• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حیرت ہوتی ہے کہ امریکہ جیسے عالی دماغوں کے حامل ملک میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص صدر بن گئے۔ صبح و شام متضاد اور غیرسنجیدہ بیانات کی وجہ سے ان کا مسخرہ پوری دنیا میں مشہور ہو گیا ہے ۔ انکے بیانات اور وعدوں کو اب کوئی سنجیدہ نہیں لیتا۔ بدقسمتی سے انکی حرکتیں صرف زبانی بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملاً بھی وہ نتائج کی پروا کئے بغیر اقدامات اٹھاتے ہیں۔ امریکہ کے اندر وہ جس قدر چیزوں کو الٹ پلٹ کر سکتے تھے وہ کردیا اور اب بدقسمتی سے بیرونی دنیا کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔ وہ امن کے نوبل پرائز کے متمنی تھے لیکن باہر متوجہ ہوتے ہی الٹ سمت جانکلے ۔ آغاز وینزویلا سے کیا اور اس کے صدر کو اغوا کرکے نیویارک لے آئے۔ پھر نئے محاذ کی تلاش میں لگ گئے تو اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے دام میں پھانس لیا۔ انہیں یہ پٹی پڑھائی کہ ایران لٹک رہا ہے اور ہمارے ایک حملے سے ہی ہماری جھولی میں آگرے گا چنانچہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر ایسے عالم میں حملہ آور ہوئے کہ اسکے ساتھ ثالثی کرنے والے عمان کے وزیر کے مطابق مذاکرات کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ عقل سے عاری سپر پاور کے اس سربراہ نے کچھ عرصہ قبل ایران میں ہونیوالے مظاہروں کے تناظر میں یہ خواب دیکھا تھا کہ وہ ایران کے رہبر اعلیٰ کو شہید کرلیں گے تو پورا ایران بغاوت کرکے سڑکوں پر نکل آئے گا لیکن یہ نہیں سوچا کہ ایرانی عوام کے ہاں رہبر اعلیٰ کا مقام کیا ہے اور صرف ایرانی عوام ہی نہیں بلکہ باہر کی دنیا میں بھی کروڑوں لوگ انہیں اپنا روحانی رہبر سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اسرائیل اور امریکہ کی اس حماقت نے ایرانی عوام کو یکجان کردیا اور اس سے قبل جو چند ایک اختلافی آوازیں اٹھ رہی تھیں وہ بھی دب گئیں جبکہ ایران سے باہر بھی اس کی حمایت میں ہمدردی پیدا گئی۔چنانچہ امریکہ اور اسرائیل کا ایران میںرجیم چینج کاخواب پہلےہفتےمیںہی چکنا چور ہوگیا۔ امریکیوں نے سوچا تھا کہ ایران کی فضائیہ نہ ہونےکے برابر ہے اور جب اسکی فضاوں پر قبضہ ہو جائے گا تو ایران کے پاس جھکنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا لیکن ایران کے میزائل اور ڈرونز کے غیرمعمولی ذخیرے کی طرف دھیان ہی نہ دیاجسے ایران نے پانچ ہفتے بھرپور طریقے سےاستعمال کیا اور ہنوز اس کے پاس میزائلوں اور ڈرونز کی کوئی کمی نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ یہ احمقانہ بات کررہے ہیں کہ انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ ایران پڑوسی عرب ممالک پر حملے کرے گا حالانکہ ایران نے پہلے سے خبردار کیا تھا کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ جواب میں خلیجی ممالک کو نشانہ بنائے گا۔ ایران اس کیلئے یہ دلیل پیش کررہا ہے کہ چونکہ امریکی ان خلیجی ممالک کے اڈوں میں موجود ہیں اس لئے اُس کے یہ حملے بھی امریکہ کے خلاف ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غلط اندازہ آبنائے ہرمز سے بھی متعلق لگایا تھا ۔ ان کے ذہن میں شاید یہ بات نہیں تھی کہ ایرانی اس پر اپنا کنٹرول مضبوط کرکے خلیجی ممالک کا راستہ بند کر دیں گے ۔ آبنائے ہرمز کی ساخت ایسی ہے کہ وہ قدرتی طور پر ایران کے حق میں ہے اور سمندر کی تنگ پٹی کو بند کرنا ایران کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ چنانچہ آبنائے ہرمز کی بندش سے خلیجی ممالک میں جہاںخوراک کی قلت کا خطرہ پیدا ہوگیا وہاں دوسری طرف ترسیل بند ہونے کی وجہ سے پوری دنیا اور بالخصوص ایشیائی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں نہ صرف غیرمعمولی حد تک بڑھ گئیں بلکہ قلت کا خطرہ بھی پیدا ہوگیا۔یوں خلیجی ممالک اور ایشیائی و یورپی ممالک کا بھی دباو بڑھنے لگا کہ آبنائے ہر مز کو کھول دیا جائے ۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کریں تو کیا کریں ؟۔ انہوں نے دنیا کے اہم ممالک سے اپیل کی کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد کیلئے اپنے جہاز بھیجیں لیکن کسی نے بھی انکی کال پر کان نہ دھرا۔چنانچہ وہ حواس باختہ ہو گئے اور چند روز کی مہلت دے کر دھمکی دی کی اگر اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو ان کی افواج ایران کے تیل اور پانی کے ذخائر کو نشانہ بنائیںگی۔ اس کے جواب میں ایران نے دھمکی دی کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایسا کیا تو وہ جواب میں خلیجی ممالک کے تیل اور پانی کے ذخائر کو نشانہ بنائے گا ۔ ظاہر ہے یہ صورتحال خطے کیلئے قیامت صغریٰ سے کم نہیں ہوگی چنانچہ مختلف ممالک اور بالخصوص پاکستان، ترکی اور مصر نے نئی اور بھرپور سفارتی کوششیں شروع کردیں۔ مرکزی کردار پاکستان کا رہا،فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی اور شاید اسی وجہ سے وہ ایران کے ذخائر پر حملوں میں چند روز کی تاخیر پر آمادہ ہوئے ۔ ترکی اور مصری وزرائے خارجہ کیساتھ وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھرپور سفارتکاری کی اور پاکستان مرکز نگاہ بن گیا ۔ پاکستان اس مرحلے پر دونوں فریقوں کی براہ راست بات چیت تو نہ کروا سکا لیکن امریکہ اور ایران نے اپنے اپنے مطالبات اور شرائط کی فہرست پاکستان کے حوالے کی ،جسکا دونوں ممالک کے ساتھ تبادلہ کیا گیا ۔تاہم دونوں ممالک کے جو مطالبات ہیں وہ دوسرے فریق کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتے لیکن سفارتی ماہرین کہتے ہیں کہ ابتدا میں اسی طرح فریقین آخری حد تک مطالبات کرتے ہیں اور بعد میں زمینی حقائق کی طرف آتے ہیں اور شاید اسی لئے مذاکرات پر زور دینے والے سہولت کاروں نے اپنی کوششوں کو ترک نہیں کیا ۔ البتہ ایران کا مسئلہ یہ ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای اور علی لاریجانی کی شہادت کی وجہ سے ایران میں بہت جذباتی فضا ہے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب مذاکرات کے حق میں نہیں جبکہ آبنائے ہر مز اور خلیجی ممالک کی پریشانی سے ایران میں یہ سوچ بھی موجود ہے کہ وہ فاتح ہے اور اس نے امریکہ کو گھیر لیا ہے ۔ ان وجوہات کی بنا پر ایران مذاکرات سے کترا رہا ہے ۔ دوسری طرف امریکہ کا رویہ غیرسنجیدہ اور کسی حد تک منافقانہ ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف مذاکرات کی بات کررہا ہے اور دوسری طرف مزید فوج کو خلیج میں بھیج رہا ہے ۔ اسی طرح اس کا رویہ نہایت غیرسنجیدہ ہے ۔ وہ کبھی کہتا ہے کہ ایرانی ڈیل کیلئے منتیں کررہے ہیں اور کبھی کہتا ہے کہ مجھے تحفہ بھیجا ہے ۔ فریقین کی ان پوزیشنوں کی وجہ سے بظاہر مذاکرات مشکل نظر آرہے ہیں ۔ ادھر اسرائیل کا مسئلہ ہے کہ جو نہ صرف جنگ کو شروع کرنے کا عامل بنا بلکہ اب بھی امن کے ہر عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان حالات میں پاکستان اپنے دوست ملکوں کے ساتھ مل کر کس طرح امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لاتا ہے ۔

تازہ ترین