ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ زمینی تصادم کے خدشے کے پیشِ نظر 1 ملین سے زائد فوجیوں کو متحرک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق نوجوان رضاکار بڑی تعداد میں بسیج، پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج کے بھرتی مراکز کا رُخ کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں ایک فوجی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ زمینی افواج کو منظم کر کے جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا ہے اور امریکی افواج کی ایران میں ممکنہ آمد کی صورت میں سخت ردِعمل دیا جائے گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے امریکا کے ساتھ کسی بھی سفارتی پیشکش کو عوامی سطح پر مسترد کر دیا ہے۔
ادھر امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی سرگرمیاں بڑھا دی گئی ہیں جہاں امریکی 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے دستے جَلد خطے میں پہنچنے والے ہیں جبکہ ہزاروں میرینز پہلے ہی تعینات ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ اجلاس میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خیر سگالی کے طور پر امریکا کو تیل سے بھرے 10 جہاز لینے کی اجازت دی ہے۔
اِن کے مطابق ابتداء میں 8 جہازوں کی اجازت دی گئی تھی تاہم بعد میں مزید 2 جہاز ’معذرت‘ کے طور پر شامل کیے گئے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اقدام ایران کی جانب سے سنجیدہ مذاکراتی اشارہ تھا تاہم ایرانی حکام نے باضابطہ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔
برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق جاری کشیدگی امریکا کے اسلحے کے ذخائر پر مالی اور عسکری دباؤ ڈال رہی ہے۔
ابتدائی 16 دنوں میں امریکا اور اس کے اتحادی تقریباً 11,000 ہتھیار استعمال کر چکے تھے جن کی مجموعی لاگت تقریباً 26 ارب ڈالرز بتائی گئی ہے۔
رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ذخائر کم ہونے کی صورت میں امریکا کو پرانے ہتھیار استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں۔