ان دنوں سیاست کے حوالے سے شائع ہونے والی جھوٹی اور سچی خبروں نے اُن معصوموں کو پریشان کر دیاہے جو سیاست سے کوئی دلچسپی ہی نہیں رکھتے۔ خود مجھے بھی سیاست سے اتنی ہی دلچسپی ہے جتنی ایک پاکستانی کو ہونی چاہئے۔ اس کی ’’اوور ڈوز‘‘ سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ اسکا نتیجہ عموماً غیر سیاسی ڈائریا کی صورت میں نکلتا ہے۔ چنانچہ میں نے سوچا کیوں نا آج ان ادیبوں کی جگتیں آپ کو سناؤں جو اپنی کتابوں میں بہت سنجیدہ ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے پہلے نمبر پر منیر نیازی کا نام آتا ہے۔ منیر ایک منفرد اور شاندار شاعر ہی نہیں ، اے کلاس جملے باز بھی تھے۔ ان کے جملے بھی انتہائی تخلیقی نوعیت کے ہوتے تھے۔ ایک جونیئر نے ان سے پوچھا ” آپ کے نزدیک شاعری میں میرا کیا مقام ہے؟“ منیر نے کہا بچے اتم ابھی مقام کی پہلی ”م“ تک بھی نہیں پہنچے ۔ منیر ایک گرلز کالج کے مشاعرے میں گئے تو فرسٹ ایئر کی ایک بچی نے اپنی بے خبری کی وجہ سے منیر صاحب سے پوچھا ”سر کیا آپ بھی شاعر ہیں؟“، منیر نے کہا ”نہیں میں قتیل شفائی ہوں“ ایک روز ظہیر کاشمیری نے منیر کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا " منیر یار! میرا جی چاہتا ہے کہ شام کے سائے ڈھل رہے ہوں ، دریا کا کنارہ ہو ، مغنیہ گیت گا رہی ہو.. منیر نے ظہیر کو یہیں ٹوک کر کہا ” یہ سب کچھ ہو مگر ظہیر تم وہاں نہ ہو" ، منیر نے ایک بڑبولی شاعرہ کے بارے میں یہ بیان دیا کہ اس کی مثال ایک اسکوٹر کی سی ہے جس میں ٹرک کا ہارن فٹ کیا گیا ہو۔خود منیر پر بھی ان کے دوستوں نے بہت جملے چست کیے۔ فیصل آباد کے ایک مشاعرے میں دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے منیر نے کہا ” ایک دن میرے گھر کے صحن سے سانپ نکل آیا، یہ عورتیں بہت بہادر ہوتی ہیں، میری بیوی نے ڈنڈا اٹھایا اور اسے مار دیا ۔" پاس بیٹھے ریاض مجید بولے" اس نے سوچا ایک گھر میں ایک ہی کافی ہے "اسطرح بذریعہ کار جھنگ کے ایک مشاعرے میں شرکت کیلئے جاتے ہوئے منیر نیازی جگہ جگہ کار رکواتے ہوئے کسی کھیت یا ویران مقام کی طرف منہ کر کے اس جگہ کی سیرابی کرتے۔ انتہائی سنجیدہ شخصیت کے حامل شریف کنجاہی منیر کے ہم سفر تھے۔ ایک مقام پرپہنچ کر منیر نے شریف کنجاہی سے پوچھا ” جھنگ مزید کتنی دور ہے؟“شریف صاحب نے انتہائی سنجیدگی سے جواب دیا ” بس دو پیشاب اور ۔" احسان دانش بھی کسی سے کم نہیں تھے۔ ایک مشاعرے میں اسٹیج پر بیٹھے "صحت مند "طفیل ہوشیار پوری حسب معمول سو گئے اور خراٹے بھی لینے لگے ۔ احسان دانش نے ان کے کھلے منہ اور خراٹوں کے حوالے سے مجھ سے پوچھا ” طفیل کو دیکھ رہے ہو؟“ میں نے کہا ”جی“ پو چھا کیسا لگ رہا ہے؟“ پھر خود ہی بولے" ایسے نہیں لگتا جیسے کسی گور یلے کو گولی لگی ہو؟“ میری ہنسی نکل گئی جس پر سامعین مجھے غصے سے دیکھنے لگے ۔ ایک دفعہ احسان صاحب نے اپنی ہی ایک دلچسپ حرکت کے بارے میں بتایا کہ انھیں جب مشاعروں کے دعوت نامے ملتے تھے تو جہاں نہ جانا ہوتا ، وہ کسی دوسرے شہر کا بتاتے کہ اُس روز تو میں وہاں ہوں گا ۔ اختر شیرانی کے صاحبزادے مظہر محمود شیرانی ایک بار ان کے پاس ایک مشاعرے میں شرکت کی درخواست لے کر آئے تو احسان صاحب نے کہا ” یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اختر شیرانی کے بیٹے کو انکار کروں ، ضرور آؤں گا، کس تاریخ کو ہے مشاعرہ ؟ "اس نے جواب دیا ’’گیارہ اپریل کو ‘‘یہ سن کر احسان صاحب بولے ” او ہو! یہ تو گڑ بڑ ہوگئی، میں تو اُس روز شیخو پورہ میں ہوں گا۔ ’’اختر شیرانی کے صاحبزادے نے کہا ” احسان صاحب ! مشاعرہ بھی شیخو پورہ ہی میں ہے۔‘‘ مشاعروں کے ایک ناظم کسی بھی شاعر کو کلام سنانےکیلئے بلاتے تو تقریباً ایک جیسی تعریف و توصیف سے ابتدا کرتے۔ایک مشاعرے میں انھوں نے کسی شاعر کو دعوت کلام دیتے ہوئے اپنے روایتی انداز میں تعریف و توصیف کے قلابے ملانا شروع کیے تو شاعر کا نام پکارے جانے سے قبل ظہور نظر اپنی نشست سے ان کے مائیک کی طرف جانےلگے تو ناظم مشاعرہ نے کہا" نہیں نہیں حضور میرا اشارہ آپ کی طرف نہیں ہے"۔ اس پر ظہور نظر نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”گزشتہ مشاعرے میں یہی تعارف آپ نے میرے حوالے سے کرایا تھا ۔ " ایک کتاب کی رونمائی میں اظہار خیال کیلئے سلیم احمد کی باری آئی تو وہ مائیک کی طرف جاتے ہوئے بڑ بڑانے لگے، ان کے قریبی شخص نے بتایا وہ کہہ رہے تھے "اللّٰہ معاف کرے، آج پھر جھوٹ بولنا پڑے گا۔"بریڈ فورڈ کے ایک مشاعرے میں ایک بہت عمدہ اور بہت اعلیٰ ترنم والے شاعر بھی مدعو تھے ۔ وہ اسٹیج پر آئے اور مشاعرہ لوٹ لیا۔ مشاعرہ کے بعد سامعین ان کے گرد جمع ہو کر تعریف و توصیف کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک بہت مالدار سامع نے شاعر کو مخاطب کیا اور کہا ” واہ واہ جناب ! اللّٰہ نے آپ کو لحن داؤدی سے نوازا ہے۔ آپ خدا کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے۔ جناب ! اللّٰہ نے آپ کو اتنی خوبصورت آواز عطا کی ہے، آپ ہیر کیوں نہیں گاتے؟“ یہ سن کر میری اور امجد اسلام امجد کی ہنسی نکل گئی مگر متذکرہ شاعر شدید غصے میں آگئے اور ان صاحب سے مخاطب ہو کر کہا ‘‘آپ بد تمیز ہیں ، آپ بکواس کر رہے ہیں ۔‘‘ وہ صاحب جنھوں نے اپنی طرف سے جینوئن تعریف کی تھی ، پریشان ہو گئے ۔ بولے ” حضور! میں تو صرف یہ عرض کر رہا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو لحن داؤ دی عطا کیا ہے تو آخر ہیر کیوں نہیں گاتے‘‘ اس پر شاعر دوست کے منہ سے بوجہ غصہ جھاگ نکلنے لگی۔ میں نے انکے ’’مداح‘‘ کا ہاتھ پکڑا اور پرے لے جا کر کہا ” آپ کو نہیں پتہ، آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ اب اگر آپ نے کچھ کہا تو حضرت آپ کو ماریں گے" ۔ اس مداح کو تادم تحریر پتہ نہیں چلا کہ آخر اس نے کیا غلط بات کہی تھی ؟