• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی، طالبان کی یقین دہانی

اسلام آباد (محمد صالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار) طالبان انتظامیہ نے سعودی عرب سمیت تین برادر اسلامی ممالک کی وساطت سے پاکستان کواس امر کی پختہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو آئندہ پاکستان کیخلاف دہشت گردی کے مذموم مقصد کیلئے استعمال نہیںہونے دیگی اور بڑے قدم کے طور پرتحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو دہشت گرد تنظیم قرا دینے کا جائزہ لے گی۔ روس پاکستان کی افغان معاملے اور دہشت گردی کے خلاف مدد کے لئے آمادہ روسی سفیر کی وزیراعظم کے معاون خصوصی صادق خان سے وزارت خارجہ میں تفصیلی ملاقات ,حد درجہ قابل اعتماد اعلیٰ سفارتی ذرائع نے منگل کی شب جنگ / دی نیوز کو بتایاہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس وسیع علاقے اور باالخصوص درانی پہاڑوں میں غیر اعلانیہ بفرزون قائم ہوگیاہے جہاں سے کابل کی قابض انتظامیہ خودکش دہشت گرد اور تشکیلات پاکستان میں داخل کرتی آئی ہے اس وسیع علاقے میں ان تمام چوکیوں کو تباہ کردیاگیا ہے جن کی آڑ میں دہشت گرد پاکستان میں گھس آتے تھے جبکہ ایسی بیالیس بلند مقامات پر واقع چوکیاں پاکستان نے اپنے قبضے میں لے لی ہیں جنہیں دہشت گرد جتھوں کو پاکستان کے علاقے میں داخل کرانے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا انہی چوکیوں سے پاکستان کے سرحدی پہرے داروں کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھی جاتی تھی ۔ کابل انتظامیہ نے سعودی عرب کی وساطت سے پاکستان کوباور کرایا ہے کہ عیدالفطر کے لئے پاکستان نے اپنے آپریشن میں وقفہ دیاہے اس کے دوران دہشت گردوں کی سرحدوں پر سرگرمیاں درجہ صفر پر رکھی جائیں گی جنہیں بعد ازاں دوبارہ شروع نہیںہونے دیا جائے گا۔ پاکستان نے سعودی عرب، ترکی اورقطر کو صاف لفظوں میں بتادیاہے کہ وہ کابل انتظامیہ کی کسی یقین دہانی پر بھروسہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تاآنکہ وہ کسی قابل تصدیق میکنزم (طریق کار) پر آمادہ نہ ہوجائے جس میں سعودی حکام کے مقرر کردہ تصدیقی نظام کوفیصلہ کن حیثیت حاصل ہو۔ ذرائع نے انکشاف کیاہے کہ کابل کے اسلحہ و بارود اور ڈرون فیکٹری کے جس کمپاؤنڈ کو دیروزہ کارروائی میں تباہ کیا گیاتھا اس کے بارے میں عالمی رائے عامہ کو ثبوت مل چکے ہیں کہ وہ اسلحہ خانہ تھا جبکہ کابل میں موجودہ بھارتی ایجنٹوں کی شہ پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ بحالی صحت کا مرکزتھا اور پھر یہ بھی کہا گیا کہ اس میں چار سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ منگل کو جب ہلاک شدگان کی نماز جنازہ ادا کی گئی تو وہ تیس افراد کے جنازے تھے جو اس اسلحہ خانوں میں کام کرنے والے افراد تھے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان نے بلندی پر واقع جن بیالیس چوکیوں پر قبضہ کیا ہے وہ طالبان انتظامیہ کو واپس نہیں کی جائیں گی جس سے دہشت گردوں کے لئے اس علاقے میں آنا ناممکن ہوجائے گا۔

اہم خبریں سے مزید