تحریر…شرجیل انعام میمن سینئر صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شہید ذوالفقار علی بھٹو برصغیر کی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں جنہوں نے نہ صرف پاکستان کی سیاست کو نئی جہت دی بلکہ عوامی شعور کو بھی بیدار کیا۔ اس عظیم رہنما کی برسی کے موقع پر ہم ان کی جدوجہد، قربانی اور نظریے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جو آج بھی زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ذوالفقار علی بھٹو ایک غیر معمولی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی سیاسی زندگی ایک وژن کے ساتھ شروع ہوئی جس کا مقصد پاکستان کو ایک مضبوط، خودمختار اور عوامی ریاست بنانا تھا۔ انہی کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آیا، جس نے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی کیونکہ اس نے “روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ دیا۔ یہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی و معاشی فلسفہ تھا جس کا مقصد غریب اور محروم طبقات کو ریاست کا مرکز بنانا تھا۔شہید بھٹو کی سیاسی زندگی مشکلات اور عوامی خدمت سے عبارت ہے۔ انہوں نے ایسے وقت میں قیادت سنبھالی جب ملک شدید بحران کا شکار تھا۔ 1971 کے سانحے کے بعد پاکستان کو نئی سمت دینے کی ضرورت تھی، اور بھٹو نے اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا۔ انہوں نے ملک کو متحد کیا، عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بحال کیا اور ایک مضبوط سیاسی و آئینی بنیاد فراہم کی۔شہید بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ 1973 کا آئین ہے۔ آج بھی یہ آئین ریاست کی بنیاد ہے اور تمام سیاسی قوتوں کے اتفاق کی علامت ہے۔ اس آئین نے نہ صرف پارلیمانی نظام کو مضبوط کیا بلکہ بنیادی حقوق کو بھی یقینی بنایا۔ یہ شہید بھٹو کی دوراندیشی تھی کہ انہوں نے تمام جماعتوں کو ایک میز پر بٹھا کر متفقہ آئین منظور کروایا۔شہید بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد بھی رکھی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر اپنے دفاع کو مضبوط بنائیں گے۔ ان کی قیادت میں ایٹمی پروگرام کا آغاز ہوا جو بعد میں پاکستان کے دفاع کا ناقابلِ تسخیر حصار بن گیا۔ آج پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس میں شہید بھٹو کی دوراندیشی کا کلیدی کردار ہے۔تعلیم کے شعبے میں بھی شہید بھٹو کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے ملک بھر میں تعلیمی اداروں کا جال بچھایا، جامعات اور کالجز قائم کیے اور تعلیم کو عام آدمی کی پہنچ میں لانے کی کوشش کی۔ ان کے نزدیک ترقی کا راستہ تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے، اور صرف ایک تعلیم یافتہ قوم ہی ایک مضبوط ریاست کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔شہید بھٹو نے صنعتوں کی قومیانے، زرعی اصلاحات اور عوام دوست معاشی پالیسیوں کے ذریعے مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کیا۔ ان کی پالیسیوں کا مقصد ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا تھا جہاں امیر اور غریب کے درمیان فرق کم ہو اور ہر شہری کو برابر مواقع حاصل ہوں۔تاہم افسوس کہ ایک عظیم رہنما کو آمریت کے تاریک دور میں ایک متنازع مقدمے کے تحت سزائے موت دے دی گئی۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی جان قربان کر کے جمہوریت کا چراغ روشن کیا۔ ان کی شہادت نے انہیں امر بنا دیا اور وہ ہمیشہ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے آمریت کے خلاف بھرپور جدوجہد کی اور جمہوریت کا پرچم بلند رکھا، چاہے انہیں جلاوطنی اور قید و بند کی صعوبتیں کیوں نہ برداشت کرنی پڑیں۔ وہ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بنیں اور پاکستان کو ایک روشن خیال، معتدل اور ترقی پسند ملک بنانے کی کوشش کی۔شہید بے نظیر بھٹو کی شہادت بھی ایک عظیم سانحہ تھی جس پر پوری قوم سوگوار ہوئی۔ تاہم ان کے بعد صدر آصف علی زرداری نے “پاکستان کھپے” کے نعرے کے ذریعے قوم میں امید پیدا کی۔ انہوں نے مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا اور جمہوری نظام کو مضبوط کیا۔ ان کی قیادت میں آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا گیا اور پارلیمان کو مستحکم کیا گیا۔آج ملک کی قیادت، صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، شہید بھٹو کے نظریے اور وژن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ نوجوان قیادت ایک جدید، ترقی یافتہ اور مساوی پاکستان کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ ان کی سیاست عوامی خدمت، جمہوریت اور انسانی حقوق کے اسی جذبے کی عکاس ہے جو شہید بھٹو کی پہچان تھا۔بلاول بھٹو زرداری پاکستان اور دنیا میں ایک مضبوط آواز بن کر ابھرے ہیں۔ وہ انتہا پسندی، عدم برداشت اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں ہیں جہاں سب کو برابر حقوق حاصل ہوں۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی سیاست اقدار اور عوام کی خدمت کا نام ہے۔ انہوں نے کبھی دباؤ اور خوف کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور ہمیشہ سچ اور انصاف کے علمبردار رہے۔ آج بھی ان کی جدوجہد، قربانی اور وژن ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم شہید بھٹو کے نظریے کی حفاظت کریں گے، جمہوریت کا دفاع کریں گے اور پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ یہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور تمام جمہوریت پسند رہنماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس ملک کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کا مشن کبھی رائیگاں نہیں جائے گا اور ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ پاکستان کھپے… جمہوریت زندہ باد