• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا ایک ایسے لمحے سے گزری ہے جسے تاریخ شاید ایک ’’خاموش موڑ‘‘ کے طور پر یاد رکھے۔وہ لمحہ جب کرۂ ارض تیسری عالمی جنگ کے دہانے تک جا پہنچا تھا، مگر ایک دانشمندانہ سفارتی کوشش نے اسے آگ کے تنور میں تبدیل ہونے سے روک دیا۔ یہ کردار کسی بڑی عالمی طاقت نے نہیں بلکہ پاکستان نے ادا کیا۔آخری گھنٹوں میں پاکستان کی جانب سے سامنے آنیوالی غیر معمولی سفارتی کوشش نے نہ صرف ممکنہ جنگ کو مؤخر کیا بلکہ فریقین کو دو ہفتوں کی مہلت پر آمادہ کیا۔ یہ محض وقتی ریلیف نہیں بلکہ ایک مکمل ’’ڈی ایسکلیشن پیکیج‘‘ ہے جس میں جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کی بحالی جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ یہ وہی حکمتِ عملی ہے جو سرد جنگ کے دوران عالمی طاقتیں اپناتی رہی ہیںوقت حاصل کرو، درجہ حرارت کم کرو، اور مذاکرات کیلئے راستہ ہموار کرو۔اسلام آباد میں جاری مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نے محض ثالثی نہیں کی بلکہ ایک فعال، متحرک اور نتیجہ خیز کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی ممالک سمیت عالمی برادری بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہ رہی ہے۔ سفارتی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست ہے بلکہ ایک ایسا ملک ہے جو عالمی امن کے قیام میں عملی کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔اسی تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ واقعی ایک بہت بڑا اور تاریخی لمحہ ہوگا اگر شہباز شریف یا عاصم منیر کو اس بار نوبل امن انعام کیلئے نامزد کیا جائے۔ یہ نہ صرف پاکستان کیلئے بلکہ پوری دنیا میں امن کی کوششوں کے اعتراف کے طور پر ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ایک ایسا اعتراف جو پاکستان کے ابھرتے ہوئے مثبت عالمی کردار کی عکاسی کرے گا۔

اطلاعات کے مطابق اس سفارتی پیش رفت کے آخری مراحل میں امریکہ نے اسرائیل کو بھی اس ممکنہ صلح اور ڈی ایسکلیشن پلان سے آگاہ کیا، جسکے بعد کشیدگی میں کمی کی راہ مزید ہموار ہوئی۔ یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان کی کوششیں محض علاقائی نہیں رہیں بلکہ عالمی سطح پر اثرانداز ہوئیں۔ یورپی ممالک کی جانب سے پاکستان کی کھل کر تعریف اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دنیا اس کردار کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔یہ کردار ادا کرنا پاکستان کیلئے ہرگز آسان نہیں تھاایک طرف امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات، دوسری طرف ایران جیسا ہمسایہ ملک۔ ایسے میں کسی ایک فریق کا ساتھ دینا خود اپنے مفادات کے خلاف ہو سکتا تھا۔ پاکستان نے ایک تنی ہوئی رسی پر چلتے ہوئے توازن قائم رکھا اور تصادم کو روکنے کو ترجیح دی، جو اعلیٰ درجے کی سفارتی بصیرت کا مظہر ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس سفارتی کوشش کے پیچھے گہرے معاشی مفادات بھی کارفرما ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کا مطلب صرف ایک خطے کا بحران نہیں بلکہ عالمی معیشت کا ہل جانا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ، مہنگائی کا طوفان اور کمزور معیشتوں پر شدید دباؤیہ سب وہ عوامل ہیں جو اس جنگ کو ایک عالمی مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ اس کے اثرات اسلام آباد سے لے کر مشرقِ وسطیٰ، دہلی سے ٹوکیو اور یورپ سے امریکہ تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔اسی تناظر میں ایران کی پوزیشن بھی قابلِ غور ہے۔ حالیہ صورتحال میں ایران نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس کا دفاعی ڈھانچہ بدستور قائم ہے۔ اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام محفوظ ہے، افزودہ یورینیم اس کے کنٹرول میں ہے، اور اس کا سیاسی نظام اپنی جگہ برقرار ہے۔ ایران نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ آبنائے ہرمز جیسے حساس راستے پر اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بعض حلقے اسے ایران کی ایک تاریخی کامیابی قرار دے رہے ہیں جہاں دباؤ کے باوجود اس نے اپنی اسٹرٹیجک پوزیشن برقرار رکھی۔دنیا اس وقت تین ممکنہ راستوں پر کھڑی ہے: پہلا، سفارتی پیش رفت جہاں یہ دو ہفتوں کی مہلت مستقل امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔ دوسرا، محدود نوعیت کی جھڑپیں جو وقتی طور پر جاری رہیں مگر بڑے تصادم میں نہ بدلیں۔ اور تیسرا، سب سے خطرناک راستہ ایک ایسی ہمہ گیر جنگ جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔پاکستان نے اپنی کوششوں سے دنیا کو پہلے راستوں کی طرف دھکیلنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک عالمی ذمہ داری کی ادائیگی ہے۔ ایک ایسا لمحہ جہاں طاقت کے بجائے حکمت نے، اور تصادم کے بجائے تدبر نے فتح حاصل کی۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر معاشرے میں ایسے طبقات موجود ہوتے ہیں جو یا تو دشمنی میں انتہا پر چلے جاتے ہیں یا جذباتی وابستگی میں حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف وہ عناصر ہیں جو ایران کے مکمل خاتمے کی بات کرتے ہیں، اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اسے ایک جذباتی جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ دونوں رویے خطے کیلئے نقصان دہ ہیں۔ ریاستیں نعروں سے نہیں بلکہ حکمت، مفادات اور زمینی حقائق سے فیصلے کرتی ہیںاور پاکستان نے یہی ثابت کیا ہے۔

اگر یہ موقع ضائع ہو گیا تو اس کی قیمت صرف ایک ملک نہیں بلکہ پوری دنیا کو چکانی پڑئیگی۔ لیکن اگر یہی مہلت مستقل امن میں ڈھل گئی تو یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی کامیابیوں میں شمار ہوگی ایک ایسی کامیابی جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہے۔آج یہ کہنا بے جا نہیں کہ پاکستان نے دنیا کو ایک ممکنہ عالمی جنگ کے دہانے سے واپس کھینچنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ایران کو تباہی سے بچانے اور دنیا کو ایک نہ ختم ہونیوالی جنگ سے دور رکھنے میں پاکستان کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ پاکستان کی کامیابی دراصل امن کی کامیابی ہے۔پاکستان زندہ باد

تازہ ترین