• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک رات میں ایران کو تباہ کر دیں گے، شاید وہ رات کل ہو سکتی ہے، ٹرمپ

امریکی فوج نے اپنے پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے لیے رسک لیا، ڈونلڈ ٹرمپ - فوٹو: اے ایف پی
امریکی فوج نے اپنے پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے لیے رسک لیا، ڈونلڈ ٹرمپ - فوٹو: اے ایف پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایک رات میں ایران کو تباہ کر دینگے شاید وہ رات کل ہو سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے تاریخ کا اہم آپریشن انجام دیا، ہم نے گذشتہ روز بڑا اہم ریسیکیو مشن سرانجام دیا۔ ہم نے ایران سے پائلٹ کو دن کی روشنی میں نکالا۔

ان کا کہنا تھا کہ منگل کی شب ایف 15 لڑاکا طیارہ ایران میں آپریشن میں شریک تھا، دونوں اہلکاروں نے پیراشوٹ سے چھلانگ لگائی اور بحفاظت ایران میں لینڈنگ کی۔ 

انہوں نے کہا کہ ایک ایئرمین ایران میں جمہ کے روز بچائے گئے پائلٹ سے کافی فاصلے پر اترے تھے۔ امریکی فوجی بری طرح زخمی اور ایک پاسداران انقلاب کے اہلکاروں سے بھرے علاقے میں پھنسے ہوا تھا۔ ایرانی رجیم نے امریکی پائلٹ کو تلاش کرنے کے لیے ایرانیوں کو بڑی لالچ دی۔  

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایک پائلٹ کو واپس لانے کے لیے 200 فوجیوں نے آپریشن کیا، امریکی ایئرمین کے ریسکیو آپریشن میں 21 لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا۔ دوسرے ریسکیو آپریشن میں 155 امریک طیاروں نے حصہ لیا، ان 155 طیاروں میں 4 بمبار طیارے، 64 فائٹر طیارے، 48 ری فیولنگ ٹینکرز اور 13 ریسکیو ایئرکرافٹ شامل تھے۔ ایران میں مشن کے دوران امریکی فوجیوں کو انتہائی قریب سے فائرنگ کا سامنا بھی ہوا۔ 

امریکی صدر نے کہا کہ ایران میں پھنسے فوجی افسر نے اپنی پیشہ وارانہ تربیت پر عمل کیا۔ زخمی فوجی نے دشوار گزار چوٹیوں پر چڑھنا شروع کردیا تاکہ بلندی پر جا سکے۔ ایئرمین نے پہاڑی چٹانوں کو عبور کیا اور اپنے زخموں کا علاج خود کیا۔ ایئرمین نے امریکی افواج سے رابطہ کر کے اپنی لوکیشن بتائی۔ F-15 ویپنز سسٹم افسر 48 گھنٹوں تک ایران کی زمین پر پکڑے جانے سے بچتا رہا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ مہارت اور درستی کے ساتھ امریکی فوج ایئرمین کو بچانے اس علاقے میں اتری، امریکی فوج نے دشمن کا مقابلہ کیا، پھنسے افسر کو بچایا۔ امریکی فوج اہلکار ریسکیو آپریشن کر کے بغیر کسی جانی نقصان کے ایران سے باہر نکلے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران سے نکلتے وقت گیلی ریت اور جہاز کے وزن کی وجہ سے ایک مسئلہ پیدا ہو گیا تھا، جوان واپسی کیلئے جہازوں میں سوار ہوئے وہ جہاز ریت میں بری طرح پھنس گئے تھے۔ ہمارے پاس ایک ہنگامی منصوبہ موجود تھا، ہلکے اور تیز رفتار طیارے وہاں پہنچ گئے۔ ہلکے اور تیز رفتار طیارے فورجی پہنچے تاکہ امریکی فوجیوں اس ایئرمین کو ایران سے نکال سکیں۔ ہم نے ان طیاروں کو خود ہی تباہ کردیا جو ریت میں پھنس گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریت میں پھنسے اپنے دو بڑے طیارے تباہ کیے کیوں کہ اس میں اہم سامان تھا، اپنے دونوں طیارے اس لیے تباہ کیے تاکہ دشمن کے ہاتھ نہ لگیں اور وہ انہیں جانچ نہ سکیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایک اہلکار کو بچانے کیلئے ہمارے سو سے زائد اہلکاروں کی جانیں جاسکتی تھیں، 21 جہازوں کو علاقے میں بھیجا گیا، ان پر فائرنگ کی گئی۔ امریکی ہیلی کاپٹر پر کئی گولیاں لگیں۔ فلائیٹ عملے نے جانوں کو خطرے میں ڈال کر ایف-15 کے اہلکاروں کو ریسکیو کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عملے کا دوسرا اہلکار جو کرنل تھا، اس نے بھی بحفاظت لینڈنگ کی تھی اور زخمی ہوا تھا۔ اہلکار نے اپنے زخموں کا خود علاج کیا اور اپنی موجودگی کا سگنل بھیجا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسرے مشن کیلئے 150 طیارے بشمول 4 بمبار، 64 فائٹرز، 48 ری فیولنگ ٹینکرز بھیجے۔ 9 طیارے اس چھوٹے سے حصے کے اوپر اڑ رہے تھے۔ امریکا کے دوسرے پائلٹ کو بچانے کی کارروائی بہت تاریخی ہے، ہزاروں لوگوں کی نظریں امریکی ریسکیو مشن پر تھیں۔ امریکی اہلکاروں نے دشمن کو انگیج کیا، بغیر کسی جانی نقصان کے ریسکیو کیا، 48 گھنٹے میں اہلکار کو ریسکیو کرلیا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں نے امریکی فوج کو آپریشن کرنے کا حکم دیا تھا، پائلٹ کی تلاش کے لیے ہمارے طیارے ایران کے اندر تک گئے۔ ہماری فوج نے اہم ریسکیو آپریشن کامیابی سے مکمل کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے اپنے پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے لیے رسک لیا، آپریشن بہت خوب تھا ریسکیو آپریشن میں کوئی اہلکار تک زخمی نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گذشتہ روز کے مشن میں ہیلی کاپٹرز بھی استعمال کیے، جدید امریکی ہیلی کاپٹروں کی کارکردگی نہایت شاندار رہی۔ بطور کمانڈر ان چیف میں اپنے فوجیوں کی کل کی شاندار کارکردگی کبھی نہیں بھول سکتا۔

امریکی صدر نے کہا کہ پائلٹ ریسکیو کرنے کے تاریخی آپریشن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ہمارے پاس بہت ذہین اور باصلاحیت لوگ موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رن وے نہ تھا، لینڈنگ کی جگہ نہیں تھی، زرا سا ٹکڑا وہ بھی گیلا، پھر بھی ریسکیو کیا، 15 منٹ میں ایک طیارہ آیا گیا، دوسرا طیارہ آیا گیا، تیسرا آیا گیا، ہم پورے ریسکیو عمل کو دیکھ رہے تھے۔ اہلکار کو وینزویلا کے صدر کو کمپاونڈ سے نکالنے والے اہلکاروں جیسے عملے نے ریسکیو کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانیوں کو پتہ نہیں تھا کہ کوئی اہلکار لاپتہ ہے، ہم نے ایک اہلکار ریسکیو کرلیا تھا، دوسرے کو ریسکیو کرنا تھا جب راز افشا کیا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ ایران کے خلاف امریکا کی جنگ اچھی طرح سے جاری ہے۔

’راز افشا کرنیوالے کو جیل ہونی چاہیے‘

امریکی صدر نے کہا کہ ایران ریسکیو مشن کی خبر لیک کرنے والے بندے کا نام میڈیا اداروں سے پوچھوں گا۔ قومی سلامتی کے تناظر میں اس شخص کو جیل ہونی چاہیے جس نے خبر لیک کی۔

ان کا کہنا تھا کہ راز افشا کرنیوالے نے سیکڑوں اہلکاروں کی زندگیاں خطرے میں ڈالیں۔ کسی نے ریسکیو سے متعلق معلومات ظاہر کیں، ہم اس کا پتہ لگالیں گے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں 30 دن کے دوران 10 ہزار سے زائد جنگی پروازیں کی گئیں۔ 

’ایرانی عوام کو حکومت کیخلاف دوبارہ کھڑا ہونا چاہیے‘

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران میں رجیم تبدیل کر دی ہے۔ جنگ بندی ہوجائے تو ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف دوبارہ کھڑا ہونا چاہیے۔

’ایران نے کندھے سے داغے جانے والے میزائل سے طیارہ گرایا‘

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں کندھے سے داغے جانے والے میزائل نے امریکی جنگی طیارہ مار گرایا، ایرانی میزائل نے امریکی ایئر فورس کا ایف-15 ای طیارہ تباہ کیا۔

’اوباما نے ایران کو اسرائیل پر ترجیح دی‘

سابق صدر باراک اوباما کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اوباما نے ایران جوہری سے معاہدہ کیا، اوباما نے ایران کو اسرائیل پر ترجیح دی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے نہ روکتے تو آج اسرائیل ختم ہوچکا ہوتا۔ جب میں نے ایران جوہری معاہدہ ختم کیا تو سب نے تنقید کی، میں نے معاہدہ ختم کیا کیونکہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کر رہا تھا۔

’آبنائے ہرمز نہیں کھولا گیا تو ایرانی پاور پلانٹ پر حملے کریں گے‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ بندی مذاکرات کے لیے فعال اور بات چیت پر آمادہ شرکا موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا خیال ہے کہ ایران اچھی نیت سے بات چیت کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھل جانا بڑی ترجیح ہے۔ بدھ تک آبنائے ہرمز نہیں کھولا گیا تو ایرانی پاور پلانٹ پر حملے کرینگے۔ امید ہے بجلی گھروں اور پلوں پر بمباری نہ کرنی پڑے۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں نئے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں، وہ زیادہ عقلمند ہیں۔ ایران کے ساتھ مذاکرات ٹھیک چل رہے ہیں۔ ایران کے لیے کل تک کی ڈیڈ لائن ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران اب ویسا نہیں جیسا کہ برسوں پہلا تھا۔ کل 8 بجے کے بعد پل، انفرااسٹرکچر، پاور پلانٹس نہیں بچیں گے۔ ایران کو پتھر کے دور میں لے کر جاؤنگا۔

ایران سے مذاکرات میں کچھ بہترین ممالک ثالثی کر رہے ہیں۔ میں نیٹو سے بہت مایوس ہوں۔

’وزیراعظم پاکستان نے کہا میں نے لاکھوں جانیں بچائیں‘

پریس کانفرنس کے دوران ایک مرتبہ پھر امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 کی جنگ رکوانے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان بھارت سمیت 8 جنگیں رکوائی ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ میں نے لاکھوں جانیں بچائیں۔

ایران سے مذاکرات میں کچھ بہترین ممالک ثالثی کر رہے ہیں۔ کچھ ممالک جو جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں وہ ہماری مدد کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کی ہٹ دھرمی، ایرانیوں کو گالی دینے کا دفاع

پریس کانفرنس کے دوران جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ آپ نے کل اپنی پوسٹ میں ایرانیوں کو گالی دی؟ جس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ جی میں نے بالکل کہا تھا، جو کہا اس پر کوئی شرمندگی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گالیوں پر ناقدین جو بھی کہہ رہے ہیں مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے۔

ایرانی اب تک حیران ہیں کہ امریکا نے ایسا کیسے کر لیا؟: امریکی وزیر جنگ

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ ایران میں ریسکیو آپریشن معمولی نہیں بہت خطرے والا تھا۔ ایرانی اب تک حیران ہیں کہ امریکا نے ایسا کیسے کر لیا؟

انہوں نے کہا کہ ریسکیو مشن میں ہمارا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ 

امریکی وزیر جنگ کا کہنا تھا کہ ایران پر آج بھی بڑی تعداد میں حملے ہوں گے اور منگل کو اس سے زیادہ ہوں گے۔

اپنا پائلٹ واپس لانے کیلئے ڈرونز اور ٹیکٹیکل طیارے استعمال کیے: امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف

امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ ایران کی صبح چار بجے کے بعد ہم نے اپنا پہلا ریسکیو آپریشن کیا، یہ ایک خطرناک آپریشن تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنے پائلٹ کو واپس لانے کے لیے ڈرونز اور ٹیکٹیکل طیارے استعمال کیے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید