برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین کو ملنے والی دھمکیوں اور بدسلوکی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے نیا نیشنل ڈیموکریسی پروٹیکشن یونٹ قائم کیا گیا ہے، جو پولیس فورسز کی مدد کرے گا، یہ نیا یونٹ پولیس چیفس کونسل کے تحت کام کرے گا اور اس کی قیادت پولیس چیف کرس بالمر کو سونپی گئی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق 96 فیصد اراکین نے ذاتی طور پر دھمکی آمیز رویے یا پیغامات کا سامنا کیا ہے، 2019 کے بعد اراکین پارلیمنٹ کے خلاف جرائم کی شرح دگنی ہو گئی ہے اور یہ تعداد گزشتہ برس تقریباً ایک ہزار تک جا پہنچی تھی، جن میں ہراساں کرنا، املاک کو نقصان پہنچانا اور قتل کی دھمکیاں دینا شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق قتل کی دھمکیاں اس قدر معمول بن چکی ہیں کہ بعض اراکین انہیں پولیس کو رپورٹ ہی نہیں کرتے، 2019 سے 2025 کے درمیان اراکین پارلیمنٹ نے میٹرو پولیٹن پولیس کی پارلیمانی ٹیم کو 4064 رپورٹس کیں۔
2025 میں قتل کی 50 دھمکیاں موصول ہوئیں، جبکہ اس سے گزشتہ برس یہ تعداد 31 تھی، انتخابات کے سال 2024 میں جسمانی تشدد کے 24 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد تین رہی، 2016 میں جو کاکس ایم پی اور 2021 میں سر ڈیوڈ ایمز ایم پی کے قتل کے بعد اراکین کی سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیا تھا۔
نئے یونٹ کے سربراہ کرس بالمر کے مطابق ایم پیز کے خلاف آن لائن اور آف لائن دھمکیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین زیادہ نشانہ بنتی ہیں اور یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ خالی دھمکیاں نہیں، دو واقعات میں انہیں عملی جامہ بھی پہنایا جا چکا ہے۔