جاپان نے ایل این جی درآمدات میں خلل کے پیشِ نظر کوئلے سے بجلی پیدا کرنے میں اضافے پر غور شروع کر دیا۔
جاپان کی وزارتِ صنعت کے مطابق ماہرین کے پینل کے آج ہونے والے اجلاس میں مالی سال کے آغاز سے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی تجویز پیش کرے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ نے ایل این جی کی درآمدات میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔
جاپان ہر سال تقریباً 4 ملین میٹرک ٹن ایل این جی درآمد کرتا ہے، جو اس کی کل درآمدات کا تقریباً 6 فیصد ہے اور یہ آبنائے ہرمز کے راستے پہنچائی جاتی ہے۔
معیشت، تجارت اور صنعت کی وزارت (ایم ای ٹی آئی) نے منصوبے میں تجویز دی ہے کہ کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کی صلاحیت کے 50 فیصد حد کی پابندی کو ایک سال کے لیے معطل کیا جائے۔
اب تک واضح نہیں کہ یہ تجویز کب منظور ہو گی۔
ایم ای ٹی آئی کے ڈیٹا کے مطابق جاپان کے پاس تقریباً 4 ملین ٹن ایل این جی کا ذخیرہ موجود ہے، ملک کی بجلی کی پیداوار زیادہ تر ایل این جی اور کوئلے پر منحصر ہے، جبکہ تھوڑی مقدار تیل سے پوری کی جاتی ہے۔