• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی عدالت کا ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کیخلاف بڑا فیصلہ

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت زیادہ تر تارکینِ وطن کو بغیر ضمانت کے حراست میں رکھا جا رہا تھا۔

عرب میڈیا کے مطابق نیویارک میں قائم عدالت نے 3-0 کے متفقہ فیصلے میں کہا ہے کہ حکومت نے 1996ء کے امیگریشن قانون کی غلط تشریح کر کے اس پالیسی کو نافذ کیا۔

عدالت کے جج جوزف بیانکو نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ حکومت کی غلط تشریح سے امیگریشن نظام پر شدید دباؤ پڑا، خاندان الگ ہوئے اور معاشرتی مسائل بڑھے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ یہ پالیسی قانون کے مطابق ہے لیکن عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون کی روح، تاریخ اور مقصد کے خلاف ہے۔

اس پالیسی کے تحت امریکی حکومت نے ملک میں پہلے سے مقیم غیر ملکیوں کو بھی ’داخلے کے درخواست گزار‘ قرار دے کر انہیں حراست میں رکھنا شروع کر دیا تھا جس سے انہیں ضمانت کا حق نہیں ملتا تھا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ ماضی میں ایسے افراد، خاص طور پر جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہوتا انہیں ضمانت کا موقع دیا جاتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے کے بعد لاکھوں افراد کو ریلیف مل سکتا ہے تاہم مختلف عدالتوں کے متضاد فیصلوں کے باعث اب یہ معاملہ سپریم کورٹ تک جانے کا امکان ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید