ایران امریکا جنگ کے سبب ہوائی جہاز کے ٹکٹس کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
کنسلٹنسی فرم ٹینیو کے مطابق اکانومی ٹکٹ کی اوسط قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ مہنگی ہو گئی ہے، اس کی بڑی وجہ تیل کی سپلائی میں خلل پڑنا اور جنگ کی وجہ سے فضائی حدود کی بندش ہے، کیونکہ ایئر لائنز اپنی بہت سی پروازوں کے روٹس تبدیل کرنے پر مجبور ہیں۔
خلیجی ایئر لائنز کی طویل فاصلے کی پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں، جس کے سبب ان روٹس پر ٹکٹس کی دستیابی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، اگرچہ بعض حریف ایئر لائنز نے طویل فاصلے کے سفر کے لیے اپنی پروازیں بڑھائی ہیں، لیکن اس کے باوجود معمول کے مقابلے میں کم ٹکٹس ہی دستیاب ہیں۔
جیٹ فیول کی قیمتیں حالیہ ہفتوں میں 85 سے 90 ڈالرز فی بیرل سے بڑھ کر 150 سے 200 ڈالرز فی بیرل تک جا پہنچی ہیں، ٹکٹس کی قیمتوں میں سب سے بڑا اضافہ یورپ اور مشرقِ وسطیٰ و ایشیاء کے درمیان چلنے والی پروازوں پر دیکھا گیا ہے، ہانگ کانگ سے لندن جانے والی پرواز کے ٹکٹ میں 76 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
برطانیہ سے پروازیں چلانے والی ایئر لائنز نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی جلد ختم نہ ہوئی تو انہیں پروازیں محدود کرنا پڑیں گی، جس سے کرایے مزید بڑھ جائیں گے۔
انہوں نے حکومت سے آبنائے ہرمز بند ہونے کے سبب درپیش رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، ان مطالبات میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کو’غیر معمولی حالات‘ قرار دینا شامل ہے، تاکہ ایئر لائنز مسافروں کو معاوضہ ادا کرنے سے بچ سکیں، اس کے ساتھ انہوں نے ایئر پیسنجر ڈیوٹی کو کم یا عارضی طور پر معطل کرنے اور بڑی ایمیشن اسکیم کو فی الحال روکنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
یہ مطالبات ایک خفیہ بریفنگ دستاویز میں شامل ہیں، جو وزراء اور سول ایوی ایشن حکام کو ایئر لائنز کی جانب سے بھیجی گئی ہے، یو کے ایئر لائنز میں ایزی جیٹ، ریان ایئر، برٹش ایئر ویز اور ورجن اٹلانٹک سمیت دیگر ایئر لائنز شامل ہیں، حکومت سے جیٹ فیول کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے آئل ریفائنریز کو ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔