مشرقِ وسطیٰ کی اس تپتی ہوئی زمین پر جب دھواں اٹھتا ہے تو وہ صرف بارود کا نہیں ہوتا، وہ تاریخ کا بھی ہوتا ہے، وہ زخموں کا بھی ہوتا ہے، اور وہ اُن سوالوں کا بھی ہوتا ہے جو نسلوں سے جواب مانگ رہے ہیں۔ میں نے ایک بوڑھے درویش سے سنا تھا کہ آگ جب پہاڑوں میں لگتی ہے تو اس کی لپٹیں وادیوں میں رہنے والوں کو بھی جلا دیتی ہیں۔ آج ایران اسی پہاڑ کی مانند کھڑا ہے، جس پر آگ بھڑکائی گئی، مگر جسکی حرارت پوری دنیا کو محسوس ہو رہی ہے۔
ایران.... ایک ایسا نام جو صرف ایک ملک نہیں بلکہ تہذیب، صبر اور مزاحمت کی داستان ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں تاریخ نے بارہا امتحان لیا، مگر ہر بار اس کے لوگوں نے اپنے زخموں کو وقار میں بدل دیا۔ آج پھر وہی سرزمین آزمائش میں ہے۔ اس کے شہر، اس کی بندرگاہیں، اس کے کارخانے، سب اس آگ کی لپیٹ میں ہیں جسے کسی اور نے بھڑکایا، مگر جس کا دھواں اسے خود سہنا پڑ رہا ہے۔مجھے یاد ہے، میرے گاؤں کے ایک بزرگ کہا کرتے تھے: جس کے گھر میں آگ لگتی ہے، وہی جانتا ہے کہ دھواں آنکھوں کو کیسے جلاتا ہے۔ ایران آج اسی دھویں میں کھڑا ہے۔ اس کی معیشت، جو پہلے ہی پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی، اب ایک نئی ضرب سہہ رہی ہے۔ تیل، جو اسکی رگوں میں خون کی طرح بہتا ہے، اب رک سا گیا ہے۔ بندرگاہیں، جو کبھی زندگی سے بھرپور تھیں، اب خاموش ہیں۔ کرنسی کی قدر، جیسے خزاں میں پتے گرتے ہیں، ویسے ہی گرتی جا رہی ہے۔کہتے ہیں نقصان بیس سے تیس ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ مگر کیا نقصان صرف اعداد کا نام ہے؟ نہیں، نقصان وہ ہوتا ہے جب ایک مزدور کے ہاتھ سے کام چھن جائے، جب ایک ماں اپنے بچے کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہو،جب ایک قوم اپنی سانسوں پر بوجھ محسوس کرے۔ ایران یہ سب سہہ رہا ہے، مگر پھر بھی کھڑا ہے، جیسے پہاڑ طوفان میں کھڑا رہتا ہے۔
لیکن اس کہانی کا ایک دوسرا رخ بھی ہے، جو شاید زیادہ تلخ ہے، زیادہ بے نقاب کرنے والا ہے۔ وہ لوگ جو اس آگ کو دور سے دیکھ رہے تھے، جو خود کو محفوظ سمجھ رہے تھے، وہ بھی اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ امریکہ.... جو خود کو دنیا کا محافظ کہتا ہے، اور اسرائیل.... جو طاقت کے نشے میں سرشار ہے، انہوں نے شاید یہ سوچا تھا کہ جنگ ایک کھیل ہے، ایک ایسی بساط جس پر وہ اپنی مرضی کے مہرے چلا سکتے ہیں۔مگر وہ یہ بھول گئے کہ دنیا اب ایک جڑی ہوئی زنجیر ہے۔ ایک کڑی ہلے تو پوری زنجیر ہلتی ہے۔آج عالمی معیشت لرز رہی ہے۔ اسٹاک مارکیٹیں، جو کبھی غرور سے بلند تھیں، اب زمین کو چھو رہی ہیں۔ توانائی کی قیمتیں، جو کبھی قابو میں تھیں، اب آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ سمندری راستے، جو تجارت کی شہ رگ تھے، اب خطرے کی علامت بن چکے ہیں۔ اور یہ سب کیوں؟ کیونکہ طاقت کے نشے میں کچھ فیصلے ایسے کیے گئے جو انسانیت کے خلاف تھے۔کہتے ہیں کہ دنیا کو پانچ ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ پانچ ٹریلین.... ایک ایسا ہندسہ جو سمجھ سے باہر ہے، مگر اس کے اثرات ہر انسان کی زندگی میں محسوس ہو رہے ہیں۔ ایک عام آدمی کیلئے یہ مہنگی روٹی ہے، مہنگا ایندھن ہے، اور ایک غیر یقینی مستقبل ہے۔
میں نے ایک چرواہے سے پوچھا تھا: اگر بھیڑیا ایک بھیڑ پر حملہ کرے تو کیا ہوتا ہے؟ وہ بولا:’’ اگر بھیڑیا بھوکا ہو تو ایک بھیڑ کھاتا ہے، مگر اگر وہ خون کا عادی ہو جائے تو پورا ریوڑ تباہ کر دیتا ہے۔‘‘ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیاں اسی بھیڑیے کی مانند ہو چکی ہیں۔ وہ ایک جنگ کو محدود رکھنا چاہتے تھے، مگر اس کی آگ نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ایران، جسے وہ کمزور سمجھتے تھے، آج بھی کھڑا ہے۔ اس کے نقصانات اربوں میں ہیں، مگر اس کی ہمت کھربوں سے زیادہ ہے۔ اور باقی دنیا، جو خود کو محفوظ سمجھ رہی تھی، آج کھربوں کے نقصان کا بوجھ اٹھا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز.... ایک ایسا راستہ جو صرف پانی کا نہیں بلکہ دنیا کی معیشت کا راستہ ہے۔ جب یہ غیر محفوظ ہوتا ہے تو صرف جہاز نہیں رکتے، بلکہ دنیا کی رفتار رک جاتی ہے۔ تیل مہنگا ہوتا ہے، تو صرف گاڑیاں نہیں رکتیں، بلکہ کارخانے رک جاتے ہیں، خواب رک جاتے ہیں۔فضائی راستے بند ہوتے ہیں تو صرف پروازیں نہیں رکتیں، بلکہ لوگوں کی امیدیں رک جاتی ہیں۔یہ سب کچھ ہمیں ایک سبق دے رہا ہے۔ جنگ صرف گولیوں اور بموں کا نام نہیں، جنگ ایک ایسا سایہ ہے جو ہر اس چیز پر پڑتا ہے جو زندگی کو ممکن بناتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے شاید یہ سوچا تھا کہ وہ اس سایے کو قابو میں رکھ سکتے ہیں، مگر سایہ جب پھیلتا ہے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔اگر یہ جنگ مزید بیس دن جاری رہی تو نقصان بیس ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ بیس ٹریلین.... یہ صرف ایک ہندسہ نہیں، یہ ایک وارننگ ہے۔ ایک ایسی وارننگ جو بتا رہی ہے کہ اگر طاقت کا توازن انصاف کے بغیر ہو، تو وہ تباہی کو جنم دیتا ہے۔
ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی مشکلات میں ہیں، اس آگ میں سب سے زیادہ جلیں گے۔ ان کی معیشتیں، ان کے خواب، ان کا مستقبل، سب اس بحران کی زد میں آئیں گے۔
اور آخر میں،میں وہی بات کہوں گا جو میرے بزرگ کہا کرتے تھے: ’انصاف کے بغیر طاقت، اندھی تلوار ہوتی ہے‘۔ آج دنیا اس اندھی تلوار کے سائے میں کھڑی ہے۔ ایران، جو اس تلوار کا پہلا نشانہ بنا، آج بھی ثابت قدم ہے۔ اور وہ جو خود کو طاقتور سمجھتے تھے، آج اپنے ہی فیصلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔