ہیکرز کی طرف سے ایک سائبر حملے میں یونیورسٹی آف ناٹنگھم کے طالب علموں کا قیمتی ڈیٹا اور ذاتی معلومات چرائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی حکام کا خیال ہے کہ سائبر حملے میں طالب علموں کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کی گئی ہے۔
طالب علموں کو بھیجی جانے والی ایک ای میل کے بارے میں چیف گورننس اور رسک آفیسر جیسن کارٹر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سائبر حملے کے پیچھے وہ لوگ شامل ہو سکتے ہیں جو کئی مرتبہ دیگر تنظیموں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔
طالب علموں کو پہنچنے والی کسی بھی پریشانی پر معذرت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ یونیورسٹی نے اپنے کیمپس سلوشن سسٹم پر غیر مجاز سرگرمی کی نشاندہی کی تھی۔
اس حوالے سے یونیورسٹی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ تمام متاثرہ طلبہ اور سابق طلبہ سے رابطہ کیا گیا ہے، انفارمیشن کمشنر آفس اور دیگر ریگولیٹری اداروں کے ساتھ مل کر مشترکہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔