• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مجھے ان امریکی سائنس دانوں کی کم عقلی پر افسوس ہوتا ہے جنھیں بہت عرصہ قبل ایک مطالعاتی جائزے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ کسی کا صرف ہاتھ تھامنے سے پورے جسم میں مثبت تبدیلیاں آتی ہیں۔ آپ ہمارے احساسِ کمتری کا اندازہ لگائیں کہ سائنس دان جو بات آج کر رہے ہیں اور جس کا کریڈٹ لے رہے ہیں، ہمارے شعرائے کرام پورے تواتر سے یہ بات کہتے چلے آرہے ہیں۔ مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق ایک نامعلوم شاعر کا شعر ملاحظہ فرمائیں:

ہاتھ رکھ کے میرے سینے پہ وہ فرمانے لگے

درد کیوں ہوتا ہے، کب ہوتا ہے، اب ہوتا ہے؟

ادھر محبوب نے عاشق کے سینے پر ہاتھ رکھا اور اُدھر عاشق کا سارا درد کا فور ہو گیا ۔ یہی بات امریکی ماہرین نفسیات نے کہی اور ہم اس پر داد کے ڈونگرے برسانے لگے۔ بے چاراہمارا شاعر ہمارا منہ ہی دیکھتا رہ گیا۔ مرزا غالب نے بھی تو بہت پہلے کہا تھا:

ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

کچھ اسی طرح کی بات پروین شاکر نے بھی کہی تھی:

اُس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا

روح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی

مگر ہمارے دیسی شعرا کی باتوں کو کون لفٹ کرواتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایک سامنے کی حقیقت ہے، اس کے لیے اتنی لمبی چوڑی ریسرچ کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ جب آپ کا کوئی پیارا آپ کے پاس ہوتا ہے تو آپ کو اس کی موجودگی سے سکون ملتا ہے۔ البتہ اس میں ایک نازک سا فرق موجود ہے اور وہ یہ کہ کچھ پیارے آپ کا پیار اپنے لیے حاصل کرنے کی خاطر آپ سے پیار کر رہے ہوتے ہیں۔ جب تک آپ ان پر صدقے واری جاتے رہیں وہ آپ سے پیار کرتے رہتے ہیں بلکہ مزید پیار حاصل کرنے کے لیے آپ کو سکون دینے کی بجائے ٹینشن دینا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ دراصل صرف خود پر عاشق ہوتے ہیں۔ واضح رہے امریکی ماہرین نفسیات اور ہمارے شعرائے کرام کا اشارہ ایسے پیاروں کی طرف نہیں ہے۔ اور ہاں ایک اور بات جو مجھے ایک دیسی ماہر نفسیات نے بتائی تھی ، اس کے بقول کچھ لوگ اپنے لیے بھی محبت کی بجائے نفرت کو ترجیح دیتے ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی احمق عاشق عشق میں مبتلا ہو جائے تو وہ اس کی محبت کو نفرت میں بدلنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ مغرب میں اور ہمارے ہاں بھی اس کی بدترین مثالیں موجود ہیں۔ ان دو خطوں میں ایسے مرد و زن موجود ہیں جو اپنی ذلت میں لذت محسوس کرتے ہیںمغرب میں تو یہ کام کاروباری بنیادوں پر ہوتا ہے ، آپ ایک معقول معاوضہ دے کر جی بھر کے اپنی ذلت کروا سکتے ہیں۔

معافی چاہتا ہوں، میں نہ چاہنے کے باوجود سنجیدہ ہو گیا ہوں۔ میں اپنا ’کیس‘بزبان شاعر ہی لڑنا چاہتا تھا، چنانچہ میں نے کالم کے آغاز میں تین اشعار بھی بطور ثبوت پیش کیے۔ تاہم یہاں ایک وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ کہ درد کی حالت میں کچھ پیاروں کی آمد و رفت خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ ذیل میں ایک شعر درج کر رہا ہوں جس سے اسطرح کے پیاروں کے عزائم کھل کر سامنے آتے ہیں۔ شعر ملاحظہ فرمائیں:

وہ آئے بہر عیادت، میں ہوا طالب وصل

وہ یہ کہتے ہوئے بھاگے کہ یہ بیمار نہیں

لہٰذا درد میں کمی سوچ سمجھ کر کرانی چاہئے ۔ ایک اور بات ، صرف غمی نہیں خوشی کے موقع پر بھی احتیاط لازم ہے ورنہ ہر قسم کے نقصان کا ذمہ دار کسی دوسرے کو نہیں خود کو ٹھہرانا پڑے گا۔

میں خیال کا گھوڑا ادھر ادھر دوڑتا رہا۔ امریکی رپورٹ پر آمناََ و صدقناََ بھی کہہ دیا مگر یہ بھول گیا کہ ہاتھ تھامنے کے جہاں فائدے ہیں اس کے کچھ سائیڈ افیکٹس بھی ہیں۔ مثلاً ہم نے ایوب خان اور پھر یحییٰ خان کا ہاتھ تھاما، اس بھروسے پر کہ یہ لوگ ہمارے پاکستان کو مضبوط بنائیں گے اور کشمیر کو آزاد کرا کر ہی دم لیں گے، اور اُن دنوں میڈیا بھی یہی بتا تا رہا ، بس چند منٹ پہلے ہمیں بتایا گیا کہ مشرقی پاکستان اب پاکستان کا حصہ نہیں رہا، بنگلہ دیش بن گیا ہے۔ پھر بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے ہمیں اپنا ہاتھ تھمایا اور یقین دلایا کہ پاکستان چونکہ اسلام کے نام پر بنا ہے لہذا وہ صرف اسلام نافذ کرنے کے لیے اقتدار میں آئے ہیں۔ وہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ ایک نیا اسلام آیا ہے جس میں بھائی بھائی کا گلا کاٹتا ہے۔ فرقہ پرستی ، انتہا پسندی اور اسلام کی من مانی تشریح نے ہم سے ہمارا رہا سہا ایمان بھی چھین لیا۔ اس کے بعد بھی پرویز مشرف اور مختلف حکمران ہمارا ہاتھ تھامتے رہے اور ہم مزید پستیوں میں گرتے چلے گئے۔

تازہ ترین