اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز سے متعلق قرار داد پر ووٹنگ آج متوقع ہے۔
نئے مسودے میں بھی ایران سے جہازوں پر حملے روکنے اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش سے بعض رہنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
نئے مسودے سے طاقت کا استعال نکال دیا گیا ہے، نئی قرار داد پر ووٹنگ پاکستانی وقت کے مطابق آج رات 8 بجے متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکا اپنے تمام تر دعوؤں اور دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز سے ایران کا کنٹرو ل ختم کروانے میں ناکام نظر آرہا ہے، جس کی بندش سے بحری ٹریفک شدید متاثر ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے لیے روایتی بحری بیڑے پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ ملٹی لیئر ڈیفنس اسٹریٹیجی کا استعمال کرتا ہے، جس میں اس کے ساحلوں پر موجود موبائل میزائل بیٹریز، چھوٹی اسپیڈ بوٹس، سمندری بارودی سرنگیں اور خودکش ڈرون شامل ہیں، جو فضا سے بحری جہازوں کو ٹریک کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر حملہ کر دیتے ہیں۔