سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں کسٹم گوداموں سے 25 کروڑ روپے کے سگریٹ چوری ہونے کے معاملے پر تفصیلی بحث کی گئی۔
اجلاس میں ایف بی آر، کسٹم اور ایف آئی اے کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں متعلقہ حکام نے تمام امور کی تفصیل سے وضاحت کی اور چوری شدہ سگریٹس کی تحقیقات کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ ہم 75 سال سے سن رہے ہیں، ملک نازک موڑ پر کھڑا ہے جو ختم ہی نہیں ہو رہا۔
انہوں نے اجلاس میں ایف آئی اے کے رویے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس افسر کو کال کر رکھا ہے، اسے ممبر لیگل لگا دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں سینیٹر نے وزیرِ پیٹرولیم پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ ہمارے پیٹرولیم کے وزیر نے پیٹرول کی قیمت کے بارے میں نہیں بتایا، ہمارے وزیر نے کہا ہم نے ثواب کا کام کیا، اگر انہوں نے ثواب کا کام کیا تو وزیرِ اعظم نے کیا کیا؟
سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے ایف آئی اے سے درخواست کی کہ علی پرویز ملک کے اثاثوں کی بھی جانچ کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر کروڑوں روپے کے اشتہارات دیے گئے، جس پر بھی سوال اٹھایا گیا۔