سندھ کے ساحلی اضلاع ٹھٹھہ، بدین اورسجاول اس وقت ایک ایسے ماحولیاتی اور معاشی بحران سے گزر رہے ہیں جو بتدریج ایک بڑے قومی المیے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سمندر کی مسلسل پیش قدمی، پانی کی کمی، موسمیاتی تبدیلی اور انتظامی کمزوریوں نے مل کر اس خطے کی زرعی زمینوں اور انسانی بستیوں کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ وہ علاقے جہاں کبھی دھان، گندم اور دیگر فصلیں لہلہاتی تھیں، آج کھارے پانی اور بنجر زمینوں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں سندھ کا ساحلی خطہ مزید سکڑ سکتا ہے اور اس کے اثرات نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے صوبے کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔سندھ پاکستان کا دوسرا بڑا زرعی صوبہ ہے اور ملک کی مجموعی زرعی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 23 فیصد سمجھا جاتا ہے۔ لاکھوں افراد کا روزگار براہ راست زراعت، ماہی گیری اور اس سے وابستہ شعبوں سے جڑا ہوا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور قدرتی آفات نے اس زرعی نظام کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے سندھ کی زرعی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 4.4 ملین ایکڑ زرعی زمین زیرِ آب آ گئی جبکہ کپاس، چاول اور سبزیوں کی فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ اس تباہی کے اثرات 2023 اور 2024 تک محسوس کیے جاتے رہے۔اگرچہ بعد کے برسوں میں زراعت کسی حد تک بحال ہوئی مگر پانی کی کمی اور غیر متوازن موسمی حالات نے پیداوار کو محدود رکھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023-24میں سندھ میں تقریباً 800 ہزار ہیکٹر رقبے پر چاول کاشت کیا گیا جس سے تقریباً 3.3 ملین میٹرک ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔ ماہرین کے مطابق اگر پانی کی دستیابی بہتر ہوتی تو یہ پیداوار مزید بڑھ سکتی تھی۔ اسی طرح Pakistan Bureau of Statistics کے مطابق سندھ میں گندم کی فی ہیکٹر پیداوار 2018 میں 2763 کلوگرام تھی جو 2023 میں کم ہو کر تقریباً 2588 کلوگرام رہ گئی۔ بظاہر یہ کمی معمولی دکھائی دیتی ہے مگر وسیع زرعی رقبے کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا مطلب لاکھوں ٹن گندم کی کمی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف گندم اور چاول تک محدود نہیں رہے بلکہ دیگر زرعی شعبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر سندھ آم کی پیداوار میں اہم مقام رکھتا ہے مگر 2023 میں شدید گرمی اور غیر متوازن موسمی حالات کے باعث آم کی پیداوار میں تقریباً 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور پیداوار 1.8ملین ٹن سے کم ہو کر تقریباً 1.44ملین ٹن تک آ گئی۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سندھ کی زرعی معیشت کیلئےایک بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔تاہم ساحلی سندھ کا بحران صرف موسمیاتی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ Indus Delta میں پانی کی کمی بھی ہے۔ انیسویں صدی کے اوائل میں انڈس ڈیلٹا کا رقبہ تقریباً 12900 مربع کلومیٹر تھا جبکہ بعض مطالعات اسے 13000 مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا قرار دیتے ہیں۔ اس زمانے میں Indus River کی تقریباً 17 بڑی شاخیں Arabian Sea میں گرتی تھیں اور دریا اپنے ساتھ زرخیز مٹی، گاد اور میٹھا پانی لاتا تھا جس سے پورا خطہ ایک متحرک ماحولیاتی نظام کی شکل اختیار کر لیتا تھا۔ اسی وجہ سے یہاں وسیع Mangrove Forests موجود تھے جو سمندری طوفانوں کے خلاف قدرتی حفاظتی دیوار کا کام کرتے اور مچھلیوں و جھینگوں کی افزائش کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتے تھے۔
لیکن گزشتہ دو صدیوں میں اس قدرتی نظام میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق انڈس ڈیلٹا کا فعال حصہ سکڑ کر اب تقریباً 1000 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ اگر اس کا موازنہ تاریخی رقبے سے کیا جائے تو 12900 مربع کلومیٹر سے کم ہو کر تقریباً 1 ہزارمربع کلومیٹر رہ جانا تقریباً 92 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی ڈیلٹا کے تقریبا11900 مربع کلومیٹر علاقے یا تو سمندر برد ہو چکے ہیں یا ماحولیاتی تبدیلی کے باعث اپنی اصل شکل کھو چکے ہیں۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ جہاں کبھی دریا کی 17 شاخیں سمندر تک پانی پہنچاتی تھیں، آج عملی طور پر صرف چند کریکس ہی فعال رہ گئی ہیں۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں سندھ کے ساحلی علاقوں میں تقریباً 2.2 ملین ایکڑ زرعی زمین سمندر برد ہو چکی ہے جبکہ بعض مقامات پر سمندر 80 سے 100 کلومیٹر تک اندر داخل ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف زراعت بلکہ مقامی ماہی گیری کے نظام کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ انڈس ڈیلٹا کبھی مچھلی اور جھینگوں کی افزائش کا اہم مرکز سمجھا جاتا تھا اور یہاں کی ماہی گیری لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ تھی۔ مگر ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی اور پانی کی کمی کے باعث اس نظام میں نمایاں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور ماہی گیروں کی آمدنی کم ہوتی جا رہی ہے۔اس بحران کے سماجی اثرات بھی انتہائی سنگین ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ سندھ کا ساحلی بحران اب صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی معیشت، غذائی سلامتی اور انسانی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر زرعی زمین اسی طرح سمندر برد ہوتی رہی اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا تک پانی کی فراہمی بہتر نہ کی گئی تو مستقبل میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک جامع پالیسی تشکیل دی جائے۔ دریائے سندھ کے ڈیلٹا تک مناسب مقدار میں پانی کی فراہمی یقینی بنانا، مینگرووز کے جنگلات کو مزید فروغ دینا، ساحلی علاقوں میں حفاظتی بند تعمیر کرنا اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جدید زرعی حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔