کراچی (نیوز ڈیسک)آسام میں "مقامی مسلمان" کی نئی سیاست، بی جے پی کی نفرت انگیز حکمت عملی ،بنگالی نژادمسلمانوں کو الگ کرنے کی پالیسی، بی جے پی نے 40لاکھ مقامی مسلمانوں سے رابطہ کرلیا،انتخابات سے قبل ووٹ بینک بنانیکی کوشش، مقامی مسلمان بھی حکومتی اقدامات سے شکوک کا شکارہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی ریاست آسام میں انتخابات سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی نے تقریباً 40 لاکھ "مقامی مسلمانوں" سے رابطہ بڑھانے کی کوشش شروع کر دی ہے، تاہم متعدد مسلمان اس حکمت عملی پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔ دارالحکومت گوہاٹی کے علاقے بونگورا میں حکومتی کارروائی کے دوران درجنوں بلڈوزرز نے سینکڑوں گھروں کو مسمار کر دیا جس سے تقریباً 400 خاندان بے گھر ہو گئے، جن میں خود کو مقامی مسلمان کہنے والے بھی شامل تھے۔