• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارے علماء اور مولوی بظاہر بہت خشک مزاج دکھائی دیتے ہیں۔ لگتا ہے جیسے ان کا خوش طبعی اور خوش مذاقی سے دور کا بھی تعلق نہیں، لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ میں یہاں واضح کردوں کہ مولوی اور مولانا میں بہت فرق ہوتا ہے۔ مولوی نے بس درسِ نظامی پڑھا ہوتا ہے اور کسی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتا ہے۔ مولانا کا علم بہت وسیع ہوتا ہے، انکے ماننے والے ان کی تعظیم کرنیوالے، انہیں جلسوں میں بلانے والے، ان کی بھاری فیس ادا کرنے والے ہمارے ہاں بہت لوگ ہیں کہ انھوں نے اپنے اسی حضرت کی انگلی پکڑ کر جنت میں جانا ہوتا ہے۔ مولوی اور مولانا کے ذکر سے یاد آیا کہ ایک مولوی جمعہ کا خطبہ دے رہا تھا اور کہہ رہا تھا بد نصیبو! تم میری قدر نہیں کرتے ، جب جنت اور دوزخ میں جانے والوں کی لسٹ بن رہی ہوگی تم مجھے سفارش کیلئے ڈھونڈو گے ۔ کسی فرشتے سے پوچھو گے کہ مولوی اللہ بخش کہاں ہے؟ وہ ایک طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہے گا وہ سامنے جو جو کھجی (کھجور ) کا درخت ہے اس کے نیچے مولوی اللہ بخش بیٹھا حوروں سے گپ شپ وغیرہ کر رہا ہے۔ لفظ وغیرہ اس نے خاصا زور دے کر ادا کیا اور یہ جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے دینی رہنماؤں کا ادب و ثقافت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تو یہ بھی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ماضی میں بہت سے علماء باقاعدہ شاعر بھی رہے ہیں۔ کسی شادی بیاہ کی محفل میں گانا بجانا ہو رہا ہو تو وہ محفل چھوڑ کر نہیں چلے جاتے ، بہت انہماک سے ہرقسم کا گانا سن رہے ہوتے ہیں بلکہ اس محفل سے سب سے آخر میں اٹھ کر جاتے ہیں۔ ایک بہت بڑے دینی مدرسے کے مہتمم ستار بہت اچھا بجاتے تھے۔ ایک جید عالم دین مولانا ابو بکر غزنوی موسیقی کا بہت عمدہ ذوق رکھتے تھے۔ مولانا جعفر شاہ پھلواروی نے ” اسلام اور موسیقی“ کے عنوان سے ایک بہت وقیع تحقیقی کتاب لکھی جس میں انھوں نے بتایا کہ اسلام موسیقی کے نہ صرف خلاف نہیں ہے بلکہ اس دور کی بہت جید ہستیاں گانا سنا کرتی تھیں ۔ اس کتاب کے خلاف شور و غوغا تو بہت اٹھا مگر اس کا کوئی مدلل جواب میری نظروں سے نہیں گزرا۔ جہاں تک خوش مزاجی اور لطیفہ گوئی کا معاملہ ہے، میں کسی زمانے میں علما کی صحبت میں رہا ہوں ۔ مجھ میں طنز و مزاح کا رجحان انھی محفلوں میں پروان چڑھا۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی حسِ مزاح لا جواب تھی ، شستہ اور پاکیزہ ۔ ان کی تو خیر بات ہی دوسری ہے، ایک علامہ حسن میر ہوا کرتے تھے، سرسید کی طرح لمبی داڑھی ، حضرت تو علمی مذاق بھی فرماتے تھے۔ ایک دفعہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں صوفی محمد اسلم مرحوم کے گھر ایک بزرگ مولانا رائے پوری قیام پذیر تھے، وہ اس وقت بہت ضعیف تھے، چنانچہ نمازوں کے دوران امامت کرانے والے صاحب کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کم سے کم وقت میں یہ فریضہ انجام دیں۔ ایک دن علامہ حسن میر کاشمیری بھی حضرت رائے پوری کی زیارت کیلئے وہاں موجود تھے۔ نماز کا وقت آیا تو ادائیگی کے فوراً بعد علامہ صاحب امام کے پاس گئے ، ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا، ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کہا ” حضرت ! بڑے بڑے علما کے پیچھے نماز ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے مگر حضوری کی جو کیفیت آپ کی امامت میں محسوس ہوئی میں ساری عمر اس سے محروم رہا تھا‘‘۔ امام صاحب نے حیران ہو کر کہا ” حضرت یہ آپ کیا فرما رہے ہیں، میں تو ایک گنہگار انسان ہوں‘‘ ۔ اس پر علامہ نے فرمایا ” جناب آپ نے جس اسپیڈ سے نماز پڑھائی ہے، ماشاء اللہ ماشاء اللہ ! میں ابھی رکوع میں تھا ، آپ سجدے میں تھے، میں سجدے میں تھا آپ قیام کر چکے تھے، میں قیام کی سوچ رہا تھا ، آپ رکوع میں جا چکے تھے۔ حضرت ! اس دوڑ بھاگ میں پہلی دفعہ دورانِ نماز دھیان شیطان کی طرف جاہی نہیں سکا۔ میں ابھی تک حضوری کی اس کیفیت سے سرشار ہوں‘‘۔ علامہ حسن میر کاشمیری طنز و مزاح کے زبردست شاعر بھی تھے، مگر ان کے اشعار حلوہ، کباب، پلاؤ یعنی کھابہ گیری کے موضوعات پر ہی ہوتے تھے۔ ان کا ایک مذاق یہ بھی مشہور تھا کہ جید علماء کو اپنے گھر کھانے پر بلایا اور باہر سے تالا لگا کر لاہور آگئے ۔ یہ تذکرہ بہت طویل ہے، اسے یہیں پر ختم کرتا ہوں ۔ امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری فارسی کے شاعر تھے اور علماء کے علاوہ ان کے دوستوں میں صف اول کے شاعر بھی تھے، جن میں ساحر لدھیانوی بھی تھے۔انھوں نے اپنی یہ غزل:

ملیں اسی لیے ریشم کے ڈھیر بنتی ہیں

کہ دختران وطن تار تار کو ترسیں

سنائی تو عطاء اللہ شاہ بخاری نے اس میں فی البدیہہ ایک شعر کا اضافہ کیا اور ساحر لدھیانوی کو پیش کر دیا۔ یہ شعر ساحر کی غزل میں شامل ہے۔

آخر میں مولانا ابوالکلام آزاد کی خوش بیانی بزبان عبد المجید سالک’’مولانا ابوالکلام آزاد کوئی علمی بات بھی کریں گے تو اس کو اپنی خوش بیانی سے اتنا دلکش بنادیں گے کہ عمر بھر بھلائی نہ جا سکے۔ پاکستان کے قیام سے پہلے ایک دن سید احمد شاہ بخاری کے ہاں کھانے پر آئے۔ مسلمانوں میں روح عمل کے فقدان پر بات ہو رہی تھی۔ فرمایا کہ تصوف کی کتابیں اور اولیاء کے تذکرے پڑھو تو اس قسم کے واقعات اکثر نظر آئیں گے کہ ایک بزرگ محفل سماع میں بیٹھے تھے، مطرب نے شعر پڑھا۔

کشتگانِ خنجر تسلیم را

ہر زمان از غیب جانے دیگرست

حضرت نے سن کر نعرہ مارا اور بے ہوش ہو گئے ۔ حضرت بایزید بسطامی بازار میں جا رہے تھے ، شام کا وقت تھا، ایک امرود فروش کی ٹوکری میں صرف ایک امرود باقی رہ گیا تھا اور وہ اس کو اٹھا کر صدا لگا رہا تھا’’لم یبقی الا الواحد ، لم یبقی الاالواحد‘‘ حضرت بسطامی نے نعرہ مارا اور بے ہوش ہو گئے ۔ حضرت فلاں نے ایک رنڈی کو تائب ہونے کی تلقین کی ، اس نے شعر پڑھا:

در کوئے نیک نامی مارا گزر ندادند

گر تو نمی پسندی تغییر کن قضا را

حضرت نے نعرہ مارا اور بے ہوش ہو گئے۔ پھر مولانا نے فرمایا ایک زمانہ تھا کہ مسلمان نعرہ مارتا تھا تو دشمن بے ہوش ہو جاتے تھے۔ پھر ایسا زمانہ آیا کہ مسلمان خود ہی نعرہ مارتا تھا اور خود ہی بے ہوش ہو جاتا تھا۔‘‘

تازہ ترین