اسرائیل نے زمینی کارروائی کو وسیع کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں مزید فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں جس کے بعد جنوبی لبنان میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ڈویژن 162 کو جنوبی لبنان میں اس مقصد کے تحت بھیجا گیا ہے کہ سرحدی علاقے میں نام نہاد ’بفر زون‘ کو مزید وسیع کیا جا سکے، یہ ڈویژن پہلے سے موجود دو فوجی ڈویژنز کے ساتھ کارروائی میں شامل ہو گا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ لبنان سے حزب اللّٰہ کے میزائل خطرے کو پیچھے دھکیلنے کے لیے بڑا بفر زون قائم کیا جائے گا۔
اسرائیل نے حزب اللّٰہ کی جانب سے اسرائیلی علاقوں کی جانب راکٹ فائر کیے جانے کے بعد مارچ کے آغاز میں حملے تیز کر دیے تھے۔
اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں کے باعث جنوبی لبنان اور بیروت کے نواحی علاقوں سے بڑے پیمانے پر شہریوں کی نقل مکانی جاری ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک 1.2 ملین سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں جس سے انسانی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1,116 افراد شہید جبکہ 3,229 زخمی ہو چکے ہیں۔
لبنانی وزیرِ اعظم نواف سلام نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے گفتگو میں کہا ہے کہ اسرائیلی اقدامات لبنان کی خودمختاری کے لیے خطرہ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
دوسری جانب لبنان حکومت نے معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جنوبی لبنان میں پلوں اور گھروں کی تباہی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
حزب اللّٰہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اعلان کیا ہے کہ تنظیم اسرائیل کے خلاف ’بغیر کسی حد‘ کے مزاحمت جاری رکھے گی، حزب اللّٰہ نے ایک ہی دن میں 45 سے زائد حملوں کا دعویٰ کیا ہے جن میں راکٹ اور ڈرون حملے شامل ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق نہاریہ شہر پر راکٹ حملے میں 1 شخص ہلاک اور 11 زخمی ہوئے جبکہ جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی بھی مارا گیا اور 4 زخمی ہوئے۔