• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی توانائی بحران شدید، ایران نے آبنائے ہرمز پر ’ٹول بوتھ‘ نظام متعارف کروا دیا

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر سخت کنٹرول اور مبینہ ٹول وصولی کا نظام نافذ کر دیا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد ایران نے خلیج سے نکلنے والے تیل اور مائع قدرتی گیس لے جانے والے جہازوں کی آمد و رفت محدود کر دی ہے۔

اس اقدام کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔

تقریباً 2000 جہاز پھنس گئے

بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف تقریباً 2000 جہاز گزرنے کے انتظار میں کھڑے ہیں۔

کئی شپنگ کمپنیاں خطرات کے باعث طویل متبادل راستے اختیار کرنے کے بجائے انتظار کو ترجیح دے رہی ہیں۔

ایران کا ’ٹول بوتھ‘ نظام کیسے کام کرے گا؟

برطانوی شپنگ جریدے ’لائڈز لسٹ‘ کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے غیر رسمی طور پر ایک نگرانی کا نظام قائم کیا ہے جس کے تحت:.........

  • جہاز مالکان کو پہلے ایران سے منسلک ثالثوں سے رابطہ کرنا ہوتا ہے۔
  • جہاز کی مکمل تفصیلات، کارگو، عملے کے نام اور منزل فراہم کی جاتی ہے۔
  • ایرانی بحری کمان معلومات کی جانچ کرتی ہے۔
  • منظوری ملنے پر کلیئرنس کوڈ اور مخصوص راستہ دیا جاتا ہے۔
  • آبنائے ہرمز میں داخل ہونے پر ایرانی اہلکار ریڈیو کے ذریعے کوڈ کی تصدیق کرتے ہیں۔
  • بعد ازاں ایرانی کشتی جہاز کو لراک جزیرے کے قریب سے محفوظ راستے سے گزارتی ہے۔
  • منظوری نہ ملنے والے جہازوں کو واپس بھیج دیا جاتا ہے۔

کن ممالک کے جہاز گزر رہے ہیں؟

ایران کے مطابق صرف وہی جہاز گزر سکتے ہیں جو اس کے خلاف کارروائیوں میں شامل نہ ہوں جیسے کہ ملائیشیا، چین، مصر، جنوبی کوریا اور بھارت سے تعلق رکھنے والے بعض جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق کچھ جہازوں نے یوآن کرنسی میں فیس ادا کی تاہم ادائیگی کی اصل رقم واضح نہیں ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض جہازوں سے 2 ملین ڈالرز تک وصول کیے جا رہے ہیں۔

کیا یہ اقدام قانونی ہے؟

اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون (یو این سی ایل او ایس) کے تحت عالمی آبی گزرگاہوں میں تمام جہازوں کو آزادانہ گزرنے کا حق حاصل ہے اور اس حق کو معطل نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی چوڑائی صرف 21 ناٹیکل میل ہے، ایران اور عمان کی سمندری حدود آپس میں ملتی ہیں، ایران اپنی حدود میں سیکیورٹی اقدامات کا دعویٰ کرتا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹول وصولی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور معاشی جنگ کے مترادف ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ایران نے یو این سی ایل او ایس پر دستخط تو کیے ہیں مگر اسے پارلیمنٹ سے باقاعدہ منظور نہیں کیا ہے۔

عالمی معیشت کو خطرہ

’الجزیرہ‘ کے مطابق توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ جاری رہی تو دنیا کو دہائیوں کے بدترین توانائی بحران اور ممکنہ عالمی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ سلطان الجابر نے اس صورتِ حال کو ’معاشی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کا اثر دنیا بھر میں ایندھن، خوراک اور ادویات کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کو خلیجِ فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل کا سب سے اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید