• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر نعمان نعیم

ارشادِ ربّانی ہے: جو کوئی کسی کو قتل کرے، جب کہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لیے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اورجو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ (سورۃالمائدہ:32)

امن کے لفظی معنی ہیں چین، اطمینان، سکون وآرام نیز صلح، آشتی وفلاح کے۔ اسی طرح امن بجائے خود لفظ اسلام میں داخل ہے، جس کے معنی ہیں دائمی امن وسکون اورلازوال سلامتی کا مذہب۔ اسلام میں امن کا اتنا واضح تصور موجود ہے کہ دیگر ادیانِ عالم ان کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

رحم، خیرخواہی اور امن پسندی اسلام کے بنیادی عناصر ہیں، اسلام میں پہلے سلام پھر کلام کی ترغیب آئی ہے۔ السلام علیکم کے صرف یہ معنی نہیں ہیں کہ تم پر سلامتی ہو، بلکہ یہ اس مفہوم پر بھی محیط ہے کہ تم میری طرف سے محفوظ و مامون ہو۔ اسلام میں ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے، جس میں اللہ کے دو صفاتی نام یعنی رحمن ورحیم بھی شامل ہیں، یعنی بڑامہربان نہایت رحم والا ہے۔

اس طرح بندوں کے کیرکٹر پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عملی طور پر ایک مسلمان کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ معاشرے میں امن وسلامتی کا پیغامبر بنے نہ کہ تشدد، نا انصافی اور ظلم و زیادتی کاسفیر۔ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مہربانوں پر خدائے مہربان رحم کرتا ہے۔ روایت ہے کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا“۔ (مشکوٰۃ ۲/۴۲۵)

اسلام نے پہلی بار دنیا کو امن ومحبت کا باقاعدہ درس دیا اور اس کے سامنے ایک پائیدار ضابطہٴ اخلاق پیش کیا، جس کا نام ہی ”اسلام“ رکھا گیا یعنی دائمی امن وسکون اور لازوال سلامتی کا مذہب۔ یہ امتیاز دنیا کے کسی مذہب کو حاصل نہیں۔

اسلام نے مضبوط بنیادوں پر امن وسکون کے ایک نئے باب کا آغاز کیا اور پوری علمی واخلاقی قوت اور فکری بلندی کے ساتھ اسے وسعت دینے کی کوشش کی۔ آج دنیا میں امن وامان کا جو رجحان پایا جاتا ہے اور ہر طبقہ اپنے اپنے طور پر کسی گہوراہٴ سکون کی تلاش میں ہے، یہ بڑی حد تک اسلامی تعلیمات کی دین ہے۔

اسلام ظلم کوکسی حالت میں اور کسی بھی نام اور عنوان سے برداشت نہیں کرتا۔ وہ اپنے پیروکاروں کو جان، مال ومذہب، عقیدہ، وطن، مذہبی مقدسات، شعائر دین، مساجد ومعابد وغیرہ کی حفاظت، ان کے دفاع اور کسی بھی طرح کی تعدی سے ان کے بچاؤ کی تدبیر کرنے کا ناگزیر حکم دیتا ہے اور ان ساری سازشوں کو ناکام بنادینے کا انہیں پابند بناتا ہے جو خود ان کے خلاف کی جائیں یا انسانیت کے خلاف رُوبہ عمل لائی جائیں۔

اسلام میں ظلم کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا، بلکہ اس کے برعکس یہ کہنا زیادہ موزوں ہوگا کہ اسلام دنیا میں آ یا ہی ہے ظلم کے استیصال کے لیے، اس کی بیخ کنی کے لیے، خواہ وہ کسی بھی سطح پر موجود ہو۔ حدیث میں ہے: ’’جس نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی، اللہ کو تکلیف پہنچائی‘‘۔ ظاہر ہے اللہ کی ناراضی کوئی مومن گوارہ نہیں کرسکتا۔ حدیث بالا میں کسی مذہب وملّت کی قید نہیں ہے۔ بلکہ اس کا دائرہ ساری انسانیت پر محیط ہے۔

یہ واحد مذہب ہے جس کی تعلیمات میں امن وسلامتی کا عنصر زیادہ ہے، وہ تمام معاملات میں ان پہلوؤں کو اختیار کرنے پر زور زیادہ دیتا ہے جن میں نہ خود کوئی زحمت اٹھانی پڑے اور نہ دوسروں کو کوئی تکلیف ہو، اللہ تعالیٰ نے مومنین کا یہ وصف بیان کیا ہے وہ تسامح اور صلح جوئی کو ترجیح دیتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جبکہ فریق ثانی سے زیادتی اور جھگڑے کا اندیشہ ہو۔

”لاضرر ولاضرار“ اسلام کا وہ لائحۂ عمل ہے، جس کی روشنی میں ممکنہ حد تک قوت اور اثرات کے ذریعہ مظلوم کی دستگیری کی جائے اور ظالم کو ظلم سے روک دیا جائے۔ مظلوم کی حمایت میں حسب ذیل حدیث میں کسی قدر واضح ہدایت موجود ہے: آپ ﷺنے فرمایا کہ جو شخص کسی مصیبت زدہ کی مدد کرے، اللہ تعالیٰ تہتردرجہ مغفرت کا انتظام فرماتا ہے، جن میں سے صرف ایک مغفرت اس کے تمام معاملات سدھارنے کے لیے کافی ہے۔ مابقیہ ۷۲ مغفرتیں اس کے لیے آخرت میں رفع درجات کا ذریعہ بنیں گی۔

حضرت جریر بن عبداللہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا، وہ لوگ اللہ کی رحمت سے خصوصی طور سے محروم رہیں گے، جن کے دلوں میں دوسروں کے لیے رحم نہیں اور جو دوسروں پر ترس نہیں کھاتے۔ (بخاری:۲/۸۸۹) اس حدیث میں الناس کا لفظ عام ہے جو مومن و کافر اور متقی وفاجر سب کو شامل ہے اور بلاشبہ رحم سب کا حق ہے۔

اسلام نے اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر احسان کو ترجیح دی ہے: ”خلق خدا اللہ کی عیال کے مانند ہیں، لہٰذا اللہ کی نظر میں سب سے پسندیدہ وہ شخص ہے، جو اللہ کی مخلوق پر احسان کرنے والا ہو۔ نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے: جس نے کسی گوریا یا اس سے بھی چھوٹی چڑیا کو ناحق قتل کیا تو اس سے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ بازپُرس کریں گے۔

رحمت دراصل اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے اور رحمن ورحیم اس کے خاص نام ہیں اور جن بندوں میں اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا جتنا عکس ہے، وہ اتنے ہی مبارک اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اتنے ہی مستحق ہیں اور جو جس قدر بے رحم ہیں، وہ اللہ کی رحمت سے اسی قدر محروم رہنے والے ہیں۔

جس طرح سورۂ فاتحہ کی شروعات ہی رحمتِ عالم کے اعلان کے ساتھ ہوتی ہے، یعنی (سب تعریفیں اس پروردگار کے لیے ہیں جو سارے جہان کا پالنہار ہے، مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے) اس آیت میں اللہ کو ربّ العالمین کہاگیا ہے، صرف ربّ المسلمین نہیں۔ جس سے اسلام کے فیض عمومی کا اندازہ بلاتکلف لگایا جاسکتا ہے۔

قرآن نے نہ صرف رب کائنات کو بلکہ پیغمبر آخرالزّماںﷺ کی تخصیص وتحدید بھی صرف مسلمانوں کے لیے نہیں کی، بلکہ اس کا دائرہ سارے عالم کے لیے وسیع کرتے ہوئے فرمایا: ہم نے آپﷺ کو سارے عالم کے لیے رحمت ہی بناکر بھیجا ہے۔چونکہ اللہ ربّ العزت کی ذات رحمن ورحیم ہے اور پیغمبر آخرالزماں رحمۃ للعالمین ﷺ لہٰذا دونوں کی انتہائے رحمت کے نتیجے میں اسلامی تعلیمات محبت وشفقت، رحمت ورافت کا سرچشمہ بن گئیں۔

اسلامی تعلیمات پوری کائنات کے لیے امن وسلامتی، اتحاد واتفاق، احترام آدمیت، ہمدردی وغم خواری، وحدت ومساوات، رحم وکرم، عفو ودرگزر، صلح وآشتی، عدل وانصاف، سکون واطمینان اور پُرامن بقائے باہم لامنتاہی ثابت ہوئیں۔ مذکورہ خوبیاں جن سے اسلام متصف ہے، دراصل امن کے لیے خمیر کی حیثیت رکھتی ہیں، جن سے صرف نظر کرکے امن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

اسلام کی انہیں گوناگوں خوبیوں نے اسے مشرق تا مغرب اور شمال تا جنوب بلااکراہ پھیلادیا، جس میں جورو تعدی یا شمشیروسنان کا قطعاً کوئی دخل نہیں۔ جن لوگوں نے تاریخ اسلام کا معروضی مطالعہ کیا ہے اور معاندانہ کے بجائے منصفانہ ذہن ودماغ کے حامل ہیں، انہیں اس کا دل سے اعتراف ہے کہ اسلام اپنی مذکورہ بالا خوبیوں کے سبب ہی دنیا میں پھیلا اور آج بھی تمام تر مخالفتوں کے باوجود اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جارہا ہے۔

جس کا برملا اظہار مستشرقین نے بھی بار بار کیاہے۔عفوودرگزر قیام امن کے لیے کس قدر ناگزیر ہے، یہ کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ سرزمین عرب پر خاص طور سے قتال وجدال کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اس وقت رکا جب آفتاب رسالت ﷺ طلوع ہوا ورنہ بدلے لینے کی روش برقرار رہتی تھی، لیکن سرکار دوعالم ﷺنے اسے آئندہ کے لیے ختم کردیا اور اولیں قربانی خود پیش کی اور اپنے خاندان پر ہونے والے مظالم کو فراموش کردیا اور ان کے اوپر بیک جنبش قلم خطِّ عفو کھینچ دیا۔ آنحضرت ﷺ نے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔

انسان کے ذخیرہٴ اخلاق میں سب سے کم یاب، نادرالوجود چیز دشمنوں پر رحم اور ان سے عفوودرگزر ہے، لیکن حاملِ وحی ونبوت کی ذات اقدس میں یہ جنس فراواں تھی۔ دشمن سے انتقام لینا انسان کا قانونی فرض ہے، لیکن اخلاق کے دائرئہ شریعت میں آکر یہ فرضیت مکروہ تحریمی بن جاتی ہے۔ تمام روایتیں اس بات پر متفق ہیں کہ آپ ﷺنے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔

دشمنوں سے انتقام کا سب سے بڑا موقع فتح مکہ کا دن تھا جب کہ وہ کینہ خو سامنے آئے جو آں حضرت ﷺکے خون کے پیاسے تھے اور جن کے دستِ ستم سے آپ ﷺنے طرح طرح کی اذیتیں اٹھائی تھیں، لیکن ان سب کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا: ’’تم پر کوئی ملامت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو‘‘۔ آپﷺ نے تو عرب جنگجو قوم کو اس فضا سے نکال کرامن اور بھائی چارے کا درس دیا۔ قیام امن میں رواداری، حسن سلوک اور حقوق کی پاسبانی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس امر کے وضاحت کی ضرورت نہیں کہ ان تینوں بنیادی امور کے محاذ پر بھی اسلام سب سے اعلیٰ وارفع منہاج فراہم کرتا ہے۔ اسلام بلاشبہ نہ صرف اپنوں بلکہ دوسروں کے لیے بھی رحیم وشفیق بننے کی ہدایت کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: تم دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرو جیسا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھلائی کرتاہے۔ اسلام راواداری، محبت، شائستگی، شرافت اور معقولیت کی تعلیم ضرور دیتا ہے، لیکن ایسی عاجزی اور مسکینی کی بھی تعلیم نہیں دیتا کہ اس کے پیروہر ظالم کے لیے نرم چارہ بن کر رہ جائیں۔

اسلام دین رحمت ہے،اس کا دامن محبت ساری انسانیت کو محیط ہے، اسلام نے اپنے پیروکاروں کو سخت تاکید کی ہے کہ وہ دیگر اقوام اور اہل مذاہب کے ساتھ مساوات، ہمدردی، غمخواری ورواداری کا معاملہ کریں اور اسلامی نظام حکومت میں ان کے ساتھ کسی طرح کی زیادتی اور امتیاز کا معاملہ نہ کیا جائے۔ 

ان کی جان ومال عزت وآبرو، اموال اور جائیداد اورانسانی حقوق کی حفاظت کی جائے۔ ارشاد ربانی ہے: اللہ تم کو منع نہیں کرتا ان لوگوں سے جو لڑے نہیں دین کے سلسلے میں اور نکالا نہیں تم کو تمہارے گھروں سے کہ ان کے ساتھ کرو بھلائی اور انصاف کا سلوک، بےشک اللہ چاہتا ہے انصاف والوں کو‘‘۔اسلام اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ بے ضرر کافروں سے بغض وعداوت رکھی جائے، یہ فعل اسلام کی نظر میں غیرمطلوب اور انتہائی ناپسندیدہ ہے۔

مسلمانوں ہی کے ذریعہ آج پھر اس دنیا میں امن وامان پیدا ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام حسن اخلاق اور اپنے ہمہ گیر نظام امن سے دنیا کو پھر امن سے بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور امیر، غریب، کمزور اور قوی کو اپنا گرویدہ بنانے کی خصوصیت رکھتا ہے۔

اِسلام کے اِس روشن پہلو سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو رُوشناس کروایا جائے، تاکہ ایک طرف مسلمانوں کے دلوں میں وسعت پیدا کی جائے تو دوسری طرف وہ لوگ جو اِسلام کو دہشت گردی اور اِنتہا پسندی سے منسوب کرتے ہیں اُن کی اس غلط فہمی کو دور کیا جا سکے۔

اقراء سے مزید