• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تہران پر شدید بمباری کے دوران پاکستانی سفارتخانہ اور سفیر کی رہائش محفوظ

اسلام آباد( اعزاز سید ) جمعرات کی شام تہران کے مختلف علاقوں میں شدید بمباری کی اطلاعات موصول ہوئیں، جن میں پاکستانی سفارتخانے اور ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو کی رہائش گاہ کے قریب کے علاقے بھی شامل تھے، سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانہ اور سفیر کی رہائش گاہ ایرانی دارالحکومت کے دو مختلف علاقوں میں واقع ہیں۔ سفارتخانہ ایرانی فوج کی ایک تنصیب کے قریب ہے، جبکہ سفیر مدثر ٹیپو کی رہائش پاسداران انقلاب سے منسلک علاقے میں ہے۔ یہ علاقہ “پاسداران” کے نام سے جانا جاتا ہے، جہاں آئی آر جی سی کے کمانڈرز اور ان کے اہلِ خانہ رہائش پذیر ہیں۔یہ بمباری مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات 8 بجے ہوئی، جس کے دوران دونوں علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حملوں کی شدت کے باوجود سفارتی ذرائع نے تصدیق کی کہ نہ پاکستانی سفارتخانے کو کوئی نقصان پہنچا اور نہ ہی سفیر کی رہائش گاہ متاثر ہوئی۔تہران میں موجود ایک سینئر پاکستانی سفارتکار نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے انتہائی شدید تھے، تاہم “کھڑکیوں کے شیشے تک نہیں ٹوٹے۔” تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ دھماکوں کی شدت سے سفارتی عملہ شدید خوفزدہ ہوا۔تقریباً 20 پاکستانی سفارتی اہلکار، سفیر مدثر ٹیپو کی قیادت میں، موجودہ کشیدہ اور خطرناک سیکیورٹی صورتحال کے باوجود تہران میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔سفارتی ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ خطرات کے باوجود پاکستانی عملہ ایرانی دارالحکومت میں موجود ہے، جو جاری علاقائی کشیدگی کے دوران سفارتی ذمہ داریوں کو برقرار رکھنے کے عزم کا مظہر ہے۔

اہم خبریں سے مزید