ایران نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کردی، جنگ روکنے کیلئے 6 اسٹریٹیجک شرائط بھی پیش کردیں تاہم ساتھ ہی کہا ہے کہ اس منصوبے پر مرحلہ وار عمل کیا جارہا ہے، میدان جنگ میں ہونے والی پیشرفت کے سبب فوری جنگ بندی کی توقع نہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پچھلے چند روز کے دوران بعض دوست ممالک کی جانب سے پیغامات ملے ہیں کہ امریکا جنگ ختم کرنے کیلئے مذاکرات کا مطالبہ کررہا ہےجن کا ملک کے اصولی موقف کے تحت جواب دیا گیا ہے۔
ایک اہلکار نے نام ظاہر کیے بغیر ایرانی میڈیا کو بتایا کہ علاقائی پارٹیوں اور ثالثوں نے ایران کو تجاویز پیش کی ہیں کہ جنگ روکی جائے تاہم ایران نے شرائط عائد کی ہیں جنہیں سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
اہلکار نے نئے قانونی اسٹریٹجیک فریم ورک کے تحت چھ شرائط بتائیں، جن میں سے اولین جنگ دوبارہ نہ شروع ہونے کی یقین دہانی ہے۔
دوسری خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جانا ہے، تیسری جارح کو پیچھے دھکیلنا اور ایران کو ہرجانے کی ادائیگی ہے۔
چوتھے تمام علاقائی فرنٹس پر جنگ کو ختم کیا جانا ہے، پانچویں آبنائے ہرمز کیلیے نئے قانونی رجیم پر عمل درآمد کیا جانا ہے اور چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا آپریٹیوز کیخلاف قانونی کارروائی اور انہیں ملک بدر کرنا ہے۔
یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ شرائط کن ثالثوں کے زریعے امریکا اور اسرائیل کو پیش کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا نے ایک سیکیورٹی و سیاسی اہلکار کے حوالے سے نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ مہینوں پہلے سے طے حکمت عملی کو اسٹریٹیجک تحمل کے ساتھ قدم بہ قدم آگے بڑھا رہا ہے۔
دشمن کا فضائی دفاعی نظام تباہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایران اب دشمن کی فضاؤں پر مکمل قابو حاصل کیے ہوئے ہے، اس صورتحال میں ایران جنگ بندی کے فوری امکانات نہیں دیکھ رہا۔
امریکی اسرائیلی جارحیت اور صدر ٹرمپ کو تاریخ سبق سکھانے تک دشمن کو سزا دی جاتی رہے گی۔