اقوامِ متحدہ کے موسمیاتی ادارے عالمی محکمۂ موسمیات نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2015ء سے 2025ء تک کا عرصہ زمین کی تاریخ کا سب سے زیادہ گرم عشرہ رہا ہے جبکہ ماحولیاتی نظام خطرناک حد تک عدم توازن کا شکار ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 11 برس انسانی تاریخ کے گرم ترین سال ثابت ہوئے، سال 2025ء میں زمین میں جمع ہونے والی حرارت ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی جس کے اثرات ہزاروں سال تک برقرار رہنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ عالمی موسمیاتی نظام ہنگامی حالت میں داخل ہو چکا ہے اور زمین اپنی قدرتی حدود سے آگے دھکیلی جا رہی ہے، مسلسل گرم ترین برس اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
عالمی محکمۂ موسمیات کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ جیسی گرین ہاؤس گیسز کی مقدار گزشتہ کم از کم 8 لاکھ برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس نے زمین کے قدرتی توانائی توازن کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماہرین کے مطابق زمین پر آنے والی شمسی توانائی اور واپس خلا میں جانے والی حرارت کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے جسے ’توانائی عدم توازن‘ کہا جاتا ہے اور یہ 2025ء میں نئی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اضافی حرارت کا تقریباً 91 فیصد حصہ سمندروں میں جذب ہو رہا ہے، سمندری درجۂ حرارت میں تیزی سے اضافہ سمندری حیات، حیاتیاتی تنوع اور کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچا رہا ہے جبکہ شدید طوفانوں اور برف کے تیزی سے پگھلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
انٹارکٹیکا اور گرین لینڈ کی برفانی سطحوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ 2025ء میں آرکٹک سمندری برف کا پھیلاؤ سیٹلائٹ دور کے کم ترین درجوں میں شامل رہا، عالمی سطحِ سمندر 1993ء کے مقابلے میں تقریباً 11 سینٹی میٹر بلند ہو چکی ہے۔
ماہرین نے بتایا ہے کہ اس وقت موسم پر لا نینا اثر انداز ہے تاہم 2026ء کے آخر تک ایل نینو کے دوبارہ بننے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں 2027ء میں درجۂ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے۔
عالمی محکمۂ موسمیات کی نائب سربراہ کو بیریٹ نے صورتحال کو ’انتہائی تشویشناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی اشاریے بہتری کے بجائے مسلسل خطرے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ فوسل فیول پر انحصار ناصرف ماحول بلکہ عالمی سلامتی کو بھی غیر مستحکم کر رہا ہے اور موسمیاتی بحران تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے۔