آج ہم بات کریں گے عالمی معاشی جنگ کے ایک نئے محاذ کی ۔ یادش بخیر!29مارچ 2026ء کو پاکستان کے ساحل پر ایک ایسی دستک ہوئی جس نے دہلی، تل ابیب اور خلیج کے ایوانوں میں صفِ ماتم بچھا دی۔لوگ کہتے تھے گوادر ایک بنجر خواب ہے، لیکن M/V HMO LEADER نامی جہاز کی لنگر اندازی نے ثابت کر دیا کہ یہ خواب اب حقیقت بن کر دشمنوں کا دم گھونٹ رہا ہے۔ یہ جہاز صرف کارگو لے کر نہیں آیا، بلکہ یہ ان طاقتوں کیلئے پیغامِ موت ہے جو گوادر کو دفن کرنے کی قسم کھا چکی تھیں۔آئیے دیکھتے ہیں کہ گوادر کے اعداد و شمار کیوں دنیا کو ہضم نہیں ہو رہے۔ یہ صرف بندرگاہ نہیں، یہ ایک دیو ہے۔
گوادر بندرگاہ پاکستان گہرائی 14سے 18 میٹر۔صلاحیت فی الحال 12 لاکھ کنٹینر، لیکن مستقبل کا ہدف 40کروڑ ٹن سامان یعنی سالانہ 2 کروڑ کنٹینرز ہے۔اہمیت: یہ سی پیک (CPEC) کا دل ہے اور اپنی گہرائی کی وجہ سے دنیا کے بڑے جہازوں کیلئے بہترین ہے۔
چاہ بہار بندرگاہ ایران گہرائی16میٹر۔ صلاحیت:ابھی 25 لاکھ ٹن یعنی 1 لاکھ 25 ہزار کنٹینرز، جسے زیادہ سے زیادہ 85لاکھ ٹن تک لے جایا جا سکتا ہے۔اہمیت:بھارت نے اسے گوادر کے مقابلے میں متبادل کے طور پر تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔جبل علی بندرگاہ متحدہ عرب امارات گہرائی 17میٹر۔صلاحیت:تقریباً 1 کروڑ 93 لاکھ کنٹینر ۔اہمیت: یہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی سب سے فعال اور بڑی بندرگاہ ہے۔
نوا شیوا / JNPT بھارت گہرائی15میٹر۔ صلاحیت55 لاکھ کنٹینر۔ اہمیت:یہ بھارت کی سب سے بڑی اور اہم ترین کنٹینر بندرگاہ ہے۔
صلالہ بندر گاہ عمان گہرائی18 میٹر۔ صلاحیت50لاکھ کنٹینر۔ اہمیت: بحیرہ عرب میں تجارت اور جہازوں کی آمد و رفت کا ایک بڑا مرکز ہے۔
گوادر اپنی گہرائی اور مستقبل کی گنجائش (40 کروڑ ٹن سالانہ 2 کروڑ کنٹینرز،کے لحاظ سے تمام بندرگاہوں کو پیچھے چھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ عالمی سیاست کا مرکز بنی ہوئی ہے۔آخر یہ ممالک کیوں متحد ہیں؟دبئی کی معیشت کا 30فیصد حصہ جبل علی پورٹ پر منحصر ہے۔ گوادر کے فعال ہونے کا مطلب ہے کہ جہازوں کو اب آبنائے ہرمز کے خطرناک راستے میں جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ دبئی کے معاشی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔
بھارت نے چاہ بہار پر جوا کھیلا تھا تاکہ پاکستان کو بائی پاس کر سکے۔ لیکن گوادر کی گہرائی اور سی پیک کے انفراسٹرکچر نے چاہ بہار کو ایک مقامی بندرگاہ تک محدود کر دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل جس مڈل ایسٹ اکنامک کوریڈور (IMEC) کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، گوادر اس کے سینے پر مونگ دل رہا ہے کیونکہ یہ چین کے ساتھ مل کر دنیا کا سب سے محفوظ تجارتی راستہ بن رہا ہے۔
بھارت نے ایران کی سرزمین کو گوادر کے خلاف پروپیگنڈا اور جاسوسی کیلئے استعمال کیا۔افغانستان میں بیٹھے دہشت گرد گروہوں کو فنڈنگ فراہم کی جاتی ہے تاکہ پاکستان کی مغربی سرحدوں پر آگ لگی رہے اور سی پیک کا روٹ غیر محفوظ قرار دیا جائے۔ جب باہر سے بس نہیں چلا، تو گھر کے اندر آگ لگائی گئی۔ علیحدگی پسندوں کو ڈالر اور اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے تاکہ وہ چینی انجینئرز کو نشانہ بنائیں۔مقامی ماہی گیروں کو جھوٹے خواب دکھائے گئے کہ ان کا سمندر چھین لیا جائے گا، جبکہ حقیقت میں گوادر ان کیلئے60بلین ڈالر کی معیشت کا دروازہ ہے۔ گوادر اب محض ایک پروجیکٹ نہیں، پاکستان کی شہ رگ ہے۔ 23مارچ 2026ءکو آنے والا جہاز صرف آغاز ہے۔ آنے والے دنوں میں گوادر کی یہ لہریں دبئی اور ممبئی کے ساحلوں پر خاموشی طاری کر دیں گی۔
وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری کا کہنا ہے کہ یہ Blue Economy کا انقلاب ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان ان عالمی سازشیوںکا مقابلہ کر پائے گا؟ بہر حال پاکستان کا مستقبل ہر اعتبار سے روشن ہے۔ہمیں اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کرنا اور انتھک محنت کرنی چاہئے۔