سرحد وں سےماوراہوتا ہواایران، اس جنگ میں ایک احساس کی طرح پھیل گیا ہے،جسے کوئی توپ کوئی ٹینک روک نہیں سکتا۔ جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں، وہاں وہاں یہ نام دھڑکن کی طرح بج رہاہے۔ یہ کہیں سرگوشی ہے، تو کہیں خاموش دعا، کہیں کسی چوک پر بلند ہوتی ہوئی آواز۔ یہ اب نقشے کی چند لکیریں نہیں رہا ، دلوں کی امتِ مسلمہ کا چہرہ بن گیا ہے۔ہم چین اور روس کی سفارتی میزوں پر رکھے ہوئے فیصلوں کی بات نہیں کرتے۔ہم اُن تنگ گلیوں کی بات کرتے ہیں جہاں تاریخ خاموشی سے لکھی جا رہی ہے۔ ہم اُن چھوٹے چھوٹے گھروں کی کہانی سناتے ہیں جہاں عورتیں اپنے زیورات اتارتی ہیں، مگر وہ سونا نہیں اتارتیں۔وہ اپنے خوابوں کی چمک اُتار کر کسی دور کے درد کے نام کر دیتی ہیں۔ ہم اُن نوجوانوں اور بوڑھوں کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے دامے دِرمے قَدَمے سُخَنے اپنے حصے کا چراغ جلایا۔کوئی اپنی محنت کی کمائی رکھ آیا، کوئی اپنی دعاؤں کی گرمی، اور کوئی اپنی خاموشی کی گہرائی۔ یہ امداد رقم سے نہیں، احساس سے ناپی جاتی ہے۔یہ کہانی کسی ایک سرزمین تک محدود نہیں۔دنیا بھر کی گلیوں میں بھی یہ لفظ بہ لفظ لکھی جا رہی ہے۔ کہیں دعاؤں کے دائرے بنتے ہیں، جیسے زمین نے آسمان کو اپنے قریب بلا لیا ہو، اور ہاتھوں کی جنبش میں ایک کائنات سمٹ آئی ہو۔ کہیں جلوس نکلتے ہیں، جیسے لفظ سڑکوں پر چلنے لگے ہوں اور ہر قدم ایک جملہ بن گیا ہو۔ اور کہیں ایسے چراغ جلتے ہیں جنکی روشنی تیل سے نہیں، خون سے آتی ہے۔ایک ایسی روشنی جو آنکھوں سے نہیں، دلوں سے دیکھی جاتی ہے۔ وہ لوگ جو اس راستے میں کھڑے ہوتے ہیں، وہ صرف نعرے نہیں لگاتے۔وہ اپنے وجود کو ایک اعلان بنا دیتے ہیں۔ ان کی خاموشی بھی بولتی ہے، اور ان کی سانس بھی ایک پیغام بن جاتی ہے۔کہ امداد صرف دینا نہیں، خود کو کسی اور کے درد میں شامل کر دینا ہے۔یہ حمایت وقتی نہیں ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو لفظوں سے پہلے بنتا ہے اور خاموشی کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔ جیسے دو اجنبی دل ایک ہی درد میں بندھ جائیں، اور انہیں ایک دوسرے کا نام بھی معلوم نہ ہو۔مگر وہ پھر بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہوں، ایک دوسرے کیلئے دھڑک رہے ہوں۔
مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین پر ایک اور کہانی جنم لیتی ہے۔ وہاں جہاں خاموشی سرکاری پالیسی ہے، عوام کے دلوں میں ایک الگ دنیا آباد ہے۔ سعودی عرب کے نوجوان جب عربی میں ٹویٹ کرتے ہیں، بحرین کے لوگ جب فیس بک پر ویڈیوز شیئر کرتے ہیں، قطر کے کسی کمرے میں بیٹھا ہوا ایک شخص جب ایک جملہ لکھتا ہے۔تو وہ سب مل کر ایک ایسی دیوار بناتے ہیں جس پر سچائی خود اپنا نام لکھ دیتی ہے۔یہ ڈیجیٹل دنیایہ محض اسکرین نہیں رہی۔ یہ ایک نئی گلی ہے جہاں لفظ قدموں کی طرح چلتے ہیں، اور سچ ایک شور بن کر گونجتا ہے۔ یہاں کوئی آواز قید نہیں ہوتی۔یہاں آوازیں دریا بن جاتی ہیں، اور دریا جب بہتے ہیں تو سمندر کو خبر ہو جاتی ہے کہ کچھ بدل رہا ہے۔لبنان اور یمن کی سڑکوں پر جب لوگ نکلتے ہیں تو وہ صرف قدم نہیں بڑھاتے، وہ تاریخ کو جگاتے ہیں۔ عراق میں جب نعرے بلند ہوتے ہیں تو اُن میں صرف الفاظ نہیں ہوتے۔وہ صدیوں کی مزاحمت کی گونج ہوتے ہیں۔ یمن میں جب کوئی ہاتھ اٹھتا ہے تو وہ صرف دعا نہیں کرتا۔وہ ایک وعدہ کرتا ہے، ایک ایسا وعدہ جو وقت سے بھی پرانا لگتا ہے۔یہ سب ایران کو ایک ملک نہیں رہنے دیتے۔ وہ اسے ایک نظریہ بنا دیتے ہیں۔ایک ایسا نظریہ جو کہتا ہے اگر تم کھڑے ہو جاؤ، تو دنیا کی سب سے بڑی طاقت بھی تمہیں جھکا نہیں سکتی۔ اگر تم اپنے خوف سے آزاد ہو جاؤ، تو کوئی زنجیر تمہیں باندھ نہیں سکتی اور پھر ایک عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ یورپ کی سڑکوں پر، امریکہ کے چوراہوں پر، وہ لوگ کھڑے ہوتے ہیں جن کا ایران سے کوئی رشتہ نہیں۔ نہ زبان، نہ مذہب، نہ تاریخ۔ مگر ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈز ہوتے ہیں، ان کی آنکھوں میں سوال ہوتا ہے، اور ان کے دلوں میں ایک بے نام سی بے چینی۔وہ کیوں کھڑے ہیں؟شاید اس لیے کہ ظلم کی کوئی قومیت نہیں ہوتی۔شاید اس لیے کہ مزاحمت کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے لوگ بھی اس احساس سے دور نہیں۔ برطانیہ کی سرد فضا میں جب کوئی نعرہ گونجتا ہے، تو وہ صرف آواز نہیں ہوتا۔وہ ایک ارتعاش ہوتا ہے جو دلوں کو ہلا دیتا ہے۔ جرمنی کے کسی چوک میں جب لوگ جمع ہوتے ہیں، تو وہ صرف ہجوم نہیں ہوتا۔وہ ایک ضمیر ہوتا ہے جو خود کو ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔ کینیڈا کی برفانی راتوں میں جب کوئی آواز اٹھتی ہے، تو وہ سردی کو توڑ دیتی ہے، جیسے امید نے موسم کو شکست دے دی ہو۔یہ سب کچھ مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جو سیاست سے بڑی ہے۔ یہ انسانیت کی تصویر ہے۔ایک ایسی تصویر جس میں ہر رنگ الگ ہے مگر روشنی ایک ہی ہے۔ کوئی زیور بیچ رہا ہے، کوئی لفظ لکھ رہا ہے، کوئی سڑک پر کھڑا ہے، اور کوئی خاموشی سے دعا کر رہا ہے۔مگر سب ایک ہی کہانی کا حصہ ہیں۔
ایران اب ایک ملک نہیں رہا۔یہ ایک آئینہ ہے۔جس میں ہر وہ شخص خود کو دیکھتا ہے جو جھکنا نہیں چاہتا۔یہ ایک سوال ہے۔جو ہر اُس دل میں اٹھتاہے جو انصاف کی تلاش میں ہے۔یہ ایک خواب ہے۔جو اُن آنکھوں میں پلتا ہے جو ابھی بند نہیں ہوئیں۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس شور، اس دھوئیں، اس بے چینی کے درمیان بھی ایک امید زندہ ہے۔ایک ایسی امید جو چیخ کر نہیں، خاموشی سے کہتی ہے۔کچھ لوگ ابھی کھڑے ہیں۔ خیر کو شکست نہیں ہوئی.....