• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ پہنچنے کے خواہشمند 300 افراد اغواء، گردے نکالنے کی دھمکی دیکر تاوان وصولی کا انکشاف

فوٹو بشکریہ برطانوی میڈیا
فوٹو بشکریہ برطانوی میڈیا

غیر قانونی طریقے سے برطانیہ منتقل ہونے کی کوشش میں 3 سو سے زائد تارکینِ وطن کے اغواء ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک تحقیقاتی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ اغواء ہونے والے افراد کو ناصرف جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اعضاء نکالنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

عراقی کردستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے گروپ کو لیبیا میں مسلح افراد نے پکڑا اور تاوان وصول کرنے کے لیے انہیں بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔

اغواء ہونے والوں میں شامل چند نوجوانوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ مسلح افراد نے ان کے خاندانوں میں سے ہر ایک سے ان کی رہائی کے لیے 37 سو پاؤنڈ کے بھتے کا مطالبہ کیا اور رقم نہ دینے کی صورت میں گردے تک نکالنے کی دھمکیاں دیں۔

مغویوں کے مطابق مسلح افراد انہیں بحیرۂ روم کے ساحل پر لے جانا چاہتے تھے، مگر ادائیگی کے تنازع پر اسمگلر نوح ہارون کے ساتھ جھگڑا ہو گیا۔

اغواء ہونے والوں میں شامل ایک نوجوان کے والد نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ہارون اور اس کا ساتھی کارڈوجاف دونوں انسانی اسمگلنگ کرتے تھے، انہوں نے تارکینِ وطن کے خاندانوں سے انہیں برطانیہ منتقل کرنے کی مد میں ہزاروں ڈالرز کا مطالبہ کیا۔

نوجوان کے والد نے یہ بھی بتایا ہے کہ ہارون اور کارڈوجاف نے مغویان پر تشدد کی فوٹیج بھیج کر ان کے اہلِ خانہ کو خوفزدہ کیا اور روشنی سے محروم چھوٹے سے سیل میں گنجائش سے کئی گنا زائد لوگوں کو 6 ماہ تک قید رکھا۔

برطانیہ و یورپ سے مزید