• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران، امریکا کشیدگی، پاکستان مرکزی ثالث، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ٹرمپ کو فون، وزیراعظم کی ایرانی صدر سے گفتگو

کراچی، اسلام آباد، انقرہ (جنگ نیوز، رانا غلام قادر، فرقان حمید) معروف برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان امریکا اور اسرائیل کی ایران کیخلاف جنگ ختم کرانے کیلئے مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اس حوالے سے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پربات کی، تاہم وائٹ ہاؤس نے فیلڈ مارشل اور ٹرمپ کی کال پر تبصرے سے گریز کیا، جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ نے ثالثی کیلئے کوششوں کی تصدیق کی ہے لیکن اسلام آباد میں مذاکرات کے حوالے تبصرے سے انکار کر دیا، دوسری جانب ذرائع نے اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا اسی ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات کرسکتے ہیں، ایران کی نمائندگی اسپیکر باقر، امریکا کی جے ڈی وینس، وٹکوف اور جیرڈ کشنر کرینگے، پاکستان، ترکیہ، مصر بھی مذاکرات میں شریک ہوسکتے ہیں، ترک وزیر خارجہ بھی امن سفارتکاری کیلئے متحرک ہوگئے ہیں، انہوں نے پاکستان، قطر، سعودی عرب وزراء خارجہ سے رابطے کیے، ذرائع کے مطابق ترکیہ، مصر اور پاکستان گزشتہ دو روز سے پس پردہ سفارتکاری کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، اس سلسلے میں تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے امریکا کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کی ہیں، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ کچھ دوست ممالک کے ذریعے امریکا سے مذاکرات کی درخواست ملی ہے، دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو ایران کے صدرمسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، وزیراعظم نے ایرانی صدر اور ایران کے برادر عوام کو عیدالفطر اور نوروز کی مبارکباد دی،وزیراعظم نے کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتکاری کی طرف واپسی کی فوری ضرورت پر زور بھی دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے خود کوامریکا اور اسرائیل کی ایران کیخلاف جاری جنگ کو ختم کروانے کے ایک اہم ثالث کی حیثیت سے پیش کرنے کررہا ہے۔ اس سلسلے میں عاصم منیر نے ٹرمپ اور شہباز شریف نے مسعود پزشکیان سے بات کی ہے۔ ٹرمپ نے تہران سے مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے بجلی گھرتباہ کرنیکی دھمکی موخرکی تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اور ٹرمپ کا اس بیان میں کوئی باہمی ربط ہے یا نہیں۔ پھریہ بھی ہے کہ ایران نے جوابی دھمکی بھی دے رکھی تھی،نئے سپریم لیڈرنے پاکستانی عوام کیلئے خصوصی جذبات کا اظہارکیا تھا۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے ایک حالیہ تجزیے کے مطابق ثالثی کے مقصد کیلئے پاکستان اپنے طاقتور فوجی شخص کے تہران کے ساتھ تعلقات اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ خوشگوار روابط کو استعمال کررہا ہے۔پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر نے اتوار کو ٹرمپ سے بات چیت کی جبکہ وزیراعظم شہبازشریف نے پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو کی۔ اسی دوران ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ایران کے بجلی گھروں کو ’’تباہ کرنے‘‘ کی اپنی دھمکی کو مؤخر کر رہے ہیں اور اسکی وجہ تہران کے ساتھ ہونے والی ’’مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ بات چیت بتائی۔یہ واضح نہیں کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اور ٹرمپ کا اس بیان میں کوئی باہمی ربط ہے یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے ان مذاکرات کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حساس سفارتی معاملات ہیں اور میڈیا کے ذریعے بات چیت نہیں کی جائیگی۔ جنگ سے پہلے ثالثی میں شامل ملک ترکیہ اب بھی ایرانی حکام اور ٹرمپ کے ایلچی اسٹیووٹکوف سے رابطے میں ہے اور پاکستانی وزیرخارجہ اسحٰق ڈار نے اپنے ترک ہم منصب ہاکن فدان سے بھی بات چیت کی ہے۔اسی طرح بدرعبدالعطاعی نے بھی ایران، پاکستان، وٹکوف اور قطر کے وزیرخارجہ سے رابطے کیے ہیں۔ ادھرایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے امریکا کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کی تردید کی ہے۔ ایک سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے جبکہ پاسداران انقلاب اس وقت ایران کے عسکری ردعمل کی قیادت کر رہی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ ثالثی کوششیں ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور کسی واضح پیش رفت کے آثار نہیں۔تجزیہ کارصنم وکیل کے مطابق کئی ممالک کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ جنگ ختم ہونے والی ہے۔ انکے خیال میں ہوسکتا ہے ٹرمپ نے خلیجی ممالک کے دباؤ کے باعث اپنی دھمکی مؤخر کی ہو ۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسکے بجلی گھروں پر حملہ کیا گیا تو وہ خطے کے اہم انفراسٹرکچر، خاص طور پر توانائی اور پانی کے منصوبوں کو نشانہ بنائیگا۔ ٹرمپ نے پہلے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت کی اجازت نہ دی تو امریکا اسکے بڑے پاور پلانٹس پر حملہ کریگا، تاہم بعد میں اس اقدام کو پانچ دن کیلئے مؤخر کر دیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں میں فی الحال سمجھوتے کی کوئی واضح خواہش نظر نہیں آتی۔ ایران خود کو مضبوط پوزیشن میں سمجھتا ہے اور اسے اپنی بقا کا مسئلہ سمجھتا ہے۔ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی اکثر اومان اور قطر کے ذریعے ہوتی رہی ہے۔

اہم خبریں سے مزید