• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دو ہفتے سے زائد گزر چکے ہیں مگر دنیا اب تک یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ کیوں شروع کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود جنگ شروع کرنے والوں کے بیانات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ مقصد ایران کی عسکری طاقت کو کمزور کرنا تھا، کبھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہدف حکومت کی تبدیلی ہے، کبھی مذاکرات کی پیشکش سامنے آتی ہے اور کبھی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

گزشتہ رات تو معاملہ اور بھی عجیب ہو گیا جب Donald Trump نے اعلان کیا کہ جنگ جیتی جا رہی ہے اور مقاصد تقریباً حاصل ہو چکے ہیں۔جنگ کے آغاز میں تاثر یہ دیا گیا تھا کہ چند دنوں میں تہران کے دروازے کھل جائیں گے اور ایرانی عوام امریکی افواج کا استقبال کریں گے۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ استقبال کے پھول تو کہیں نظر نہیں آئے بلکہ میزائل اور ڈرون آسمان پر دکھائی دینے لگے اور واشنگٹن کے لیے یہ سوال اہم بن گیا کہ اس جنگ کو ختم کیسے کیا جائے۔

ابتدائی دنوں میں سب سے بڑا دعویٰ یہ سامنے آیا کہ ایران کے سپریم لیڈر مارے جا چکے ہیں۔ خیال تھا کہ قیادت کے ختم ہوتے ہی پورا نظام بکھر جائے گا۔ شاید امریکی تھنک ٹینکس میں یہ تصور بھی تھا کہ اگلے ہی دن تہران کی سڑکوں پر لوگ تبدیلی کا اعلان کریں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ چند ہی دنوں میں نئی قیادت سامنے آ گئی اور ریاستی ڈھانچہ بدستور قائم رہا۔

اصل سوال یہ ہے کہ دنیا اس صورتحال تک پہنچی کیسے؟ بعض مبصرین کے مطابق اس کی جڑیں عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ہیں۔ یہی نظام امریکہ کو بیس برس تک افغانستان کی جنگ میں الجھائے رکھتا رہا۔ اس طویل جنگ میں کھربوں ڈالر خرچ ہوئے اور دفاعی صنعتوں نے بے پناہ منافع کمایا۔ جب مالی بوجھ حد سے بڑھ گیا تو انہی طاقتور حلقوں نے امریکہ کو وہاں سے نکلنے کا راستہ دکھایا۔اسی عرصے میں عالمی طاقت کا توازن بھی آہستہ آہستہ بدلتا رہا۔ China خاموشی سے معاشی میدان میں آگے بڑھتا گیا جبکہ امریکہ کو جنگوں اور داخلی مسائل کا سامنا رہا۔ یوں عالمی سیاست میں ایک نئی ترتیب بنتی نظر آنے لگی۔

ایران پر حملے نے اس بدلتے ہوئے توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خطے کے کئی ممالک جن سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ کھل کر امریکہ کا ساتھ دیں گے، محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کچھ ریاستیں غیر جانبداری کو ترجیح دے رہی ہیں جبکہ بعض کھل کر کسی جنگی اتحاد میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔اس جنگ کے حوالے سے ایک اور بحث بھی سامنے آئی ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ جنگ امریکہ کے اندرونی سیاسی مسائل سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

ان حلقوں کے مطابق بعض متنازع معاملات، جن میں Jeffrey Epstein سے متعلق فائلوں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے، امریکی سیاست میں شدید بحث کا موضوع رہے ہیں۔ اس لیے یہ رائے بھی دی جا رہی ہے کہ جنگ نے عالمی توجہ کو وقتی طور پر دوسری سمت موڑ دیا۔

دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کی معیشت پر اس کشیدگی کے واضح اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ سیاحت، جو اس خطے کی معیشت کا اہم ستون ہے، شدید متاثر ہو رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق خطے کے ممالک کو روزانہ اربوں ڈالر کے ممکنہ سیاحتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی ممالک میں سفر کے منصوبے منسوخ ہو رہے ہیں، پروازیں متاثر ہو رہی ہیں اور کاروباری سرگرمیاں سست پڑتی جا رہی ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے خلیجی سیاحتی مراکز کو بھی متاثر کیا ہے اور دبئی جیسے بڑے سیاحتی شہر میں بھی غیر یقینی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔

تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بڑی طاقتیں بھی ہمیشہ قائم نہیں رہتیں۔ کبھی Soviet Union دنیا کی ایک بڑی سپر پاور تھا، لیکن آخرکار اسے معاشی اور سیاسی دباؤ کے باعث پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ اس وقت کے رہنما Mikhail Gorbachev نے ایسا فیصلہ کیا جس سے دنیا ممکنہ ایٹمی تباہی سے بچ گئی۔آج کچھ تجزیہ نگار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا امریکہ بھی کسی ایسے ہی موڑ پر کھڑا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ موجودہ دنیا ماضی سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اب صرف چند نہیں بلکہ کئی جوہری طاقتیں موجود ہیں اور کسی بھی بڑی جنگ کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

اگر کسی مرحلے پر ایٹمی ہتھیار استعمال ہوئے تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیں گے۔ اسی لیے بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اس تنازعے کا حل میدانِ جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر تلاش کیا جانا چاہیے۔اسی تناظر میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس میں خطے کی صورتحال اور ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دنیا واقعی ایک نئے دور کے دروازے پر کھڑی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آنے والا عالمی نظام طاقت کے استعمال سے تشکیل پاتا ہے یا دانشمندی اور سفارتکاری سے۔

تازہ ترین