• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں طوفانی بارش، حادثات، 18 افراد جاں بحق، بجلی بند، شہری سڑکوں پر پھنس گئے

کراچی( اسٹاف رپورٹر) کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی،شہر قائد میں آندھی کیساتھ ایک گھنٹے کی طوفانی بارش نے تباہی مچادی ، مختلف حادثات اور واقعات میں 18افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے،بیشتر اموات چھتیں ،دیواریں، آسمانی بجلی اور درختوں کے گرنے سے ہوئیں، بارش کا پہلا قطرہ گرنے کیساتھ ہی نصف شہر میں بجلی بند ہوگئی ، مکانوں اور دکانوں کی چھتیں، سولر پلیٹس بھی اڑ گئیں، شہری انتظامیہ غائب رہی، کئی سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا ، شاپنگ کیلئے جانے والی فیملیز پھنس گئیں، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کراچی میں تیز بارش کے بعد انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم، تمام بلدیاتی اداروں اور ڈی ایم سیز کو فوری طور پر فیلڈ میں نکلنے کی ہدایت ،ٹریفک کی بحالی یقینی بنانے کیلئے شہر بھر میں پولیس کو بھی الرٹ کردیا گیا۔ کراچی میں ریسکیو 1122 کے مطابق بلدیہ ٹاؤن عمارت کی دیوار گرنے کے واقعے میں اب تک 13 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور تمام لاشیں ہسپتال منتقل کردی گئیں ہیں،ریسکیو 1122 کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کی جانب سے ملبے تلے مزید افراد کی تلاش جاری ہے،ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک شدگان نشے کے عادی تھے اور بارش کے باعث عمارت میں جمع ہوئے،عمارت کی دیواریں اور چھت منہدم ہونے کے باعث ملبے تلے متعدد افراد دب گئے، ملیرندی یارو گوٹھ کےقریب آسمانی بجلی گرنےسے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ کورنگی ساڑھےتین میں گھر کی چھت گرنے سےخاتون جاں بحق ہوگئی، کورنگی 5 نمبرمیں درخت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔دوسری جانب شاہ لطیف مرغی خانہ اسٹاپ کے قریب آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں بدھ کی شب تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش ہوئ بارش کے ساتھ 97کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواوں نے چھتیں اڑادیں، دیواریں گرگئیں، کھمبے اور درخت اکھڑ گئے، سڑکیں زیر آب آ گئیں، ٹریفک جام ہوگیا اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوا۔ بارش شروع ہوتے ہی مختلف علاقوں میں کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی فراہمی معطل کردی گئی۔ جو رات گئے تک بحال نہیں ہو پائی تھی۔تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش سے بازاروں میں اندھیرا چھا گیا، لیاقت آباد میں طوفانی ہواؤں سے عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، سولجر بازار کے علاقے میں کئی سال پرانا درخت گر گیا۔ کلفٹن شاہرہ فیصل ایئرپورٹ، ملیر کینٹ روڈ پر درخت گرگئے مچھرکالونی میں مکان کی چھت گرگئی، قائد آباد سے بھینس کالونی تک کئی درخت گرگئے، طوفانی ہواؤں سے کاٹھور اوراطراف میں بھی درخت اور بجلی کے کھمبے گرگئے۔ عیسیٰ نگری، سرشاہ سلیمان علی روڈ، فلائی اوور پر بھی سائن بورڈز کو طوفانی ہواؤں سے شدید نقصان پہنچا۔ پی ای سی ایچ ایس میں نجی اسپتال کی دیوار گرگئی، کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ اسکیم 33کی میرٹھ سوسائٹی میں ٹرانسفارمر میں آگ لگ گئی، محکمہ موسمیات کے مطابق کورنگی میں سب سے زیادہ 55.6ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ کراچی میں جمعرات کو دوپہر کے بعد بھی بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے کے مطابق چند مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق عید کے پہلے دن ہلکی بارش کا امکان رہے گا جبکہ 24 تا 27 مارچ کے دوران بھی مغربی ہواؤں کا سلسلہ کراچی سمیت سندھ میں باعث کا سبب بن سکتا ہے۔ بدھ کی شب اچانک تیز ہواؤں اور آندھی کے ساتھ ہونے والی بارش سے شہریوں کو سڑکوں پر پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ، مسافروں کو گھر جانے میں سخت مسائل کا سامنا رہا ،بارش شروع ہوتے ہی نصف شہر میں بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی جس سے شہریوں کی مشکلات مزید بڑھ گئیں ۔ تیز ہواؤں کیساتھ ہونے والی بارش سے شاپنگ کیلئے نکلنے والے شہری بالخصوص فیملیز بے یارو مددگار پھنس گئے، کئی خواتین اپنے بچوں کیساتھ سڑکوں پر پھنس گئیں اور مدد کیلئے پکارتی رہیں ۔ رکشے اور ٹیکسی کے ڈرائیورز نے منہ مانگے کرائے وصول کئے، کئی مقامات پر گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں خراب ہوگئیں جنہیں دھکے لگانے والوں نے پیسے لئے، ،تیز ہواؤں کی وجہ سے شہر کے کئی علاقوں میں سولر پلیٹس بھی اڑ گئیں، کئی علاقوں میں سائن بورڈ گر گئے، جبکہ درخت بھی زمیں بوس ہوگئے، تراویح پڑھ کر گھروں کو واپس جانے والے نمازیوں کو بھی سڑکوں پر بارش کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا،بعض علاقوں ں تیز ہواؤں سے گھروں کی کھڑ کیوں کے شیشے بھی ٹوٹنے کی اطلاعات ہیں۔ بارش شروع ہوتے ہی آدھے شہر میں بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی بجلی بند ہونے سے شہریوں بالخصوص مارکیٹوںاور بازاروں میں عید شاپنگ کرنے والوں کو پریشانی کا سامنا رہا بعض علاقوں میں کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود بجلی بحال نہ ہو سکی تھی اور لوگ کےالیکٹرک سے بجلی بحالی کے لئے رابطوں میں مصروف تھے۔بارش کا پہلا قطرہ پڑنے کے ساتھ جن علاقوں میں بجلی بند ہونے کی اطلاعات ملیں ان میں آئی آئی چند ریگر روڈ،صدر،ایم اے جناح روڈ،اولڈ سٹی ایریا،لائٹ ہاوس،گلفشاں سوسائٹی،عظیم پورہ،نیو کراچی سیکٹر فائیو ای،فائیو ایم ،فائیوایل،فائیو جے،ناظم آباد،نارتھ کراچی سیکٹر الیون اے و دیگر سیکٹرز،فیڈرل بی ایریا،گلشن اقبال،پی ای سی ایچ ایس ،نارتھ ناظم آباد،ملیر،کلفٹن ڈی ایچ اے سمیت شہر کے دیگر علاقے شامل تھے ۔دریں اثناء ترجمان وزیر اعلیٰ ہاوس کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نےبارش کی صورتحال پر و اٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن تمام پمپنگ اسٹیشنز پر مشینری اور جنریٹرز کو فعال رکھنے کے ساتھ ٹریفک پولیس کو بارش کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے اضافی نفری تعینات کرنے کی ہدایت کر دی ہے ،وزیر اعلیٰ سندھ نے ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے اور نکاسی آب کے کام میں سستی یا غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت جاری کی ہیں۔ ترجمان کراچی پولیس کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی ہدایات پر شہر کے مختلف علاقوں، خصوصاً نشیبی مقامات اور اہم شاہراہوں پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی تاکہ شہریوں کو بروقت سہولت فراہم کی جا سکے۔ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کو متحرک کر دیا گیا جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس موبائلز گشت پر موجود رہیں گی۔ایڈیشنل آئی کراچی نے اس موقع پر شہریوں سے اپیل کی کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دیں۔

اہم خبریں سے مزید