودگی یا غیر موجودگی اس کے ڈھانچے پر اثر نہیں ہوتی۔ الجزیرہ کو انٹرویو میں عراقچی کا کہناتھاکہ ہمارے پاس خامنہ ای سے زیادہ اہم رہنما کوئی نہیں تھا اور جب انہیں شہید کیا گیا تب بھی نظام نے اپنا کام جاری رکھا اور فوراً ان کی جگہ ایک متبادل مقرر کر دیا گیا‘اگر مجھے بھی نشانہ بنایاگیاتومیری جگہ بھی کسی کو لینی ہوگی۔ان کا مزید کہناتھاکہ جہاں بھی امریکی افواج اوران کے ادارے موجود تھے وہ نشانہ بنائے گئے‘ان میں