بنگلہ دیش کے 13ویں عام انتخابات کی کوریج کیلئے ڈھاکہ جاتے ہوئے ایسی کیفیت طاری تھی جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔گاہے فیض کےالفاظ یاد آتے”خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد“تو دفعتاًاقبال کا تخیل ڈھارس بندھاتا کہ ”آملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک“۔7اور8فروری 2026ء کی درمیانی شب اسی اُدھیڑ بن میں کراچی کے جناح انٹر نیشنل ایئر پورٹ پہنچے۔بورڈنگ کا مرحلہ طے ہوا تو امیگریشن کی گھڑی آگئی۔میرے آگے حبیب اکرم کھڑے تھے،کہنے لگے،ممکن ہے آف لوڈ کردیا جاؤں،اگر ایسا ہوا تو تھوڑا بہت احتجاج کرنا تاکہ عزت رہ جائے۔میں نے کہا،تھوڑا کیوں میاں!روئیں گے ہم ہزار بار،کوئی ہمیں ستائے کیوں؟امیگریشن حکام نے انہیں کلیئر کردیا تو میں نے کف افسوس ملتے ہوئے کہا،احتجاج کا موقع نہیں ملا۔کسی کو یہ توقع نہیں تھی کہ یہ گلہ محض چند ساعتوں کا مہمان ہے۔انکے فوراً بعد میری باری آئی،امیگریشن افسر نے جیسے ہی پاسپورٹ نمبر درج کیا،مجھے گھور کر دیکھا،جیسے یہ یقین کرنے کی کوشش کررہا ہو کہ شکل سے تو اتناخوفناک ملزم نہیں لگتا۔اور پھر کہا،آپ میرے ساتھ آجائیں۔ایئر پورٹ پر قائم ایف آئی اے کے دفتر میں لے جاکر نہ صرف موبائل فون تحویل میں لے لئے گئے بلکہ مجھے باقاعدہ گرفتار کرکے ہتھکڑی لگادی گئی اور پھر اگلے 16,17گھنٹے اسی کیفیت میں گزرے۔پہلے تو امیگریشن حکام سخت احکامات کے پیش نظرمجھے کوئی بھگوڑا فوجی افسر سمجھ رہے تھے کیونکہ ان کے مطابق میرا نام Passport Control List PCL میں تھا جسے اسٹاپ لسٹ بھی کہا جاتاہے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ تحویل میں لیکر ہتھکڑی لگائی جائے اور ہمارے حوالے کیا جائے۔میرے صحافی دوست بھی اس اچانک افتاد پرپریشان تھے مگر میں نے انہیں کہا کہ آپ بے فکر ہوکر جائیں،میرے ساتھ جو سلوک ہوگا،میں سامنا کرنے کو تیار ہوں۔البتہ بعد ازاں ازراہ تفنن بعض دوستوں سے یہ بات ضرور ہوئی کہ حبیب اکرم جیسے بزعم خود انقلابی دوست ہمیں اسٹیبلشمنٹ کا ساتھی سمجھتے ہیں مگر اب اس سلوک کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا ”حبیب“کون ہے اور ”رقیب“کسے سمجھا جاتا ہے۔وہاں سب سے بڑی پریشانی بے یقینی کیفیت کی تھی۔آپ حوالات میں ہوں یا جیل میں، کم از کم یہ تو اندازہ ہوتا ہے کہ اب یہاں رہنا ہے تو انسان ماحول کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔مگر ایک صوفے پر یوں غیر معینہ وقت تک بیٹھنا محال ہوجاتا ہے۔گلا پیاس سے چٹخ رہا تھا مگر میں پانی پینے میں احتیاط سے کام لے رہا تھا کیونکہ رفع حاجت کے لئے اجازت طلب کرنا پڑتی اور پھر کوئی اہلکار پہرہ دینے کیلئےساتھ جاتا توایسی ناخوشگوار صورتحال سے گریز ہی بہتر تھا۔بارہ بجے کے قریب امیگریشن حکام کی شفٹ بدل گئی۔نئے آنے والے نوجوان افسر خاصے خوش اخلاق تھے اور انہوں نے یہ واضح کیا کہ آپ جیسے پڑھے لکھے شخص سے اس سلوک کا کوئی جواز نہیں مگر ہم احکامات کی تعمیل پر مجبور ہیں۔رات بھر جو مسافر امیگریشن کے سلسلے میں آرہے تھے،وہ بھی ہتھکڑی دیکھ کر شش و پنج میں مبتلا ہوجاتے کہ بظاہر مہذب اور باوقار نظر آنے والے اس شخص نے آخر ایسا کونسا جرم کیا ہے؟کچھ لوگوں نے تو پہچان لیا اور پوچھا،کیا آپ بلال غوری ہیں؟میں نے اثبات میں سرہلایا تو استفسار کیا کہ یہ کیا ماجراہے؟میں کیا بتاتا،مجھے تو خود معلوم نہیں تھا کہ اس تذلیل و تحقیر کا سبب کیا ہے۔کوئی مقدمہ نہیں،کوئی انکوائری نہیں،کوئی الزام نہیں تو پھر کیوں روکا گیا؟چلیں،آپ نے بیرون ملک نہیں جانے دیا،مگر گرفتار کرنے کا کیا جواز تھا؟تحویل میں لینا ضروری تھا تو ہتھکڑی لگانے کی کیا منطق؟کیا یہ محض اتفاق ہے کہ دائیں ہاتھ میں ہتھکڑی پہنائی گئی جس نے بر سہابرس تک قلم تھامنا ہی سیکھا۔ نہ کسی کی آمد پر قصیدے لکھے نہ کسی کی رُخصتی پر مرثیہ خوانی کی۔نام آوری کے جنوں میں مبتلا نہیں ہوا۔شہرت و ناموری کا روگ نہیں پالا۔پانے کے خمار اور کھونے کے آزارکو خود سے دور رکھا۔خوف زوال اور شوق کمال سے بے نیازی اختیارکی۔کسی خوف اور طمع کے بغیر جو محسوس کیا،وہی تحریر کیا تو پھر ایک قلمی مزدور سے یہ سلوک کیوں کیا گیا؟
رات بھر انہی سوچوں میں اُلجھا رہا۔چونکہ یہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات تھی اس لئے اندیشہ یہ تھا کہ متعلقہ حکام چھٹی پر ہوں گے اور شاید کئی دن یہاں اسی حالت میں گزارنے پڑیں۔صبح آٹھ بجے ایک بار پھر امیگریشن حکام کی شفٹ تبدیل ہوگئی۔رات فرائض سرانجام دینے والے عملے نے جہاں دیگر معاملات صبح آنے والے افسروں کے حوالے کئے،وہاں مجھے بھی ان کے سپرد کردیا گیا۔تقریباً گیارہ بجے جب ایف آئی آے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اس کمرے میں تشریف لائے اور مجھے اس حالت میں دیکھنے کے بعد اپنے عملے کو بھیجا کہ صاحب کو دوسرے کمرے میں لے جاکر عزت سے بٹھاؤ اور چائے پلاؤ تو تب اندازہ ہوا کہ ہواؤں کا رُخ بدل گیا ہے۔اور پھر یکے بعد دیگرے متعلقہ افسروں کی آمد اور معذرت کا سلسلہ شروع ہوگیا مگر تین بجے کے قریب باضابطہ طور پر رہائی ملی اور پھر اگلے دن صبح کی فلائٹ سے میں ڈھاکہ روانہ ہوا۔یہ سب کیوں ہوا؟کس کے کہنے پر ہوا؟کون ذمہ دار ہے؟میرا جرم کیا تھا؟ابھی تک ان سوالات کے براہ راست تو کیا بالواسطہ جواب بھی نہیں مل پائے۔میں اپنے کالم میں ذاتی دکھ اور مسائل بیان کرنے کے حق میں نہیں۔آج کچھ تفصیل بھی محض اس لئے بیان کی ہے نظام کو درست کیا جاسکے۔ایگزٹ کنٹرول لسٹ یعنی ECLکی تو قانونی طور پر گنجائش موجود ہے اور وفاقی کابینہ اس میں نام شامل کرنے یا نکالنے کی منظوری دیتی ہے۔سوال یہ ہے کہ Passport Control List اوراس جیسی دیگر فہرستوں کی قانونی حیثیت کیا ہے؟کیا یہاں جنگل کا نظام ہے کہ جو،جب،جس کا نام چاہے اس قسم کی فہرستوں میں ڈال کر بھول جائے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو؟کیا اس کیلئےکوئی باضابطہ طریقہ کار نہیں ہونا چاہئے؟اور جس شخص کا نام شامل کیا جارہا ہے،اسے نوٹس جاری کرکے اپنے دفاع کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے؟