برطانیہ کے دیگر شہروں کی طرح یہاں گریٹر مانچسٹر اور لنکا شائر میں بھی عیدالفطر بھرپور مذیبی جوش و خروش اور عقیدت واحترام کے ساتھ منائی گئی۔
تمام مساجد کے ساتھ امام بارگاہوں میں بھی بڑے بڑے اجتماعات ہوئے، سب سے بڑا اجتماع وکٹوریہ پارک مسجد مانچسٹر میں ہوا، جہاں تقریباً ڈھائی ہزار فرزندان توحید نے شرکت کی۔
حافظ علامہ معین الدین نے عید کی نماز کی امامت کی جبکہ دوسرا بڑا اجتماع مکہ مسجد بولٹن میں ہوا، جس میں تقریبا 2 ہزار افراد نے شرکت کی۔
یہاں علامہ ظہور احمد چشتی نے عید کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ عید کی اجتماعی شان اپنی جگہ لیکن عید ہمارے اندر جس طرح قلبی روحانی جوش پیدا کرتی ہے، اسی طرح دوسری جانب مسلمانوں کے آپس میں تعلقات محبت اور جذبہ ایثار پیدا کرتی ہے۔
عید کے اجتماع سے نیو مدینہ مسجد کے خطیب علامہ مفتی نصیر اللّٰہ نقشبندی نے امت مسلمہ کو عید کی مبارکباد دی اور کہا کہ عید کی خوشیاں ساری دینا منارہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ عید ہمارے لیے آزمائش اور امتحان بھی ہے، وہ اس لیے کہ فلسطین، مقبوضہ کشمیر میں بہتا ہوا خون اور ایران کے مسلمانوں پر اسرائیلی جارحیت پر، جس طرح ساری دینا کی آنکھیں بند ہیں۔
دوسری جانب فلسطین کے بچے بلکتی عورتیں اور فلسطین کے وہ مظلوم، جن کی ارض مقدس کی حفاظت کےلیے ان کے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں، اس صورتحال میں عید نہیں منائی جا سکتی۔
اس کے ساتھ سلفورڈ اسٹاک پورٹ لیور پول بری اولڈہم راچڈیل بلیک برن ایکرنگٹن برنلے نیلسن بولٹن میں بھی عید کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے جہاں اسلام کی سربلندی پاکستان کی سلامتی تعمیر و ترقی خوشحالی کے ساتھ فلسطین مقبوضہ کشمیر اور ایران کی جنگ بندی کےلیے خصوصی دعاویں مانگی گئیں۔
برطانیہ بھر میں ایک ہی روز عید منانے جانے سے امت مسلمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، عید کی ادائیگی کے بعد کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد نے دعا مغفرت کے لیے قبرستان کا رخ کیا، جہاں انہوں نے اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی اور ان کی مغفرت کی دعا بھی کی۔
کمیونٹی کی مختلف سیاسی سماجی اور مذیبی شخصیات سالار ممتاز احمد چشتی کنزرویٹو مسلم فورم کے سابق چیرمین محمد ادریس، کونسلر محمد ایوب، کونسلر چوہدری اختر زمان، راجا جلیل الرحمن، راجا فضل مجدد شیخ، سلیم محی الدین ایڈوکیٹ، راجا محمد شفیق پوتا، راجا عبدالقیوم اورسیز بزنس فورم کے چیرمین چوہدری مسرت علی، مسلم لیگ ن نارتھ ویسٹ کے چیرمین راجا سجاد خان نے دینا بھر کے مسلمانوں کو عید کی مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ عید کی خوشی کے ساتھ اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا دکھ بھی ہے، رواں سال میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینوں پر ڈھائے جانے والے تاریخ کے بد ترین مظالم اور ایران کی موجودہ جنگ کی وجہ سے عید کی خوشیاں ادھوری رہ گئی ہیں۔