وطن کی محبت ایک فطری اور قدرتی جذبہ ہے۔ انسان جس زمین میں پیدا ہو، جن لوگوں میں پلے بڑھے، جس دھرتی اور ثقافت میں پروان چڑھے، اس سے محبت ایک فطری تقاضہ ہے۔ قرآن اور حدیث سے بھی ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وطن سے محبت ایک حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث اس بارے کیا کہتے ہیں۔ ”اور جب ہم نے ابراہیم کو بیت اللّٰہ کا مقام دیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور میرے گھر کو طواف کرنیوالوں قیام کرنیوالوں رکوع کرنیوالوں اور سجدہ کرنیوالوں کیلئے پاک صاف رکھو۔“ (سورۃ الحج 26)اس کی تفسیر میں تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے: ”یہاں بیت اللّٰہ کو ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا مقام وطن کی محبت کے اظہار کی علامت ہے۔“ یہاں سے وطن کی عظمت اور اسکی حفاظت کا سبق بھی ملتا ہے۔ تفسیر طبری میں لکھا ہے :” وطن کی اہمیت، اسکی صفائی اور پاکیزگی کی ضرورت اس آیت میں بتائی گئی ہے۔“ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وطن کی محبت اور اسکی حفاظت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ”اور لوگوں کو حج کے لیے اذان دو، وہ تمہارے پاس پائوں کے بل چل کر آئیں اور ہر دور دراز راستے سے آنیوالی اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئیں۔“ (سورہ الحج27)اس کی تفسیر میں تفسیر ابن جریر میں لکھا ہے: ”یہاں حج کی اہمیت اور مسلمانوں کیلئےاس سفر کی ترغیب دی گئی ہے۔ وطن سے محبت کے تناظر میں حج کی روحانی اور جسمانی اہمیت واضح ہوتی ہے۔“”اللّٰہ نے ایک مثال بیان کی ایک بستی کی جو امن والی اور اطمینان والی تھی۔ جہاں ہر جگہ سے اس کا رزق خوب آتا تھا پھر اس بستی نے اللّٰہ کی نعمتوں کا انکار کیا۔“ (سورۃ النحل16) تفسیر ابن کثیر میں اسکی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس آیت میں امن اور خوشحالی کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ وطن کی محبت اس بات سے بھی جڑی ہے کہ اس کی امن و امان کی حالت برقرار رکھی جائے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:” قریش کی امن و امان کی قسم انکی سردیوں اور گرمیوں کی سفر کی عادت کی قسم تاکہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچایا اور خوف سے محفوظ رکھا ۔“(سورہ قریش) اسکی تفسیر میں تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ قریش کی بستی اور اسکی حفاظت پر توجہ دی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وطن کی سلامتی اور اس کی عظمت کی قدر کرنی چاہئے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ جہاد کیا وہ تمہارے ہیں اور یہی سچے مومن ہیں، ان کیلئے مغفرت اور بڑے انعامات ہیں۔“ (سورۃ الانفال74)تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ یہاں ہجرت اور جہاد کے ذریعے وطن کی محبت اور اس کی حفاظت کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ بہت سی احادیث سے ثابت ہے کہ وطن سے محبت کرنی چاہئے اور یہ ایک فطری تقاضا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللّٰہ ہمیں مدینہ کی محبت ایسے ہی دے جیسے ہمیں مکہ سے محبت ہے یا اس سے بھی زیادہ۔“ (بخاری شریف، حدیث نمبر 1889)اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضورﷺ کو مکہ مکرمہ سے کتنی محبت تھی کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی محبت کیلئےدعا کی۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اپنے مسکن سے محبت کیلئے اللّٰہ کے نبی دعا کر رہے ہیں۔ وطن سے محبت کی اہمیت بھی اس سے پتہ چل رہی ہے۔حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ جب سفر سے واپس مدینہ تشریف لاتے اور مدینہ کی دیواروں کو دیکھتے تو اپنی اونٹنی کو تیز کر دیتے اور اگر کوئی اور سواری ہوتی تو اسے تیز حرکت دیتے، مدینہ کی محبت کی وجہ سے۔(سنن دارمی، حدیث نمبر2454) اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مدینہ سے کتنی محبت تھی اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے محبت کا اظہار بھی فرماتے تھے۔حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کو دیکھا اور فرمایا: ”تو کتنی پاکیزہ زمین ہے اور مجھے کتنی محبوب ہے اور اگر میری قوم نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں کبھی کسی اور جگہ نہ رہتا۔“(سنن ترمذی، حدیث نمبر3925) اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ وطن سے محبت کتنی اہم ہے۔حضرت انس ابن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مکہ سے مدینہ واپس جاتے اور ثنیہ الوداع پر پہنچتے تو مدینہ کو دیکھ کر آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 1357) اس سے پتہ چلتا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وطن کی محبت میں آبدیدہ بھی ہو جاتے تھے۔ اندازہ لگائیے کہ یہ کتنی گہری محبت تھی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک آدمی ہوتا۔“ (بخاری شریف حدیث نمبر 375)اس حدیث سے پتہ چلا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ کے رہنے والے یعنی انصار سے بھی محبت فرماتے تھے۔ حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جمرہ کے پاس دیکھا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:” اللّٰہ کی قسم! تم اللّٰہ کی زمینوں میں سے سب سے بہتر زمین اور اللّٰہ کا نزدیک سب سے محبوب زمین ہو اور اگر مجھے تم سے نہ نکالا جاتا تو میں کبھی بھی نہ نکلتا۔“ (معجم طبرانی کی حدیث نمبر 5785) ۔میرے بھائیو! آپ کو اب سمجھ آگیا ہوگا کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ حضور ﷺ اپنے وطن سے کتنی محبت کرتے تھے۔ صحابہ کرام بھی اسی وجہ سے وطن سے محبت کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ کرام بھی اپنے وطن سے محبت کا اظہار فرماتے تھے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے وطن کی قدر کریں، جس کیلئے لاکھوں جانوں کی قربانی دی گئی۔