میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ جنت کیسی ہوگی؟ ہر دفعہ عجیب و غریب نقشے میرے ذہن میں آتے ہیں۔ اسی طرح کبھی خیال آتا ہے کہ اگر مجھے جنت میں داخلہ مل گیا تو میری زندگی وہاں کس طرح کی ہوگی اور پھر اس حوالے سے کئی باتیں ذہن میں آنے لگتی ہیں ، مثلاً میں سوچتا ہوں میرا یا قوت کا محل ہوگا، میری خواب گاہ بھی سیمنٹ اور ریت کی بجائے قیمتی ہیرے اور موتیوں سے بنی ہوگی ۔ اس کے پردے ایسے ہوں گے اور فرنیچر ویسا ہوگا، صبح شہد کی نہر کے کنارے ایک توس پر تھوڑا سا شہد لگاؤں گا اور دودھ کی نہر میں سے ایک کپ دودھ لے کر ناشتہ کروں گا ۔ دو چار حوریں میری ٹانگیں دبا رہی ہوں گی۔ مگر ساتھ ہی خیال آتا ہے کہ جنت میں ٹانگوں میں درد تو ہونا نہیں لہٰذا یہ کام ان سے لینے کی کیا تک ہے؟ ویسے بھی یہ حوریں اربوں کھربوں سال عمر کی ہوں گی ، پتہ نہیں اتنی عمر کی حوروں سے کسی بھی قسم کی کوئی خدمت لی جاسکے گی کہ نہیں؟ تو چلو پھر غلمان پنکھا جھل رہے ہوں گے، مگر پھر میں نے سوچا جنت میں کون سی گرمی ہوتی ہے کہ وہ پنکھا جھلیں گے، چنانچہ مجھے ان کا کوئی مصرف سمجھ نہیں آیا۔ پھر یک دم خوش کن خیال یہ آیا کہ علی الصبح پہلے نماز پڑھوں گا ، پھر دودھ اور شہد کی نہروں کے کنارے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ سیر کروں گا تا کہ صحت ٹھیک رہے۔ مگر مجھے اپنے اس خیال پر خود ہی ہنسی آگئی، بھلا جنت میں صحت کی برقراری کیلئے سیر کی کیا ضرورت ہے؟ وہاں تو نہ بیماری ہے، نہ موت ہے ، نہ بڑھا پا ، صرف جوانی ہی جوانی ہے۔ ان سوچوں کے دوران اچانک ایک خیال نے مجھے پریشان کر دیا کہ میں صبح سے رات تک کا وقت گزاروں گا کیسے؟ نہ وہاں ادبی محفلیں ، نہ وہاں کوئی اخبار نکلتا ہے جبکہ میرے دونوں شوق ادبی محفلیں اور کالم نگاری تو انہی سے وابستہ ہیں۔ پھر میں نے سوچا صبح سے رات گئے تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں گا، مگر اس کام پر تو فرشتے مامور ہیں جو ازل سے خدا کی حمد و ثناء میں مشغول ہیں۔ جنت میں طرح طرح کے کھانے ہوں گے، انواع و اقسام کے پھل اور میوے ہوں گے ، مگر اس سے بھی میری تسلی نہیں ہوئی کیونکہ سارا دن کھاتے رہنے سے تو وقت نہیں گزر سکتا۔ لہٰذا بالآخر میں نے یہ معاملہ اللہ تعالیٰ پہ چھوڑ دیا کہ صرف وہی جانتا ہے جنت کیسی ہوگی اور جنتیوں کے مشاغل کیا ہوں گے؟
جنت کے بعد میرا دھیان جہنم کی طرف گیا اور میں نے سوچا اگر خدا نخواستہ مجھے میرے اعمال کی وجہ سے جہنم میں بھیج دیا گیا تو میرا کیا بنے گا؟ یہ سوچ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ وہاں بار بار د ہکتے ہوئے الاؤ میں پھینکا جائے گا، پیاس لگنے پر پانی کی جگہ پیپ پلائی جائے گی ، فرشتوں نے کاندھوں پر بڑے بڑے گرز رکھے ہوں گے اور وہ دوزخیوں کو مار مار کر ان کا بھرکس نکال دیں گے۔ مگر پھر یہ سوچ کر تسکین ہوئی کہ دنیا میں جن لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا ، ان کے چہروں پر ریا کاری کے پردے پڑے ہوئے تھے۔ وہ تھے کچھ اور ظاہر کچھ اور کرتے تھے اور یوں ہم ان کے ظاہر سے دھوکا کھا گئے ۔ چنانچہ جب جہنم میں ان سے ملاقات ہوگی تو ان کے اصلی چہرے سامنے ہوں گے اور میں ان سے پوچھوں گا کہ تم نے ہمارے ساتھ دھوکا کیوں کیا ؟ یہاں علمائے سو ہوں گے، انصاف کا خون کرنے والے جج صاحبان ہوں گے ظلم و زیادتی اور آئینی حدود سے تجاوز کرنے والے صاحبان اقتدار ہوں گے، برصغیر کے مسلمانوں کی عظیم پناہ گاہ پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والے اور اسے ذلت سے دو چار کرنیوالے سیاستدان اور جرنیل ہوں گے، میں ان سب سے پوچھوں گا کہ پاکستانی مسلمانوں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا جو تم ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے رہے اور ان کیلئے ان کی زندگی ہی جہنم بنادی؟ مگر پھر میں نے سوچا کہ اس کا کیا فائدہ؟ جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا۔ ان لوگوں کو سزا ان کی زندگی میں ملنی چاہیے تھی جو پاکستان کی جنت کو دوزخ بنانے میں لگے رہے۔ مگر پھر سوچا چلو دیر سے ہی سہی لیکن ان کا حساب کسی نے تو کیا اور حساب لینے والا بھی وہ جو کڑے احتساب میں بھی کسی سے نا انصافی نہیں ہونے دیتا۔
بہر حال جنت اور دوزخ دونوں کی خیالی سیر نے مجھے خاصا کنفیوژ کر دیا ہے۔ دوزخ تو کسی صورت میں قبول نہیں اور جنت کے بارے میں پوری طرح علم نہیں کہ وہاں کی زندگی کس طرح کی ہوگی ؟ اس کی لذتیں کس نوعیت کی ہوں گی ، اس میں ہجر اور وصال ، محبت اور نفرت، روشنی اور اندھیرا، خوشی اور غم ، بچپن جوانی اور بڑھاپا، صحرا اور گلستان غرضیکہ وہ سب تضادات جو زندگی میں یکسانیت پیدا نہیں ہونے دیتے ، وہاں کس صورت میں ہوں گے کہ لذتوں کی یکسانیت تنگ نہ کرے۔ ان سب باتوں کا جواب ان شاء اللہ آپ کو مرنے کے بعد دوں گا۔ میرا ایک شعر ہے:
وہاں سے لوٹ کے آئے کوئی تو بتلائے
وہاں پہ کیا ہمیں ملتا ہے کیا نہیں ملتا ؟
چنانچہ آپ جنت یا جہنم سے آئی ہوئی میری تازہ تحریر کا انتظار کریں۔